جمعرات، 3 دسمبر، 2020

قسط ‏نمبر ‏۳: ‏نذرانہ ‏عقیدت

0 تبصرے
*پارٹ ۳
*خود کو سید کہنے سے منع کر دیا کرتے تھے ـ بابا بلھے شاہ کا کلام سنا دیتے "جیہڑا سانوں سید آکھے،  دوذخ ملے سزائیاں .. کہا کرتے کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں. اسی طرح اگر نسبی سید اپنے عمل سے ثابت نہ کردے وہ سید ہے تو فائدہ؟  اسطرح دوہرا نقصان ہوتا ہے. سورہ الاحزاب کی آیت تطہیر کا حوالہ دیتے کہتے 

* روح نہ مرد ہے نہ عورت ہے. روح خالق کا امر ہے. یہ اور بات اس نے قالب مختلف اختیار کرلیے ہیں. سب میں اس کی اک ہی روح ہے. وہ خود دوئی سے مبراء ہے ...یہ آگے کی بات تھی جسے میرا فہم سمجھ نہیں سکتا تھا ... 

* وہ مذہب،  ذات پات رنگ نسل کی تفریق سے آزاد ملا کرتے تھے بس. اس وجہ سے بہت سے لوگ ان سے متاثر ہوگئے اور اخلاق سے متاثر ہو کے اسلام قبول کرلیا ... یہ تھی وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت جس نے توہین رسالت کا مقابلہ کیا اور اک ہندو بضد ہوگیا اس نے مسلمان ہونا ہے ....

* تجسس،  کھوج بھی ودیعت کردہ ہوتی ہے اور کچھ کو روحانیت ودیعت کردہ ہوتی ہے. ایسے لوگ وہبی ہوتے ہیں. ان کو چاہیے کہ خود کو خدمت میں لگا کے اللہ کی دی ہوئی نعمت کا شکر ادا کریں ... 

* ذکر کے حوالے سے کہا کرتے جس کلمے کی دل میں صدا ابھرے وہ کیا کرو. اک ذکر زبان کا ہوتا ہے. اک ذکر جو دل سے کیا جاتا ہے. دل والا ذکر کیا کرو. کسی کو پتا کیوں چلے کہ ذکر کیا ہے ... دل والا ذکر شروع میں بڑا مشکل لگا کرتا ہے پھر پتا نہیں چلا ذکر خود دل سے ہونے لگا اور تسبیح تو ہاتھ سے چھوٹ گئی. .. بلکہ تسبیح اٹھانے سے بیزاری ہوگئی کہ یہ تو نری نمود و نمائش ہے 

*کسی کو درد میں مبتلا دیکھ کے تڑپ اٹھتے جیسے ان کو درد بعینہ ویسے ہی محسوس ہوا. ہر ممکن کوشش کیا کرتے کہ استطاعت کے مطابق دے دیں جو ہو سکے 

* کبھی ظاہر نہیں کیا انہوں نے کوئ عبادت کی ہے مگر جب بات ہوتی تو قران پاک سے چاروں آئمہ کے حوالے،  احادیث اور دیگر تمام حوالہ جات یاد ہوتے مگر بحث سے کترا جائے کرتے کہ دین میں بحث نہیں. دین تسلیم کا نام ہے.  جس نے دلیل نکالی اس نے شک کو راہ دی ... اس نے اپنا ایمان خراب کرلیا ... 

*قران پاک جواب دیتا ہے آپ سوال لیے پڑھا کرو آپ کو جواب ملا کریں گے کیونکہ یہ زندہ کلام ہے. جب مشکل آئے قران پاک کھول کے اللہ سے کا کلام پڑھو جواب ملے گا 

* سورہ الحشر کی آخری سات آیات اور آیت الکرسی ایسی حکمت بھری نشانیاں لیے ہوئے جس نے انہیں جان لیا اس کو اس کی بھی سمجھ آگئی اللہ نور السماوات والارض ...

 سورہ الحشر کی آخری سات سے محبت ہوگئی یوں لگتا ہے وہ آیات بھی مجھ سے محبت رکھتی ہیں 

* کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا. جب کوئ اختلاف ہو تو دوسرے کو جس حد تک ممکن کو Space دیں .... تاکہ آپ کا تعلق برقرار رہے ..

* یہ عامل حضرات جو بیٹھے ہیں پیسے لے کے فلاں کام کرادیں گے، محبوب سے ملوادیں گے یا کاروبار سیٹ کرادیں گے. یہ دراصل اللہ کے کام میں رکاوٹ ڈالے بیٹھے ہیں. جسے اللہ نے لکھا ہے وہ ہو کے رہنا ہے 

*بیٹیاں رحمت اور بیٹے نعمت. رحمت مراد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت . وہ شخص جس نے بیٹی پر شفقت والا ہاتھ رکھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہے.اس لیے بیٹیوں پر زیادہ شفقت فرماتے بہ نسبت بیٹوں کے 

*نماز قائم کرنا اور ہے نماز پڑھنا اور ہے. ویل المصلین. اللہ نے نمازیوں کی نماز منہ پر مار دینے کی بات کی ہے. قائم تو یوں بھی ہوجاتی ہے آپ نے رات کو نیت کی تہجد پڑھنی اورصبح آنکھ نہ کھلی مگر نماز قائم ہوگی. آپ نے رات کو نیت نہ کی تہجد کی مگر آنکھ کھل گئی اور نماز پڑھ لی ... نماز قائم نہ ہوئ.

گویا نیت سے نماز قائم ہوتی ہے 

ان کےمزاج میں مجذوبیت تھی اور وہ اس مجذوبیت میں ہوش قائم رکھتے تھے.  ان کی زندگی بہت سے مشاہدات کا مرقع تھی مگر مجھے کبھی نہ بتایا مگر قبل از وصال چند مشاہدات یا چند حقیقتیں بتائیں ..تب مجھے دکھ نے آ گھیرا کہ چھپایا بھی ایسا کہ خود سے چھپاتے سب سے چھپا ڈالا .. 

* کبھی انہوں نے ڈانٹا نہیں تھا ان کا نام تھا محبت " کوئ لاکھ ستائے جواب میں پیار .. پیار ...پیار .. اس انداز نے دل موہ لیا کہ اتنا اچھا انداز کہ کوئ خود چاہے اس کا براکردار بدل جائے کہ آئنہ اتنا.اچھا ہے

0 تبصرے: