نایاب بھائی معصوم اور مخلص لوگوں کی پہچان کیسے ہوتی ہے کہ آجکل تو کسی پر بھی اعتبار کا زمانہ نہیں اور زیادہ اللہ اللہ کرنے والے ہی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ آگے خود ہی سمجھ جائیں
اعتماد اور اعتبار بلا شبہ دھوکے کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے ۔
لیکن اس ڈر سے کہ دھوکہ ملے گا ۔ کسی پر اعتماد اور اعتبار نہ کرنا اپنی جگہ اک غلطی
اور اپنی ذات سے کسی دوسرے کو فائدہ پہنچنے سے روکنے کا سبب
پہچان کوئی بھی نہیں ہے ۔ سوا اس کے کہ جو سچا اور اللہ سے ڈرنے والا ہوگا ۔
وہ کبھی بھی اپنے ظاہری کردار اور شخصیت کو اپنی اس کیفیت کی نمائیش کے لیئے استعمال کرتا نہ دکھے گا ۔ جب ایسے انسان کے پاس تنہائی کی محفل نصیب ہو تو اس کا باطن کھلے گا کہ
اس کی حقیقت کیا ہے ۔؟
ایسے ہی تنہائی میں یہ حقیقت بھی کھل جاتی ہے کہ
" سانپ سانپ " کہتے ڈرانے والا خود کس قدر بڑا سانپ ہے ۔"
اعتماد و اعتبار کرنا اور کسی دوسرے کے ہم پر کیئے جانے والے اعتماد و اعتبار کو قائم رکھنا ۔
درحقیقت اس " جذبہ انس " کی بنیاد اور اہم ضرورت ہوتی ہے جو کہ انسانوں کے درمیان فلاح اور بھلائی کے کاموں کو وسعت دیتے انسانیت کو قائم کرتا ہے ۔
سوری بھائی مجھے ان کے بارے میں نہیں پتہ کہ کون شخصیت ہیں تاریخ میں
کہیں بنو امیہ یا بنو عباس کے دور میں تو نہیں تھے؟؟؟
حسین بن منصور حلاج کے بارے اتنا ہی لکھ دینا مناسب کہ
صوفیا میں یہ ہستی اور اس کے افکار بہت اہمیت رکھتے ہیں
یہ ہستی " حلول ووحدت الوجود والشہود " کے فلسفے کی بانی کہلائی جاتی ہے
اور اکثریت کے نزدیک متنازغہ ہستی ہے ۔
یہ اپنے " سچ " کے اعتراف میں بہت مشہور ہیں اور ان کا نام اکثر
کسی " سچ " بولنے والےپر بطور مثل چسپاں کر دیا جاتا ہے ۔
ان کے بارے اکثر اشعار " اقبال و فیض " نے کہے ہیں ۔
کبھی وقت ملا تو جو اکتساب میں نے کیا ہے ان کے قصے سے
وہ تحریر کر دوں گا ۔
آپ کے خیال میں انسانی فلاح کی ضمانت کس میں ہے ؟
انسانیت کا فروغ ۔ اخلاق کی تبلیغ ۔مذہبی آزادی
آپ جناب نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب فتح مکہ کے بعد مکے میں داخل ہوئے
تو سراپا عجز کی علامت بنے فرما رہے تھے کہ
جو شخص ابو سفیان کے گھرمیں داخل ہو جائے وہ امان میں ہے ،جو شخص مسجد الحرام میں پناہ لے لے وہ امان میں ہے ،جو شخص اپنے گھر کے اندررہے اور دروازہ بند کر لے وہ بھی امان میں ہے۔“
یہ نہیں فرمایا کہ آج ہلاکت ہے اس کے لیئے جو اسلام قبول نہ کرے اور یہ " فلاح انسانی " کے وہ مصدقہ اصول ہیں جن پر کاربند رہنے والے انسانیت کو عروج پہ پہنچا دیتے ہیں
اور یہ کس سے مخفی ہے کہ جب تک امت مسلمہ ان اصولوں پہ کاربند رہی اسلام عروج کی بلندی تک پہنچا اور جب امت مسلمہ نے ان اصولوں سے روگردانی شروع کی زوال دروازے تک آن پہنچا
خود نوشت: سید نایاب حسین نقوی










0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں