فرحت کیانی نے کہا ہے
ممتاز مفتی کی کتاب لبیک پڑھنے کا اتفاق ہوا؟ اگر ہاں تو آپ کا اس پر تبصرہ۔
کیا ہی زبردست مطالعہ و مشاہدہ ہے محترم جناب ممتاز مفتی صاحب کا
" لبیک " بلا شبہ اک استعارا ہے " انسان اور اس کے خالق اللہ " کے درمیان پیار و بے تکلفی کا ۔
میں اپنی ذاتی کیفیت بیان کروں تو جب بھی عمرہ کی سعادت حاصل ہوتی ہے تو
مدینہ منورہ پہنچتے ہی جسم و سوچ پر اک لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے ۔ جسم و جان کی سب طاقتیں
سوچ و فکر و وجدان پر پہرےداری پر صرف ہونے لگتی ہیں ۔ کہیں کوئی گستاخی نہ ہو جائے ۔ کہیں کوئی بے ادبی نہ ہو جائے ۔
اک غیر مرئی " جلال " اپنا اسیر کیئے رکھتا ہے ۔
مگر جب مکہ المکرمہ پہنچتا ہوں تو سوچ فکر و وجدان سب آزادی سے مصروف عمل رہتے ہیں ۔
ایسے ہی لگتا ہے جیسے کوئی بچہ ماں کی گود میں بے فکری سے کھیل رہا ہو
فرحت کیانی نے کہا ہے
اور ایک آخری سوال یہ جو اشفاق احمد، ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب کے 'بابے' ہیں۔
کیا واقعی ایسے بابے ہوتے ہیں؟ ان کو پہچانا کیسے جائے؟
کسی بھی " بابے کے لبادے " میں چھپے حقیقی بابے کی شناخت ہمارا وجدان و ضمیر با آسانی کر سکتا ہے ۔
اگر ہم ذرا غور کرتے ان کے قول و عمل کو پرکھ لیں ۔
اخلاق ۔ انسان دوستی ۔ اپنی ذات کی نفی ۔قربانی ۔ اختیار کے وقت عجز
یہ علامت ہیں کسی بھی اللہ کے سچے بندے کی ۔
آپ کے دستخط میں موجود شعر بھی اک علامت ہے ایسے لوگوں کی
کہ " وہ اپنے حصے کی شمع جلانے میں مصروف " رہتے ہیں ۔ بنا کسی دوسرے کی شمع پر زبان دراز کیئے ۔
فرحت کیانی نے کہا ہے
اتنی دشت نوردی کے بعد ابھی بھی کوئی چیز ہے جو آپ کی توجہ اپنی طرف کھینچتی ہے؟ جیسے تاریخی عمارتیں ، صحرا، سمندر وغیرہ
تاریخی عمارتیں مجھے مسحور کر دیتی ہیں ۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتا ہوں ۔
میری سوچ و وجدان جب اس عمارت کی تعمیر کی جانب رواں ہوتے ہیں تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ
یہاں اپنی زندگی بتانے والے میرے آس پاس ہیں اور مجھے اپنی کہانیاں سنا رہے ہیں ۔
صحرا ۔۔۔۔۔۔۔
چودھویں کی رات اور صحرا کی تنہائی
اس منظر اور کیفیت کو الفاظ میں بیان کیا ہی نہیں جا سکتا میری بہنا
سمندر ۔۔ جانے کیوں مجھے سمندر کبھی کشش نہیں کرتا ۔۔۔۔۔
فرحت کیانی نے کہا ہے
اب تک پاکستان میں کہاں کہاں اور پاکستان سے باہر کن ممالک میں جانا ہوا ہے
پاکستان میں 1990 تک رہا ہوں ۔
دولتالہ ۔ مری ۔ راولپنڈی ۔ لاہور ۔ ڈسکہ ان جگہوں پر بکھری ہوئی ہے داستان میری ۔
ان کے علاوہ " جئے شاہ نورانی " درگاہ سے لیکر " پیر بابا " درگاہ سوات تک
یعنی کراچی سے لیکر سوات تک شاید ہی کوئی درگاہ ایسی ہوگی جہاں میں نے کچھ راتیں نہ بتائی ہوں ۔
پاکستان میں آوارگی کی ملی سزا یہاں " سعودی عرب " میں مزدوری کرتے پوری کر رہا ہوں ۔










0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں