جمعرات، 3 دسمبر، 2020

قسط ‏نمبر ‏۲: ‏نذرانہ ‏عقیدت

0 تبصرے
پارٹ ۲
دل پر رقت لگانے والے فرشتے سے سوال و جواب کیا کرنا ـ فقط اتنا احساس ہوتا ہے "ماں " تو روپ ہوتی خدا کا مگر ہم جان نہیں سکتے  ـ وہ ہماری خوشیوں کے لیے وہ ممکن کوشش کرتی ہے ـ کسی سمے ہم اپنی خوشی سے انجان ہوتے ہیں ـ وہ ہمیں جھولی میں وہ خوشی ڈال دیتی ہے اور ہم اسکو نیاز مندی سے نہیں لیتے ـ خیر مرشد بھی اک ماں ہوتی ہے بلکہ بابا مرشد سے زیادہ مہربان ہوتا ہے ـ بابا تو وہ کرتا ہے جو اس کو لگتا مناسب ہے ـ جن کو کبھی بابا ملے وہ زیادہ نفع میں رہتے ہیں کیونکہ بابا روایتی پیر نہیں ہوتا ہے اس کے دل میں خدا کی یاد ذکر سے فکر (خدمت)  میں ڈھل جاتی ہے ـ مجھے جو استاد ملے وہ بابا تھے ایسے بابا جو بدھو بن کے دیالو بن جاتا ہے ـ جو دیتا ہے اسطرح ہے کہ جیسے وہ جو دے رہا ہے اسے معلوم نہیں وہ کیا دے رہا ـ جیسا بچہ اپنا پسندیدہ کھلونا اٹھا کے دے دیتا اپنے محبوب کو بالکل اسی طرح بابا بھی بچے کی طرح ایسے ایسے تحفے دیتا ہے اور انجان بچے کی طرح ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے کچھ دیا نہیں ـ مرشد تو پھر آگاہ کرتا ہے اس بے کچھ دیا ہے مگر بابا چھپا لیتا ہے اور ظاہر کرتا ہے اس بے کچھ نہیں دیا. بابا ملامتی ہوتا ہے   ـــ میرے بابا بھی ملامتی تھے ـ خود کو ایسے ظاہر کیا جیسے ان کے پاس کچھ نہیں اور دیا اسطرح جیسے سب کچھ ان کا دیا میرے پاس موجود تھا ـ اتنا بڑا ظرف کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟

مجھے جو جو نقصان دیتا تھا کھٹ سے بددعا نکل جاتی تھی اور آگ بجھا نہیں کرتی تھی ـ پھر بابا جی نے روح سے بد ددعا دینے کی عادت  نکالی ـ مجھے احساس نہیں ہوا کہ میں تو منتقم المزاج تھی کیسے میں اب جس سے دکھ بھی پہنچے تو یہ کہہ دیتی اللہ ان کو اچھا دے یا بھلا کرے ـ درحقیقت میں ایسا کر نہیں سکتی تھی ـ یہ ان کا وصف تھا مگر یہ بات زبانی کلامی ہوئ نہیں یہ تو منتقل ہوئ 

نیت کے بارے میں بہت بڑے بڑے ادراک ہوئے   احساسات منتقل ہوتے ـ نیت تو اک کیسٹ کی ریل کی جیسی ہے یا اک لمبا دھاگہ یا اک لمبا خط     پہلے خط نقطہ بنتا ہے پھر نقطہ جتنا بڑھتا اتنا خط حتی کہ وسعت لا متناہی ہو جاتی ـ بری نیت نقطے سے خط بنتی جاتی اور ہم نقطہ تو کوشش سے مٹا سکتے  اک لمبا خط جس کا سرا فاصلے پر ہو اور ہمارا ہاتھ اس تک نہ پہنچ سکے مٹانا مشکل   .. نیت کا اتنا بڑا کردار ان سے پتا چلا ـ پھر عجیب حادثہ ہوا ـ جب میں نے اپنی نیت بدلی تو کائنات بدل گئی ـ حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے. پھر احساس ہوا گمان کائنات بدل دیتا ہے ــــ لوگ آئنہ اور ہماری نیت ان کا رویہ ـــ   یہ احساس پیدا کرنا کہ ہم میں کمی ہے اور پیار اتنا دینا کہ جیسے ہم سے اچھا کوئ نہیں ـ یہ ماں کا کام ہوتا ہے ـــ میرے ساتھ یہ معاملہ اسطرح چلتا رہا اور مجھے علم نہ ہوا وہ تو احساس کا انتقال ان جانب سے تھا ــ اتنا چھپا کے کبھی کوئ دیتا ہے؟  

یقین کے حوالے سے کہتے تھے اگر آپ کو پتا بھی ہو کوئی جھوٹ بول رہا ہے آپ نے اس کی اس بات پر یقین کرنا ہے جو بظاہر اس نے کی ہے ـ یقین سب کچھ ہے ـ جب انسان کامل یقین کرتا ہے تو خدا خود بندے کو نواز دیتا ہے ـ کوئ چاہے پتھر کو خدا مان کے یقین کرے یا بن دیکھے اللہ کو ـ قدرت اس کو یقین پر نوازتی ہے ـ
* میں نے اپنی زندگی میں بیشمار انسان دیکھے ـ گالی کسی کا تکیہ کلام تو کوئی جذبات میں گالی دیا کرتا ہے ـ یہ پہلے شخص تھے جن کو میں نے گالی کا اک لفظ استعمال کرتے نہیں دیکھا. بار بار بھی سوچوں تو احساس ہوتا ہے وہ دعا دینے والے ـــ دعا دینے والے اگر گالی نکال دیں تو دعا کا اثر زائل ہوجاتا ہے 

* خدا سے راضی رہنے کا طریقہ بتایا ـ چشم تصور میں صاحب امر ہستیاں ایسی تھیں گویا ان کے پاس مشکل آسان ہوجاتی. خدا خود ان پر مشکل آسان کرتا اس لیے تکلیف کا احساس ان تک نہیں ہوتا. میں بہت شکوہ کرتی تھی اللہ سے ــــ یہی سکھایا کہ جب انسان اپنی تکلیف سے گزرتا ہے تو اسے دوسروں کا درد دکھائی دیتا ہے. نکلیں اپنے درد سے تاکہ دوسروں کا درد محسوس ہو سکے  ...وہ انسان ہی کیا جسے درد نہ ہو مگر انسان تو وہ ہے جو خود ترسی کے بجائے خدا ترس ہو .... وہ تو خدا ترس انسان تھے ــ

* اک بیمار انسان تو بیماری سوار کرکے بستر کا ہوجاتا مگر میں نے ایسا بیمار انسان پہلی دفعہ دیکھا جو عام صحت مند انسانوں کو مات دے ـ وہ محنت کرکے روزی کماتا رہے اور پردیس کاٹتا رہے اور اس کو نہ جسم کی درد ستائے،  وہ ہر دم خوش و خرم رہے جیسا کہ اس سے بڑا خوش انسان اس دنیا میں کوئی نہیں ہے ـ تکلیف میں انسان خوش رہ سکتا ہے ـ یہ میرے لیے حیرت کی بات ہے کہ کیسے اس پر سکون حاوی ہوتا ہے ـ جب وہ مقام لاتحزن لا خوف کے حال پر ہوتا ہے

0 تبصرے: