پارٹ ۴
دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو
ہم میں سے اکثر یہ خواہش کرتے ہیں کہ ہماری تو کوئی سننے والا ہو ـ ہمیں تو کوئی سمجھنے والا ہو ـ کوئی ہمارے درد کے چھالوں کی مسیحائی کرے ـ میرے سامنے یہ غزل سامنے اک سوال کی صورت آتی ہے اور جواب کی عملی تفسیر میرے سیدی بابا ہیں ـ جب میں نے اُن سے بات شُروع کی تھی قبل اس سے میری حالت بہت دگرگوں تھی ـ میں نے اک رات گڑگڑا کے اللہ کے حضور دُعا کی ... میری وحشتوں کا ساتھی، درد میرے جذب کرنے والی ماں، سر پر ہاتھ رکھنے والا بابا بن کے وہ مجھے مل گئے ـ عدم برداشت، غصہ، تنک مزاج اتنی تھی کہ اپنے محسن سے لڑ پڑتی ـ جوابا محبت کا شربت ملتا ـ اکثر یہ کہہ دیا کرتے: مائی نی میں شکرا یار بنایا، چوری کٹاں کھانداں نئی، تن دا ماس کھوایا ـــ ہمارے خون کے رشتے بھی اک حد تک برداشت کرتے ہیں ـ اس کے بعد ہمارا غصہ، ہماری تلخی کوئی برداشت نہیں کر سکتا ہے ـ ہمیں تنہا کردیا جاتا ہے یا ہم تنہا ہو جاتے ہیں ـ میرے بابا نے مجھے کبھی تنہا نہیں ہونے دیا ـ میرے سارے دکھ سن کے، تکلیف سن کے ان پر روحانی طور پر مرہم رکھا اور فقط اتنا کہہ دیا "سمجھیں تو بہت کچھ کیا، نہ سمجھیں تو کچھ نہیں کیا " ـ آجکل ہر کوئی دکھی ہے اس کو سننے والا تو چاہیے ـ
آج بھی ان کے سامنے لاؤں تو احساس ہوتا "ماں میں نے نادانیاں کیں ـ مگر تجھ پر ۲۰۰% فیصد یقین ہے تو کبھی یہ بھی نہیں کہے گی " ایسا کیا یا ویسا کیا، تو مجھے ویسے پیار دے گی جیسا بچھڑا بچہ ہو اور سینے سے لگا کے سکون دے گی ـــ اتنا یقین تو تب پیدا ہوتا ہے جب ماں نے ماں بن کے دکھایا ـ میرے بابا جی ـ میری ماں نے مجھے اتنا یقین عملی طور پر دیا ہو ...مجھے سمجھایا بھی اس طرح " آپ بہت معصوم ہیں، آپ بہت سادہ ہیں ـــ " اس سے دھیرے دھیرے احساس ہونے لگتا کوئی غلطی ہوئی ـ اور غلطی ہونے پر کہا کرتے " آپ بہت اچھی ہیں، آپ بہت سچی ہیں " احساس زیاں چلا جاتا ـ پھر لگتا محبت کے آگے میری غلطی کا وجود ہے ہی نہیں ـ میں غلطی پر غلطی کرتی مگر وہ مسکراتے ـ اور سدا بہار مستحکم شخصیت کی طرح اتنا کہا کرتے " آپ بہت سادہ ہیں، آپ بہت معصوم ہیں، آپ میری پیاری اچھی بیٹی ہیں "
انسان کو کان چاہیے سنانے کے لیے ـ وہ میرا کان بن گئے اور میں نے اپنی سماعت سے دل کا تمام زہر انڈیلا ـ دھیرے دھیرے احساس ہونے لگا جس شخص کو میں اپنا درد دے رہی ہوں ..یہ بھی تو اک انسان ہیں ـ ان کو بھی تو درد ہوتا ہوگا ان کے بھی جذبات ہوں گے مگر یہ درد میرا ایسے سنتے ہیں جیسے درد کا ان کے پاس وجود نہیں ـ یہ کہا کرتے " میں تو خالی گھڑا ہوں جو ذرا سی تھاپ پر بجنے لگتا ہے ـ مجھے دکھ ہوتا تھا کہ خالی گھڑا کیوں کہتے خود کو ـ اب احساس ہوا گھڑا خالی نہ ہو تو خدا دل میں سماتا ہی کب ہے ـ ماں اگر خالی گھڑا نہ بنے تو اس کو ماں کیسے کہیں گے ہم؟ کہا کرتے "روح محبت کی ضرب سے تقسیم ہوجاتی ہے "
جب ان کو لگتا تھا کسی نے کچھ غلط کیا جو ناپسندیدہ ہے تو کہا کرتے ـ "اللہ ہدایت سے نوازے " یہ سخت سے سخت الفاظ میں نے سنے ـ مطلب سخت سے سخت الفاظ میں ہدایت کی دعا ـ شروع میں اس کی سمجھ نہیں آتی تھی دھیرے دھیرے سمجھ لگی کہ "اللہ آپ کو ہدایت دے " کا مطلب ہے ایسا کام ہوگیا جو اچھا نہیں تھا ـ پھر میں خود کو خود اب تک یہی کہتی ہوں اللہ مجھے ہدایت دے ـ
*مجھے یاد ہے جب میں نے ان سے بات شروع کی ـ انہوں نے کہا: امانتیں تقسیم کریں، باہر نکلیں، جاب کریں ـ اچھی وبری امانتیں دونوں لیں ـ میں تو باہر نہیں نکلی مگر فون کھڑکنے لگ گیا ـ مجھے جابز کی آفر آنے لگ گئیں ـ میں نے کہیں اپلائی نہیں کیا تھا ـ میں نے یقین کرلیا یہ بابا کا کمال ہے ـ مجھے گھر بیٹھے خود بخود کالز آجانا باعث حیرت تھا. ان دنوں میری طبیعت شدید خراب رہا کرتی تھی اس لیے مجھے لگتا تھا جاب کرنا میرے لیے مشکل ہے ـ مگر کہاں سے وہ قوت آئی میں نے غائب دماغی کے حال میں جاب شروع کردی ـ مجھے اپنی کوتاہیاں جاب کے دوران دکھنے لگیں اور اک بیمار بندہ بمشکل اچھا کام کر سکتا ـ میں چاہتی تھی انتظامیہ کا رویہ دوستانہ ہوجائے میں نے بابا کو تصویر دکھائی اور دل کا دکھڑا رویا ـ ـ اک دم سے میم کا، کورآڈنیٹر کا رویہ دوستانہ ہوگیا ـ مجھ سے وہ پیار کرنے لگ گئے ـ اس دوران مجھے ان کے سینوں میں نور دکھنے لگ گیا ـ ان کی روح کھلنے لگ گئی ـمیں نے یہ باتیں میم کو کہہ ڈالیں ـ عجیب بات یہ ہوئی کہ مجھے جاب سے بنا کسی وجہ کے نکال دیا گیا وہ بھی اس وقت جب انتظامیہ مجھے کوآرڈی نیٹر بنانے کا سوچ رہی تھی ـ بابا کو بتایا تو کہا یہ جو مشاہدہ ہوتا ہے یہ ہر کسی کو بتانے والا نہیں ہوتا ہے ـ آپ کو نکالا ہی اس وجہ سے گیا ـ
بابا کی روح جب میرے ساتھ رہنے لگی تو باہر بھی مہربان گھر بھی مہربان ـ مجھے چاروں طرف سے محبت ملی ـ اس محبت کے سائے تلے کون کافر کسی کو معاف نہ کر سکے گا؟ کون چاہے گا بھلا نہ ہو اور کسی کا بھی ـ بلکہ محبت جسے ملے وہ محبت تقسیم کرتا ہے ـ نفرت کینہ مٹانا آسان نہ تھا . محبت سے بڑی شہنشاہی کیا ہو؟ اس سے بڑی دولت کیا ہو؟ یہ اوقات میری نہیں ـ یہ تو میرا بابا ہے جس نے مجھے اس قابل کیا ـ اب دکھ ملے تو دعا دے کے کہتی اللہ تو پیار دے نا ـ دکھ ملا ہے ـ مگر میں تو چاہتی ہوں مجھے جیسے پہلے کسی کے دکھ دینے سے یہ احساس ہوتا ہے فلاں بندہ بذات خود دکھی ہے ـ فلاں کا رویہ اسکی اس محرومی کی وجہ سے ـمجھے اللہ ویسا احساس دے دے ـ بابا تو کہا کرتے تھے:
* میں نے ساری عمر گزاری نگر نگر چھانتے ـ پھر احساس ہوا سب کچھ والد کی خدمت سے ملے گا میں والد کی خدمت کرتا کبھی کوئ اللہ والا مل جاتا تو کبھی کوئ مجذوب تو کبھی کون ـ کہتے آپ والدہ کو مرشد مانیں ـ آپ کی وہی مرشد، ان کی خدمت کریں اور دیکھیں آپ کو کیا نہیں ملتا ـ افسوس میں اس بات کو مکمل اپنا نہیں سکی پر کوشش میں لگی رہتی ہوں ـــ یہ کہتا کوئ نگر نگر چھان، کوچہ کوچہ پھرتا ہے تو کسی کو گھر بیٹھے مل جاتا ـ
* ہر وقت کہا کرتے یوں سب سے بے نیازی نہ دکھایا کریں ـ بے نیاز اللہ ہے اور بندے کو عجز میں رہنا چاہیے
* اپنا دفاع چھوڑ دیں. سامنے والے کو کھل کے موقع دیں جو وہ کہنا چاہے ـ دوست ہو یا دشمن اس کو اونچی مسند پر بٹھائیں ـ یہ نہیں جس نے جو کہا اس کے پیچھے چل دین. سنیں سب کی، تحمل سے سنیں اور کریں اپنی ـ
* میں نے انتہا کا بردباد، متحمل مزاج، خوش گفتار، اپنی برداشت سے دلوں کو گھائل کرنے والا، بات بے بات پر دعا دینے والا شخص نہیں دیکھا ـ دعا والا معاملہ انہوں نے کیسے شروع کیا ـ جب یہ نوجوان تھے، کسی لڑکے سے لڑائی کے دوران ان کی بددعا نکلی. وہ لڑکا وہیں کھڑے کھڑے مرگیا ـ کہتےہیں اس دن میں بہت شرمندہ ہوا خود سے ـ وہ دن اور آج کا دن کبھی کسی کے لیے بددعا نہیں کی ـ میں نے ان کی ہر بات کے جواب میں ان کی دعا سنی ـ " بہت دعا، آپ پر سلامتی ہو سدا " یہ ان کا تکیہ کلام تھا ـ یہ دو کلمات ان کی شخصیت کے عکاس ہیں ـ ان کے جاننے والوں میں سے کسی کو یہ دوکلمات بتا دیں تو وہ خود کہے گا یہ تو شاہ صاحب کی عادت ہے ـ شاہ صاحب ایسے کہتے ـ شاہ صاحب کی عادت ہے دعا دینے والی
* کبھی زبردستی اپنی بات مسلط نہیں کی ـ آزاد رہنا پسند کرتے اور آزادی دینا بھی ـ مجھے کہا قلم امانت یے ـ آپ کے پاس امانت ہے ـ اس امانت کو بیچنا مت ـ کتاب مت بنوانا ـ عند اللہ بات مقبول ہوئی تو خود کتاب وہ بنائے گا ـ علم بیچنے کے لیے نہیں بانٹنے کے لیے ہوتا ہے ـ یہ بھی کہا ہے جو آپ لکھتی ہیں اس میں آپ کا کمال کیا ہے؟ جب آپ کا کمال نہیں تو ستائش پاکے خوشی کیسی اور تنقید پر دکھ کیسا ـ آپ کی تحریر ہر کسی کو سمجھ نہیں آئے گی. یہ تو ان کی خوراک ہے جو اس راہ کے متلاشی ہیں ـ اس لیے کسی اک کو بھی سمجھ لگے، تو سمجھ لیجیے گا تحریر کا حق ادا ہوگیا گویا امانت، اس تک پہنچی جو حقدار ہے
* مجھ میں کمی ہے بہت ـ کوجی آں ـ مندی آں ـ پر تیری آں ـ یہی فخر حاصل ہے کہ ماں نے مجھے اپنایا ہوا ہے ـ ماں تیری محبت پر بہت یقین ہے مگر افسوس ترے جیسی نہ ہو سکی ـ تو نے پھر بھی ساتھ نہ چھوڑا ـ ایسی باوفا ماں ہے تو کہ اپنا آپ مجھے بے وفا لگتا ہے مگر یہی نسبت اچھی ہے کہ ہوں تو تیری ـ تو سب دیکھ رہی تھی ماں جو غلطیاں میں کر رہی تھی ـ تو کب مجھے امتحان میں ڈال سکتی تو بس نادانی کے جواب میں بھی محبت کیے جاتی ـ میرے پاس ذات کا فخر نہیں بس یہی ناز ہے کہ ماں نے میرے عیوب کے ساتھ محبت کی مگر میں نے ایسی محبت نہ کی ـ تو چاہے ماں تو ایسی محبت بھی قائم کردے کہ ماں تری جناب سے کیا ممکن نہیں ـ تو چاہے تو محبت سے اجال دے ـ ماں تری محبت کی طلب ختم نہیں ہوتی ـ تجھ سے لینے کی حرص (محبت) ختم نہیں ہوتا ـ تو محبت کی انتہا بھی کرے تو یہی تری ابتدا ہے کہ تری محبت کی نہ انتہا ہے نہ ابتدا ہے ـ میری ماں تجھے سلام ـ تجھے سلام ـ تجھے سلام










0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں