اتوار، 18 اکتوبر، 2020

مکالمہ ‏--- ‏حصہ ‏نمبر ‏۱

0 تبصرے
 نور:  اس  مکالمے کو شُروع کرنے کا مقصد روحانی سفر پر گفتگو ہے اور اس بارے میں محترم سید نایاب حُسین صاحب کیا تحریر  فرماتے ہیں اس سے روشنی پانا.ہے ...

سید نایاب حسین:  میں تو خود روشنی کی تلاش میں تمام عمر سفر میں رہا، اب بھی اس کی تَلاش میں ہوں!  کہاں میں اور کہاں میرا علم. جسے خود نور کی جستجو ہو، اس کے لفظ کیا روشنی دیں گے ـ بلاشک، اللہ نور السماوات والارض ... اس کائنات میں دینے والی ذات ایک ہی ہے جو بانٹ رہی ہے، دے رہی ہے ذات اقدس محمد محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو. وہی ذات بانٹ رہی ہے رحمت!  وما ارسلنک الا رحمت للعالمین. ویسے کیا عجب کھیل ہے زندگی .. موج ہے دریا میں، بیرونِ دریا کچھ نَہیں .. کس کے جلوے میں کی تلاش میں ہیں؟ ظاہر میں ملتا ہے اسکا جلوہ، وہ خود کہاں ہے؟ 

نور:  آپ کے علم کی روشنی تو پھیلی ہوئی ہے ... تلاش ہم جیسے خام کو ہوتی ہے کامل ہونے کی ... آپ کی بات سے اتفاق ہے کہ سارا سفر باطنی ہوتا ہے ... جلوہ ظاہر میں ہو تو نہیں پاتا مگر باطن کی آنکھ تو دیکھ سکتی ہے نا؟ خدا کا جلوہ کیسے ممکن ہے؟  کیا کرنا چاہیےاللہ کے اس پھیلاؤ ....اللہ نور  السماوت پر کچھ روشنی ڈالیے تاکہ کچھ ہمیں علم مل سکے ـ نور کی حقیقت کیا ہے؟  کیا عرش پر ممکن ہے جانا؟اپنے علم سے فیض یاب کیجیے تاکہ جواب سے دل کو تشفی ہو

سید نایاب حسین:   میں اک کمزور و عاجز بندہ ہوں، جسکا علم ابھی خام ہے.انسان بننے کا سفر جاری ہےـ وہ سچا سمیع العلیم ہے،  سب علوم اس کی جانب سے ہیں ـ اولادِ آدم و حوا نے جب حرفوں کی بنت سے لفظ جوڑ اپنی سوچ کو بیان کرنے کا ہنر سیکھ لیا، تو عجب اک حقیقت سامنے آئی وہ جو ذرا سا بھی عقل رکھتا ہے اس کے پاس اک ہی سوال تھا ــ 

میں کون ہوں؟
میری حقیقت کیا ہے؟ 
یہ میں جو خود میں اک جہاں لیے پھرتا ہوں .. اسکی حقیقت کیا ہے؟
اسکی منزل کیا ہے؟
اس حقیقت کی کھوج ہی روشنی کے سفر کی بنیاد ہے 
کچھ نے کہا:  زندگی اور کچھ بھی نہیں فقط کچھ عناصر میں ظہور ترتیب ـ 
کچھ نے پایا کہ دانا خاک میں مل کے گل و گلزار ہوتا ہے 
مادہ فنا ہوتا جاتا ہے اور روح تقسیم ہوتی جاتی ہے ـ مادیت و روحانیت کے درمیان ربط تلاش کرنا ہی روحانی سفر ہےـ وہ جس کا جلوہ ہر سمت ہے،  وہ خود کہاں ہے؟ اب اس بارے گفتگو کے دو دائرے ہیں:  ایک بحثیت مسلمان،  ایک بحثیت انسان!  یہاں اک سوال سامنے آتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں یا انسان؟ 

0 تبصرے: