جمعرات، 29 اکتوبر، 2020

انٹرویو ود نایاب حسین سید --- حصہ 8

0 تبصرے


انٹرویو ود نایاب حسین سید --- حصہ 8

 نور سعدیہ شیخ نے کہا: 



وہ عشق جو مجھ سے روٹھ گیا ۔ لڑکپن کا جوش میں اپنی آوارگی میں مست دو چار ڈھکوسلے سیکھ اپنی ہی فضاؤں میں اڑ رہا تھا ۔
صنف نازک کی کشش سے کیوں کر بچ پاتا ۔ سو اک ہستی پھول کی صورت میرے بھی دل میں کھل گئی ۔ بس دل میں ٹھان لیا کہ اس سے ہی شادی کرنا ہے ۔ میرے اپنے ہی خاندان میں تھی اور میری آوارگی کے چرچےبھی میرے خاندان کے سب افراد تک پہنچ چکے تھے ۔میں اپنی ہی محبت میں محو تھا یہ جانے بنا کہ جس سے محبت کرتا ہوں وہ تو میری آوارگی کے باعث مجھے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی ہے ۔ 15 سال کی عمر سے شروع یہ محبت 32 سال کی عمر میں شادی کی منزل پر پہنچی ۔ شادی کے لیے اپنے خاندان والوں کی ناک میں دم کیئے رکھا ۔ اپنے سیکھے ہر عمل کو کام میں لایا آخر اک دن میری محبت میرے گھر آن پہنچی ۔۔ اور سب خوابوں کے تاج محل ٹوٹ کر کچھ یوں مجھ پر برسے کہ بیان کی تاب ہی نہیں ۔
میں جو کہ خود کو تیس مار خان سمجھ کسی کو دیکھتا بھی نہ تھا اپنی ہی نگاہ میں گر گیا ۔ میرے سب ارادے راکھ ہو گئے ۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے اللہ سوہنے کی ذات پاک نے اس آگہی سے نوازا کہ میں اپنی طاقت کوشش سے جسم تو پا سکتا ہوں مگر روح نہیں ۔ اور روح کا پیار نہ ملے تو زندگی عذاب ہے ۔ دنیا سے اپنی آوارگی سے دل اچاٹ ہو گیا ۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ نشے کی دنیا میں سرتاپا غرق کر لیا خود کو ۔۔۔۔ اللہ سوہنے نے کرم فرمایا ۔ بڑا بھائی مجھے سعودیہ لے آیا ۔ یہاں کچھ دن نشے سے دور رہنے پر اپنی گزری زندگی بارے سوچا ۔ کیسے کیسے بزرگ ملے کیسا کیسا سبق دیا انہوں نے مجھے مگر میں سمجھ نہ پایا ۔ کیسے کیسے جھوٹے سچے عملیات کر کر دنیا کو دھوکہ دیتے جھوٹی عزت پاتا رہا ۔ خود سے نفرت ہی محسوس ہوئی ۔ اپنی خود ساختہ محبت پر شرم آئی کیسے میں نے اک معصوم کو زبردستی اپنی شریک حیات بنا کیسا اس پہ ظلم کر دیا ۔ زندگی کے اس موڑ پر اس سبق کو پا کر میں بدل گیا ۔ خود سے عہد کر لیا اب جو رب چاہے اسی پر صابر و شاکر ۔۔۔۔ نہ نشہ نہ کوئی عملیات نہ ملنگی کا ڈھکوسلہ نہ درویشی کا نقاب ۔۔۔۔۔۔۔ سیدھے سبھاؤ زندگی گزارنی ہے ۔ دو سال سعودیہ گزار واپس پاکستان گیا ۔ اسے دو چار بار مل کر منت و سماجت کر کے پوچھا اگر میری نادانیوں کو معاف کر دے تو اس کا احسان مند رہتے سیدھی سادھی زندگی بسر کروں گا ۔ مگر اس نے جو پہلے دن کہا تھا وہ اپنی اسی بات پر قائم رہی سو اسے اس کی مرضی سے آزاد کر واپس سعودیہ آ گیا ۔ میرے لیئے یہی میری ناکام محبت کا سب سے بڑا سبق ہے ۔ آج 24 سال بعد بھی میں اس سبق سے ملے نتیجے پر چل رہا ہوں ۔
پاکستان جاتا ہوں دنیا میرے پیچھے آتی ہے اور میں وہی چار کلمے تھما انہیں اللہ کی حکمت پر یقین کا سبق پڑھا دیتا ہوں۔ نجانے اللہ سوہنے کو میراکونسا عمل پسند آیا کہ اس نے مجھے ایسی شریک حیات سے نواز دیا جو مجھ سے بڑھ کر اس کی حکمت پر راضی رہتی ہے ۔ اور میرے سیاہ ماضی کے بارے سب جانتے بوجھتے بنا کوئی شکوہ شکایت کیئے میری زندگی کو بلاشک جنت بنائے رکھتی ہے ۔
کوئی اک شاعر تو نہیں ۔ سب شعراء کی وہ شاعری پسند ہے جس میں حسن جاناں کی تعریف ہو ۔ پیار کا پیغام ہو۔ محبت کی کسک ہو ۔ اور عشق کا سوز ہو ۔ مجھے شاعری یاد نہیں ہوتی ۔ بس کچھ ایسے شعر ہوتے جو براہ راست دل پر ضرب لگا حافظے میں محفوظ ہوجاتے ہیں ۔ اور دوران گفتگو میرے کام آ جاتے ہیں ۔
شاعری سچ بولتی ہے بھید دلوں کے کھولتی ہے ۔
میری معصوم بٹیا خود کو بہت شاطر سمجھتا رہا ہوں ۔ بس اسی شاطری کو کام میں لایا نہ کبھی اپنے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھا نہ کبھی اپنے پیاروں کے ہاتھ پر دھیان دیا ۔ جب بھی کسی نے ہاتھ آگے کیا اس کو مستقبل بارے دو چار خوشی کی خبر دے ٹال دیا ۔ اور اب تو کوئی میرا پیارا مجھے اپنا ہاتھ دکھانے کی خواہش کرے تو میں اس کا ہاتھ پکڑ آنکھ بند کر سبحانک لا علمنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا ورد کرتا ہوں اور جو سوچ آتی ہے اسے لفظوں میں بدل اسے بتا دیتا ہوں ۔ یہ آگہی تو گویا گھٹی میں پڑی ہے کہ غصہ کرتے چڑچڑا ہوتے کچھ فائدہ نہیں ہوتا ۔ انسان جتنا غصہ کرے گا اتنا چڑچڑا ہوگا ۔ اور اک تنگ دائرے میں قید میں جائے جہاں صرف اپنے ہی بال کھینچنے کی سہولت ہو گی ۔۔ یقین کریں یہ سب بالیقین درود شریف کے بابرکت ذکر کے سبب سے ہے ۔ یہ آپ ہی نہیں سب کہتے ہیں کہ مجھے غصہ نہیں آتا ۔ اک راز کی بات جب میں اپنے پیاروں سے بات کرتا ہوں تو میری آواز بلند اور لہجہ ایسا ہوتا ہے جیسے میں لیکچر دے رہا ہوں ۔
بلا تفریق جنس کچھ ایسے رکن مجھے اردو محفل پر ملے ہیں جنہیں میں اللہ کے دوستوں کی صف میں رکھتا ہوں ۔
اس میں بھی کوئی جھوٹ نہیں کہ محفل اردو پر ہر وہ رکن میرا پسندیدہ ہے جس کے تحریر کردہ لفظوں سے انسان دوستی کی خوشبو بکھرتی ہے ۔
خود سے شرم تو بہت آتی ہے اپنی ہی آنکھوں میں نہیں دیکھ پاتا ۔
میں گلیاں دا کوڑا محل چڑھایا سائیاں
نہ کوئی خوبی نہ کوئی خامی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس چرب زبانی
جے دیکھاں اپنے عملاں ولے تے کج نئیں میرے پلے
ایسی ہی صدائیں سنتا ہوں اور اپنے لیئے ہدایت کی دعا کرتا ہوں ۔
اللہ سوہنا ہم سب پر مہربان رہتے ہمیں اپنے کرم سے نوازے آمین
بہت دعائیں
میری محترم بٹیا ہم سب ہی حقیقت پر مبنی وہ سب داستانیں اپنے ساتھ اٹھائے پھر رہے ہیں ۔ زندگی نے جن حقیقتوں کو ہم پر کھولا ہے ۔ ہم سب اپنی زندگی کو لکھیں تو اسے پڑھ کر کوئی دلچسپ افسانہ کہے گا کوئی مزےدار کہانی کوئی مسحورکن داستان ۔ یہ جو نطق کی نعمت ہے نا یہ ہے ہی اپنی کہانی کہنے کے لیئے ۔ خود پر بیتی حقیقت سنانے کے لیئے ۔ بلا شک زندگی نام ہے کسی نہ کسی کہانی کے کردار بنے رہنے کا ۔ زندگی جو خوشی بھی دیتی ہے دکھ بھی ۔
سیاحت کم آوارگی زیادہ کی ہے میں نے ۔ اور کیا سناؤں جو کچھ بیتا مجھ پر ۔۔۔۔۔۔۔
اے ہنجو اسی آپ خریدے ۔۔۔۔
” بولو بولو بولو جئے شاہ”
” جبل میں شاہ”
” نورانی نور ہے ہر بلا دور ہے”
بلوچستان کے ضلع خضدار میں پہاڑیوں سے گھرا اک پانچ سو سالہ مزار ہے ۔ جہاں ہو وقت یہی صدائیں گونجتی ہیں ۔ یہ مزار حضرت بلاول شاہ نورانی کا ہے ۔ جو مجذوب و مست ہوتے ہوئے بھی اللہ کے ولی کہلائے ۔ اک زمانہ ان کا عقیدت مند ہے ۔ بہت سی کہاوتیں بھی منسوب ہیں ان کی ہستی سے ۔ وقت کا عجب کھیل کہ وہ جو اپنے وقت میں اللہ کے ولی کہلائے ۔ دور دور سے جن کے پاس آکر ان کی تعلیمات پر عمل کرتے دکھی انسانیت سکون پاتی رہی ۔ ۔ ان کے بعد آنے والوں نے اس سکون کو نشے سے منسلک کر دیا ۔ شیر کا کیا شکار اکثر گیڈروں کی ملکیت بن جاتا ہے ۔ چرس گانجا اور بھنگ سچ یہی ہے کہ انسان سکون کے لئے استعمال کرتا ہے لیکن بد قسمتی سے اس کا رہا سہا سکون بھی غارت ہو جاتا ہے۔
میں جب اس مزار پر گیا دو ہی سبب ہوتے تھے ۔ اک تو نشہ اور منشیات فروشوں سے تعلقات ۔۔۔ اور دوسرے فجر سے کچھ پہلے کچھ مخصوص ذکر کرتے صاحب مزار سے فیض پانے کی کوشش کرنا ۔ اب نشہ میری پہلی ترجیع ہوتی تھی ۔ سو فیض کہاں سے ملتا ؟
اک بات ضرور ہے اس مزار پر بیٹھے اک سوچ بار بار ذہن میں آتی تھی ۔ کہ اگر انسان پیغمبروں کی بتائی راہ پر اوکھے سوکھے چلتا رہے تو منزل پر پہنچ سکون ملتا ہے ۔ اگر شیطان کی سجھائی راہ چلے تو منزل پر پہنچ بے سکونی ہی ملتی ہے ۔ یہ اک مجذوب ہستی اپنے جنوں میں مجنون ہوتے بھی آخر کیسے اتنی عقیدت کا مرکز بنی ۔ ؟
میرے ذاتی احساس سے صاحب مزار واقعی اک انسان دوست سچے انسان تھے۔
گلاب کہاں کھلنا ہے کس موسم میں کھلنا ہے ۔ کیسا ماحول درکار ہے اسے ۔ اس کی خوشبو نے کس کس کی روح کو مہکانا ہے۔ کس کی قبر کو اس سے سجانا ہے ۔ یہ سب صرف رب سچا ہی جانے ۔ گلاب گلاب ہوتا اپنی خوشبو فضاؤں میں بکھیر فنا کی راہ لیتا ہے ۔ باقی رہ جاتی ہے خوشبو ۔ سو اس مزار پر بھی مہکتی ہے انسان دوستی کی خوشبو ۔
۔ لاہوت و لامکاں کے مقام پر رات جب پہاڑوں پر پھیل جاتی ہے تویہاں جن اور انسان دونوں ہی وہم و گمان کے اندھیروں میں بھٹکتے ہیں ۔کہنے والے کہتے ہیں کہ انسان اُور جنات سبھی کو اک ہی خالق نے بنایا ہے۔ جیسے انسان اللہ تعالی کی مخلوق ہیں ویسے ہی جِنات بھی تُو اُسی پروردیگار کے بنائے ہُوئے ہیں۔ اِن دونوں کے درمیاں دُوری کی خلیج نے اِن دونوں کو ایک دوسرے سے خُوفزدہ کردیا ہے۔ انسان جنات سے ڈرتے ہیں۔ اُور جنات انسانوں سے عاجِز رِہتے ہیں۔
کوشش کی کہ کچھ جنات سے گفتگو کا شرف حاصل ہو مگر نہ تھی ہماری قسمت ۔۔ کہ ہم تو مست تھے ۔۔۔۔۔۔۔ پیو چرساں بھنگاں تے سووو باگی ۔ پچھلے جیون اپنے بھاگی ۔۔۔ ہم ایسے خود غرضوں کو کون گھاس ڈالتا بھلا ۔۔۔۔؟
محترم پیر بابا " سید علی ترمذی جن کا مزار بونیر ضلع سوات میں ہے ۔ آپ اک عالم با عمل ہستی گزرے ہیں ۔ آپ کے مزار پر حاضری دو اک عجب سکون ملتا ہے ۔ یہاں بھی نشے کی دنیا ہے مگر زیادہ آزادی سے نہیں ۔ آپ کی صدا بہت مشہور ہے کہ
”میرے دوست اور مرید وہ ہیں جو مجھ سے روحانی فائدہ حاصل کرتے اور میرے احوال پر نظر رکھتے ہیں“۔
یہ میرا اپنا یقین ہے کہ میں نے ان دونوں مزاروں پر ہی نہیں بلکہ جس بھی مزار پر حاضری ۔ وہاں کے صاحب مزار نے مجھے اپنی کہانی خود ہی سنائی ۔ اب میں کیسے کسی اور کو سناؤں جب کہ یہ صرف میری سوچ و وجدان کے درمیان کی بات ہے ۔ اک بات جس پر پوری شدت سے یقین ہے کہ " جنہاں کیتیاں نیک کمائیاں دیوے اونہاں دے سدا ای بلدے "
میں ابھی اس سوچ میں تھا کہ
اگر مجھے یہ شرف حاصل ہوتا کہ میں جناب شمس تبریزی کی محفل پاتا تو کیا خواہش کرتا ۔ ہزار سوچنے پر بھی جب کوئی خواہش یاد نہ آئی ۔
تواسی سوچ میں مصروف اچانک ہی جیسے کچھ لفظ مجھ پر اترنے لگے ۔ صدا دینے لگے ۔۔
""جو علم تجھے تجھ سے نا لے لے اس علم سے جہل بہتر ہے ""


سچ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ سوہنا مجھے سدا ہی اپنی توفیق سے نوازے ۔آمین
اپنے علامہ اقبال صاحب فرما گئے اور کیا ہی خوب سچ کہہ گئے ۔۔
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی نا خوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہ نہ سکا قندد
بس جب سے یہ شعر سنا ہے اب پروا نہیں ہوتی کہ میرا سچ میری راہ کو کتنا مشکل کرے گا ۔۔۔
اب تو بس یہی خواہش ہے کہ زندگی کی رات اپنے ملک میں گزارنے کو ملے ۔ سیر سے دل بھر چکا اب ۔
محترم نور سعدیہ بٹیا آپ کا اور سب پڑھنے والوں کا دلی دعاؤں بھرا شکریہ ۔
بہت دعائیں



0 تبصرے: