انٹرویو ود نایاب حسین سید --- حصہ 8
نور سعدیہ شیخ نے کہا: ↑
صنف نازک کی کشش سے کیوں کر بچ پاتا ۔ سو اک ہستی پھول کی صورت میرے بھی دل میں کھل گئی ۔ بس دل میں ٹھان لیا کہ اس سے ہی شادی کرنا ہے ۔ میرے اپنے ہی خاندان میں تھی اور میری آوارگی کے چرچےبھی میرے خاندان کے سب افراد تک پہنچ چکے تھے ۔میں اپنی ہی محبت میں محو تھا یہ جانے بنا کہ جس سے محبت کرتا ہوں وہ تو میری آوارگی کے باعث مجھے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی ہے ۔ 15 سال کی عمر سے شروع یہ محبت 32 سال کی عمر میں شادی کی منزل پر پہنچی ۔ شادی کے لیے اپنے خاندان والوں کی ناک میں دم کیئے رکھا ۔ اپنے سیکھے ہر عمل کو کام میں لایا آخر اک دن میری محبت میرے گھر آن پہنچی ۔۔ اور سب خوابوں کے تاج محل ٹوٹ کر کچھ یوں مجھ پر برسے کہ بیان کی تاب ہی نہیں ۔
میں جو کہ خود کو تیس مار خان سمجھ کسی کو دیکھتا بھی نہ تھا اپنی ہی نگاہ میں گر گیا ۔ میرے سب ارادے راکھ ہو گئے ۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے اللہ سوہنے کی ذات پاک نے اس آگہی سے نوازا کہ میں اپنی طاقت کوشش سے جسم تو پا سکتا ہوں مگر روح نہیں ۔ اور روح کا پیار نہ ملے تو زندگی عذاب ہے ۔ دنیا سے اپنی آوارگی سے دل اچاٹ ہو گیا ۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ نشے کی دنیا میں سرتاپا غرق کر لیا خود کو ۔۔۔۔ اللہ سوہنے نے کرم فرمایا ۔ بڑا بھائی مجھے سعودیہ لے آیا ۔ یہاں کچھ دن نشے سے دور رہنے پر اپنی گزری زندگی بارے سوچا ۔ کیسے کیسے بزرگ ملے کیسا کیسا سبق دیا انہوں نے مجھے مگر میں سمجھ نہ پایا ۔ کیسے کیسے جھوٹے سچے عملیات کر کر دنیا کو دھوکہ دیتے جھوٹی عزت پاتا رہا ۔ خود سے نفرت ہی محسوس ہوئی ۔ اپنی خود ساختہ محبت پر شرم آئی کیسے میں نے اک معصوم کو زبردستی اپنی شریک حیات بنا کیسا اس پہ ظلم کر دیا ۔ زندگی کے اس موڑ پر اس سبق کو پا کر میں بدل گیا ۔ خود سے عہد کر لیا اب جو رب چاہے اسی پر صابر و شاکر ۔۔۔۔ نہ نشہ نہ کوئی عملیات نہ ملنگی کا ڈھکوسلہ نہ درویشی کا نقاب ۔۔۔۔۔۔۔ سیدھے سبھاؤ زندگی گزارنی ہے ۔ دو سال سعودیہ گزار واپس پاکستان گیا ۔ اسے دو چار بار مل کر منت و سماجت کر کے پوچھا اگر میری نادانیوں کو معاف کر دے تو اس کا احسان مند رہتے سیدھی سادھی زندگی بسر کروں گا ۔ مگر اس نے جو پہلے دن کہا تھا وہ اپنی اسی بات پر قائم رہی سو اسے اس کی مرضی سے آزاد کر واپس سعودیہ آ گیا ۔ میرے لیئے یہی میری ناکام محبت کا سب سے بڑا سبق ہے ۔ آج 24 سال بعد بھی میں اس سبق سے ملے نتیجے پر چل رہا ہوں ۔
پاکستان جاتا ہوں دنیا میرے پیچھے آتی ہے اور میں وہی چار کلمے تھما انہیں اللہ کی حکمت پر یقین کا سبق پڑھا دیتا ہوں۔ نجانے اللہ سوہنے کو میراکونسا عمل پسند آیا کہ اس نے مجھے ایسی شریک حیات سے نواز دیا جو مجھ سے بڑھ کر اس کی حکمت پر راضی رہتی ہے ۔ اور میرے سیاہ ماضی کے بارے سب جانتے بوجھتے بنا کوئی شکوہ شکایت کیئے میری زندگی کو بلاشک جنت بنائے رکھتی ہے ۔
کوئی اک شاعر تو نہیں ۔ سب شعراء کی وہ شاعری پسند ہے جس میں حسن جاناں کی تعریف ہو ۔ پیار کا پیغام ہو۔ محبت کی کسک ہو ۔ اور عشق کا سوز ہو ۔ مجھے شاعری یاد نہیں ہوتی ۔ بس کچھ ایسے شعر ہوتے جو براہ راست دل پر ضرب لگا حافظے میں محفوظ ہوجاتے ہیں ۔ اور دوران گفتگو میرے کام آ جاتے ہیں ۔
شاعری سچ بولتی ہے بھید دلوں کے کھولتی ہے ۔
میری معصوم بٹیا خود کو بہت شاطر سمجھتا رہا ہوں ۔ بس اسی شاطری کو کام میں لایا نہ کبھی اپنے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھا نہ کبھی اپنے پیاروں کے ہاتھ پر دھیان دیا ۔ جب بھی کسی نے ہاتھ آگے کیا اس کو مستقبل بارے دو چار خوشی کی خبر دے ٹال دیا ۔ اور اب تو کوئی میرا پیارا مجھے اپنا ہاتھ دکھانے کی خواہش کرے تو میں اس کا ہاتھ پکڑ آنکھ بند کر سبحانک لا علمنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا ورد کرتا ہوں اور جو سوچ آتی ہے اسے لفظوں میں بدل اسے بتا دیتا ہوں ۔ یہ آگہی تو گویا گھٹی میں پڑی ہے کہ غصہ کرتے چڑچڑا ہوتے کچھ فائدہ نہیں ہوتا ۔ انسان جتنا غصہ کرے گا اتنا چڑچڑا ہوگا ۔ اور اک تنگ دائرے میں قید میں جائے جہاں صرف اپنے ہی بال کھینچنے کی سہولت ہو گی ۔۔ یقین کریں یہ سب بالیقین درود شریف کے بابرکت ذکر کے سبب سے ہے ۔ یہ آپ ہی نہیں سب کہتے ہیں کہ مجھے غصہ نہیں آتا ۔ اک راز کی بات جب میں اپنے پیاروں سے بات کرتا ہوں تو میری آواز بلند اور لہجہ ایسا ہوتا ہے جیسے میں لیکچر دے رہا ہوں ۔
بلا تفریق جنس کچھ ایسے رکن مجھے اردو محفل پر ملے ہیں جنہیں میں اللہ کے دوستوں کی صف میں رکھتا ہوں ۔
اس میں بھی کوئی جھوٹ نہیں کہ محفل اردو پر ہر وہ رکن میرا پسندیدہ ہے جس کے تحریر کردہ لفظوں سے انسان دوستی کی خوشبو بکھرتی ہے ۔
خود سے شرم تو بہت آتی ہے اپنی ہی آنکھوں میں نہیں دیکھ پاتا ۔
میں گلیاں دا کوڑا محل چڑھایا سائیاں
نہ کوئی خوبی نہ کوئی خامی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس چرب زبانی
جے دیکھاں اپنے عملاں ولے تے کج نئیں میرے پلے
ایسی ہی صدائیں سنتا ہوں اور اپنے لیئے ہدایت کی دعا کرتا ہوں ۔
اللہ سوہنا ہم سب پر مہربان رہتے ہمیں اپنے کرم سے نوازے آمین
بہت دعائیں










0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں