ہفتہ، 24 اکتوبر، 2020

انٹرویو ‏ود ‏نایاب ‏حسین ‏سید ‏---- ‏حصہ ‏6

0 تبصرے
وقت اور " میں " اپنا سفر طے کرتے رہے ۔ میں وقت کو اپنی مرضی سے گزار رہا تھا اور وقت مجھے اپنی مرضی سے گزارتے مجھ سے کھیل رہا تھا ۔۔۔۔ وقت کے اس کھیل میں یہ بات سامنے آئی کہ وقت براہ راست قدرت سے منسلک ہے ۔ اور ہم سب جو اس وقت کے اندر قید ہیں وہ اک سا ہی سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔ ہم چاہے بگ بینگ کو کائنات کے وجود میں آنےکا اتفاقی حادثہ مانیں ہم قدرت کی اطاعت پر ہی خود کو مجبورپاتے ہیں یاپھر ہم بگ بینگ کو امر " کن " کا " فیکون " مان اللہ سوہنے کی حکمت پر صابر شاکر رہتے اپنے مجبور ہونے کو نبھائے جاتے ہیں ۔۔
دونوں صورتوں میں ہی ہم اپنی عقل و سوچ کو رہنما رکھتے اپنی جانب سے اپنے جسم و جاں کی حفاظت و سکون کےلیے غور و فکر میں مبتلا رہتے اپنے اپنے اعمال سے خود کو خیر یا شر کی صف میں لے آتے ہیں ۔
اک وہم و خیال جو صفت تغیر کا حامل اور حادثے کے سبب اپنی صورت بدلنے پر مجبور اس کو ہم قدرت کہہ سکتے ہیں اور قدرت اس کائنات میں اپنی صفت تغیر کے حادثاتی دکھائی دینے والے جلوے بکھیرتی رہتی ہے ۔
اک یقین جو کہ غیر متغیر خود میں اک حکم نہ اس کے وجود میں آنے کا کوئی سبب نہ کوئی حادثہ جو ہمیشہ سے ہے تھا اور سدا ہی رہے گا اسے ہم اللہ کی ذات پاک کہہ سکتے ہیں
ہماری نیت ہمارا ارادہ ہماری کوشش قدرت کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ ایسے سبب وجود میں لے آئے جن کے سبب ہم کامیابی کی منزل تک پہنچیں ۔
قدرت کہیں یا اللہ بلاشک ان کی حکمت انسان کےارادے اور کوشش کے ساتھ براہ راست ربط رکھتی ہے ۔ اور کچھ ایسے سبب بنتے جاتے ہیں کہ وہم و خیال حقیقت بن سامنے آجاتے ہیں ۔
قدرت کے فیصلوں میں بھی کچھ اکائیاں غیر متغیراصولوں کی طرح ہیں ۔ عدل و انصاف رواداری پر رواں اور انسانیت کی خدمت گار ہستیاں ہی رہنما قرار پاتی ہیں ۔۔ چاہے کوئی یتیم ہو معذور ہی کیوں نہ ہو ۔
میں اپنی آوارگی میں مست یہاں وہاں پھرتے آستانوں مزاروں اور عاملوں کے ڈیروں کی خاک چھانتے یہ سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ یہ جو میرے اردگرد بہت سے ایسے آستانے ٹھکانے بکھرے نظر آتے ہیں جہاں عامل کامل ہونے کے دعویدار اپنی اپنی دکانیں سجائے بیٹھے ہیں ۔ آپ کسی کے پاس جا بیٹھیں آپ جان جائیں گے کہ اگر یہ سیر ہے تو کوئی دوسرا عامل سوا سیر ہے ۔ اک کا عمل دوجا کاٹ دیتا ہے اک کی بندش دوسرا کھول دیتا ہے ۔ حالانکہ دونوں نے ہی چلوں وظائف میں عمر گزارتے عامل کامل ہونے کا درجہ پا لیا ہوتا ہے ۔ لیکن عمل کسی کا بھی اتنا مضبوط نہیں ہوتا کہ کاٹا نہ جا سکے ۔آخر ایسا کیوں ۔۔۔۔ ؟
میں نے یہ دیکھا کہ کچھ لوگ بظاہر پاگل دیوانے مجذوب سے لگتے ہیں جنہیں خود کا ہوش نہیں ہے بے معنی بے مقصد سے اعمال میں محو رہتے ہیں ۔ کوئی دعوی نہیں کرتے کسی بھی صورت مسیحائی کا ۔ مگر اک زمانہ ان کے پیچھے خود دیوانہ ہوے پھرتا ہے ۔ آخر ایسا کیوں ۔۔۔ ؟
بابا رمضان مرحوم کاغذاں آلا (حق تعالی ان کی مغفرت فرمائے ۔ آمین ) بھی اک ایسا ہی کردار ہے ۔
جس کے ساتھ وقت نے کچھ ایسا کھیل کھیلا کہ اک پڑھا لکھا شخص دنیا کی نگاہ میں دیوانہ قرار پاتے سڑکوں گلیوں سے کاغذ چننے لگا ۔ اب قدرت کی جانے کیا مرضی تھی کہ دنیا اس کے پیچھے چل پڑی ۔ اس سے مار کھانا گالیاں سننے کے لیئے اسے ستانا اس کے پیچھے پیچھے پھرنا زندگی کی جنگ سے پریشان لوگوں نے اپنا وطیرہ بنا لیا ۔ اور زبان خلق نے اسے درویش قرار دینا شروع کر دیا ۔ اک زمانہ ان سے بات کرنے کو ترستا تھا اور میں بزعم خود اپنی چرب زبانی کو اپنا ہتھیار بنا انہیں ٹھگنے کے چکر میں تھا ۔ اور یہ سوچ کر خوش ہوتا تھا کہ یہ میرے جال میں پھنس چکے ہیں ۔ مجھ سے اچھے سے بات کرتے ہیں ۔ مجھ سے کھانا پینا مانگ کر کھا لیتے ہیں ۔
میں یہ نہیں جانتا تھا کہ ان کا مہربان ہونا آیت الکرسی اور درود شریف کے ذکر کی بدولت ہے ۔ ( آپ شاید یہ پڑھ کر ہنسیں یا میرے بارے کچھ بھی سوچیں مگر یہ حقیقت ہے کہ آیت الکرسی اور درود شریف میں صرف اللہ سوہنے کو ٹھگنے کے لیئے پڑھتا رہتا تھا کیونکہ میری بہن نے مجھے بچپن سے یہ یقین دلا دیا تھا کہ عند اللہ بہت مقبول ہے یہ ذکر ۔ اس کے ذاکر کو ہمیشہ آسانی سے عزت ملتی ہے ۔ اور ابھی مجھے اس حقیقت کی آگاہی نہیں تھی کہ " ((واللہ خیر الماکرین ) کس شئے کا بیان ہے
بزعم خود بابا جی کو ٹھگی لگاتے ان سے یہ ذکر یہ نصیحتیں حاصل کر لیں ۔ اور مخلوق خدا کو ان کا ذکر دیتے ٹھگنے لگا کہ مجھے مقصود تو شہرت تھی نا ۔۔۔۔۔
ان کا راز جاننا ہو تو ان ان پاک کلمات کے مالک پر پورا یقین رکھتے ان پاک کلمات کا ذکر کرنا اپنا معمول بنا لیں اور اپنے اردگرد موجود اللہ کی مخلوق کے لیئے اپنی جانب سے اپنی استطاعت کے مطابق آسانی پیدا کرنے کی کوشش کیا کریں ان شاء اللہ کچھ ہی مدت بعد آپ خود مان جائیں کہ کس قدر عظیم بابرکت کلمات ہیں یہ ۔
ان سے ہی یہ بھی سنا کہ یقین ہی سچ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لا اللہ " نہیں کوئی معبود " کے بعد جو الا اللہ " سوا اللہ کے " ہے نا ۔۔ یہی یقین کی بنیاد ہے جب ہم کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو نفی کے بعد جس اللہ کا اقرار کرتے ہیں وہ صرف اور صرف ہمارا یقین ہوتا ہے ۔ کہ ہاں وہ اللہ ہے جو قادر ہے جو خالق ہے ۔ اگر ہم سچی نیت سے اس کی بات کو مانیں گے اس سے ڈرتے خود کو اس کی عبدیت میں دیتے اس کی مخلوق کی آسانی کے لیئے خود دکھ درد برداشت کریں گے تو وہ اللہ ہمیں اپنا دوست قرار دیتے ہم پر ایسے مہربان ہوگا کہ ہمارے ہر قدم پر ہمارے ساتھ ہوگا ۔
عجب تو یہ کہ شرکیہ الفاظ پر مشتمل چلے ہوں یا آیات قرانی کے وظائف ہر دوکو پورے یقین پوری شرائط کے ساتھ مکمل کرنے والا خود میں اتنا یقین حاصل کر سکتا ہے کہ اگر چاہے تو ہوا میں اڑنے لگے ۔
بس یوں سمجھ لیں کہ یہ " یقین " ہی ہے کہ یہ کلمات ہی مجھ ٹھگ کی ٹھگی کا میاب کرواتے ہیں ۔ سو ان کو کبھی نہیں چھوڑ پایا ۔۔۔
کوشش کی تھی کہ براہ راست سوالوں کے جواب لکھ دوں لیکن اپنی کہانی ہے ہی اس قدر الجھی کہ سرا ہاتھ نہیں آتا ۔ کہیں سے کہیں نکل جاتی ہے بات ۔۔۔۔۔ اور بات اک بار نکل پڑے تو کب رکتی ہے ۔۔۔
ہمزاد ٹیلی پیتھی مسمریزم ہپناٹزم نجوم علم جفر دست شناسی چہرہ شناسی سادہ لفظوں میں سادہ دل پریشان حال لوگوں کو ٹھگنے کے طریقے ۔۔۔ ابھی بہت سی لفاظی باقی ہے ان کے بارے ۔ لکھوں گا ان شاء اللہ
(جو بھی لکھ رہا ہوں اس کی سچائی بارے خود ہی جواب دہ ہوں ۔ اور مقصود آپ سب سے اپنی اصلاح کی خواہش رکھتے علم کا طلب )
بس وقت مہربان رہا

0 تبصرے: