جمعرات، 29 اکتوبر، 2020

انٹرویو ود سید نایاب حسین نقوی --حصہ 7

0 تبصرے

 انٹرویو ود سید نایاب حسین نقوی --حصہ 7

ماشاءاللہ۔۔۔ ایک منفرد شخصیت کا منفرد انٹرویو ہو رہا ہے۔ ہم بھی کچھ جاننے، سیکھنے اور پانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
ہمیں تو کچھ یوں لگتا ہے محترم کہ اسباب پہلے سے ہی موجود ہوتے ہیں۔ اور ہم قدرت کو نہیں ، بلکہ قدرت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی نیت ، ارادے اور کوشش کو اس نہج پر لے جائیں کہ وہ مقررہ اسباب کے ساتھ مل کر ہمیں اس مقام پر پہنچائے جو ہمارے لیے ہے۔۔۔لا توفیقی الا باللہ ولا حول ولا قوۃ۔۔۔
کیا کہتے ہیں آپ۔۔۔:)
میرے محترم بھائی
اللہ سوہنا سدا مہربان رہے آپ پر آمین
آپ کی بات سولہ آنے درست ہے کہ اسباب پہلے ہی سے موجود ہوتے ہیں ۔ لیکن قدرت ہمیں مجبور نہیں بلکہ ہم اپنی نیت ارادے اور کوشش سے قدرت کو مجبور کرتے ہیں ۔
مجھے تو سچے کلام پاک سے یہی آگہی ملتی ہے کہ
انسان کے لیے صرف وہ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔
(النجم:۳۹)

کوشش شرط ہے ۔ کوشش کرے گا تو ہی سبب بنے گا اور وہ ملے گا جس کی طلب ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راستہ دِکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔
(بنی اسرائیل:۹)

کس کو رستہ دکھایا جاتا ہے ؟ اسے ہی جو غوروفکر کی صورت رستہ پانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر کوئی سبب وجود میں آتے رستے کی نشان دہی کر دیتا ہے ۔
یہ کسب بارے سبب کی شرط ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عطا تو عطا ہے ۔ عطا کے لیئے سبب قدرت خود بناتی ہے بنا کسی شرط کسی کوشش کے
عطا و کسب کے اسباب سمجھنے کے لیے مجھے جو سب سے بہتر رہنمائی ملی وہ آپ جناب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کے مطالعے سے ملی ۔ کیسے اک یتیم و یسیر رحمتہ للعالمین قرار پائے ۔
کیا ایسا نہیں ہے کہ روحانیات میں کسب کم اور عطا زیادہ اسباب کے وجود میں آنے کا ذریعہ بنتی ہے ۔ اور مادیات میں عطا کم کسب زیادہ اسباب کے وجود میں آنے کا ذریعہ ہوتا ہے ۔ ؟
آپ سے رہنمائی کی التجا ہے اگر میں کہیں غلطی کر رہا ہوں ۔
بہت دعائیں

اگر قدرت مجبور ہو جائے تو پھر قدرت کہاں رہی۔ لا یُسئل عما یفعل وھم یُسئلون۔(الانبیاء : 23)
حق۔ لیکن اس کوشش کی ڈوری کو کس نے ہلایا؟ لا توفیقی میں اس کا اشارہ ہے۔۔۔
سب عطا ہے ، کسب بھی عطا ہے۔۔۔

اب سوال یہ آگیا کہ " لاتوفیقی " کی شرط " توفیق " میں کیسے بدلتی ہے ۔ ؟
فرمان الہی ہے کہ
کہو اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کودکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔
سورة الرعد
اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کودکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔
سورة الشورى
جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا ان کے لیے خوشخبری ہے۔
سورة الزمر
وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے، مگر(ان نشانیوں کے مشاہدے سے)سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنےوالاہو۔
ان فرامین مبارکہ میں اپنی چاہت کو عام رکھتے رجوع کی شرط لازم قرار دی گئی ہے ۔
جس نے رجوع کیا وہ ہدایت پا گیا ۔ جس نے کوشش کی اس نے پا لیا ۔
ہم با حیثیت مسلمان بلاشک اپنے ہر کسب کے حاصل ہونے کو اللہ سوہنے کی جانب سے عطا ہونے کا ہی یقین رکھتے ہیں ۔
لیکن اس کائنات میں سب مسلمان نہیں ہیں ۔ اور قدرت بلاتفریق مذہب سب کی ہی مددگار ہوتی ہے ۔
آپ سے گفتگو کرتے مجھے یہ آگہی ملی کہ میں نے مجبور کا لفظ غلط استعمال کیا ۔ یوں کہتا تو درست ہوتا کہ ہم اپنی نیت ارادے پر مبنی بھرپور کوشش کرتے قدرت سے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کر سکتے ہیں ۔ ؟
اب یہ مطلوبہ مقاصد جائز ہوتے ہیں یا نہیں ۔۔ یہ اک الگ موضوع ہے ۔
آپ نے توجہ دی بہت شکریہ
بہت دعائیں


و ان لیس للانسان الا ما سعی کا اطلاق کسی حد تک دنیا پر تو کرسکتے ہیں لیکن اس سے حقیقی مراد آخرت ہے۔۔۔

دنیا کی کامیابی کے لیے ضروری نہیں کہ ہر محنت سپھل ہوجائے!!!


میرے محترم بھائی میری ناقص سوچ سے قران پاک کی ہر آیت کا براہ راست اطلاق دنیاکی زندگی پر ہی ہے ۔ اور اس اطلاق پر قائم دنیا کا عمل آخرت میں بدلہ ہے ۔ لالچ اور زیادتی کا جذبہ شدید محنت اور کشٹ کے باوجود منزل تک نہیں پہنچنے دیتا ۔ قدرت کے فراہم کردہ اسباب بھی آپس میں لڑ جھگڑ فیل ہو جاتے ہیں ۔

میرے محترم بھائی ملحوظ رہے کہ میرا علم و عمل ناقص ہے ۔ میں تبلیغ نہیں صرف اپنی کہانی سنا رہا ہوں ۔ اور جو سچ ہے میری نگاہ میں وہی لکھ رہا ہوں ۔
میری کہانی میں آپ کو صرف میرے یقین کی بابت ذکرملے گا وہ یقین جو کہ وقت نے مجھے اپنی مرضی سے گزار تے مجھے مطالعے مشاہدے اور در در پھرا کر مجھے دیا ۔ بات صرف یقین کی ہے اس سادے یقین کی جو افضل ہوتا ہے عین الیقین اور حق القین سے ۔ اور میں نے یہی حقیقت پائی ہے کہ میرا یقین ہی مجھے کامیابی سے نوازتا ہے اگر میرا یقین میرے رب پر سچا ہے ۔ اور میں اپنے رب کو اپنے سے بلند ذات مان سچے دل سے اسکے سامنے جھکتا ہوں اس کی اطاعت کرتا ہوں تو پھر میرا یہ یقین کبھی غلط نہیں ہوتا میرا رب مجھے دنیا کے سامنے جھکنے سے بچاتا ہے میرے لیئے آسانی پیدا فرماتا ہے ۔ کوشش میری ہوتی ہے کامیابی سے وہ نوازتا ہے ۔
پھر وہی کہوں گا کہ مجبور کر دیتا ہوں کہ مجھ پر کرم ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
قدرت بھی بعینہ یہی کرتی ہے وہ انسان کے عمل میں اس کی کوشش کے جوش سے مجبور ہوتے کچھ ایسے اسباب فراہم کرتی ہے جو کہ عمل کو کامیاب کر دیتے ہیں ۔
کوئی محنت کوشش کرتے ڈاکٹر انجیئر عالم بن جاتا ہے کو ئی اپنی محنت کوشش کے بل پر مہا چور بن جاتا ہے ۔ قدرت کبھی کسی کی محنت نہیں ضائع کرتی بشرطیکہ محنت کوشش پوری لگن سے ہو ۔
اور جب محنت کوشش کامیاب ہو جائے تو پھر اسے عطا ماننا پڑتا ہے کہ قدرت نے موافق اسباب پیدا کیئے اور کامیاب ہوئے ۔
عمل سے دور رہنا کر کے تقدیر کا بہانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھلا دانائی ہے کیا ؟
جناب ابراہیم علیہ السلام پر کیسے عطا ہوئی ۔ جناب موسی علیہ السلام پر عطا کیسے ہوئی ۔ اک عبد پر کیسے یہ عطا ہوئی کہ رسول بن رحمت للعالمین کہلایا ۔۔۔؟
اور تو اور جناب اصحاب کہف کے کتے نے کس کسب کے بدلے میں جنت میں داخلے کا انعام پایا ۔ ؟



 

0 تبصرے: