تو جناب ہم یہاں سے سوالات شُروع کرنے لگے ہیں ۔۔ اگر کوئی بھی سوال ایسا ذاتی نوعیت کا ہے جس کے بارے میں بتانے سے گریز کرنا چاہیں گے تو آپ اسے بآسانی رد کرسکتے ہیں
1) آپ کیسے ہیں؟ کیا مصروفیات ہیں آج کل؟
2) محفل کی سالگرہ کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟
3) پاکستان میں دورانِ سیاحت کن کن مقامات نے آپ کو تحیر میں لیتے یہ سبق دیا کہ زندگی تو کتنی بڑی معلم ہے؟
4) آپ کی بیٹی جس کا نام غزل ہے ، اسکے بارے میں کیا خواب ہے آپ کا ؟
5) زندگی تو تعمیر و تخریب کا نام ہے ، آپ کی زندگی کے کون کون سے ایسے ہی واقعات ہیں جن سے گزرتے آپ آج خود کو نایاب حسین کہتے ہیں
6) اگر آپ نے رسمی تعلیم حاصل کی ہوتی تو آج کیا بنے ہوتے ؟
گزشتہ انٹرویو سے ایک سوال
سرگوشی: گزشتہ انٹرویو سے سوال
بہت بچپن ہی سے آوارہ گرد ی کرتے " ملنگوں درویشوں فقیروں " کا لبادہ اوڑھے بہت سی ہستیوں کی صحبت حاصل رہی ۔
دکھی انسانیت کو ان کو " اللہ والا " سمجھتے ان کے پاس آتے اپنی مشکلوں کو بیان کرتے اور دعا کی التجا کرتے جھڑکیاں کھاتے
بہت بار دیکھا ۔ تجسس ہوا کہ یہ لوگ اس مقام پر کیسے پہنچے ہیں ؟ کیا اسم ہے ان کے پاس ۔ ؟
چونکہ ان سے میرا یاری دوستی والا ناطہ تھا ۔ اور میرا وقت ان کے پاس ہی گزرتا تھا ۔ اس لیئے میں ان کی حقیقت سے بخوبی واقف تھا
اور ان کے پہنے لبادوں کی حقیقت بھی مجھ سے مخفی نہ تھی ۔ ان میں اکثر صرف اس دھندے سے اپنے بال بچوں کا رزق تلاشتے تھے ۔ میری نظر میں یہ سب نشئی دھوکہ باز اور ڈھکوسلے تھے ۔ اور خلق خدا کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے تھے ۔
ان میں اک کاغذ چننے والا بھی تھا جس کی واحد مصروفیت سڑکوں پر موسم سے بے نیاز گھومنا اور پھٹے پرانے اخباری کاغذوں کا
جمع کرنا اور انہیں کسی بلند جگہ اکٹھا کر کے باندھ دینا تھی ۔ میں اسے پاگل سمجھتا تھا ۔ کبھی کبھار میں نے دیکھنا کہ کسی درویش ملنگ کے پاس کوئی مرد یا عورت روتے ہوئے اپنی فریاد بیان کر رہے ہیں ۔ تو اس شخص نے اچانک اس مرد یا عورت کو اک لکڑی سے ضرب لگانی اور اسے مجمع سے دور لے جا کر اسے کچھ کہنا اور مارتے اسے بھگا دینا ۔ جیسے ہی وہ فریادی وہاں سے بھاگتا ۔ سب مجمع اس بات پر اتفاق کرتا کہ اس فریادی کا بیڑا پار ہو گیا ہے ۔ اور یہ حقیقت اپنی جگہ کہ دوبارہ وہ فریادی جب نظر آتا تھا ۔ تو اس کے پاس ان صاحب کے لیئے مٹھائی یا کپڑوں کا جوڑا یا پیسے ہوتے تھے ۔ لیکن یہ صاحب کچھ بھی قبول نہ کرتے تھے ۔ اور کھڑے کھڑے وہ لباس اور وہ مٹھائی وہ پیسے مجمع میں موجود کسی بھی دوسرے کی جانب اچھال دیتے تھے ۔ اور اس فریادی کو کچھ کشمیری پنجابی زبان میں بے ربط سے جملے کہتے تھے ۔ جن کا مفہوم کچھ ایسا ہوتا تھا کہ " اب نہیں بھولنا اور سدا اس کا ذکر کرنا ہے "
میری اس سے بھی دوستی تھی اکثر اسے اپنے پاس بٹھا چائے سگریٹ کھانا کھلاتا تھا ۔ مجھے تجسس تھا کہ یہ کیا تلقین کرتا ہے فریادی کو ؟ اک دن وہ جانے کس موج میں تھے ۔ مجھے اپنی لکڑی سے اک ضرب لگا کہنے لگے کہ ۔
" اٹھ نشئیا ۔ کیوں بزرگاں نوں بدنام کرنا ایں " مجھے بہت حیرت ہوئی کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ۔ اٹھ کر ان کے پیچھے گیا ۔ اور پوچھا کہ سائیں جی خیر تو ہے ۔ کہنے لگے پہلے چائے پلا اور کچھ کھلا ۔ بہت بھوک لگی ہے ۔ میں اکیلا ہی ڈیرے پر تھا ۔ سو ناچار ہوٹل پر گیا چائے اور بسکٹ لایا ۔ انہیں کھلایا ۔ کھا پی کر دیوانہ وار ہنسے اور کہنے لگے کہ " سیدا تو تو سردار ہے ۔ مگر تیری عقل نے تجھے گمراہی میں دھکیل دیا ہے ۔ توبہ کر لے ۔ یہ نشے بازی چھوڑ ماں باپ کی اطاعت کر ، ورنہ بہت دھکے کھائے گا پچھتائے گا ۔ لیکن گیا وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا ۔ بول کیا چاہتا ہے تو ؟ میں موقع غنیمت سمجھا اور کہا کہ ۔ سائیں جی آپ صرف اتنا بتا دیں کہ آپ کیا اسم بتاتے ہیں کہ پریشان حال لوگ خوشی خوشی آ کر آپ کو مٹھائی کپڑے پیسے دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ؟
یہ سن کر پھر قہقہے لگانے لگے ۔ پھر کچھ دیر خاموش رہ کر کہنے لگے کہ " سید تو بہت شاطر ہے " میں بھی اسی شاطری کا شکار ہوتے اجڑا برباد ہوں ۔ یہ کہہ کر وہ اٹھے اور مجھے نلکہ گیڑنے پر لگا کپڑوں سمیت ہی نہانے لگے ۔ خوب اچھی طرح نہا کر گھٹنوں پر بیٹھ گئے ۔ اور
قران پاک کے بارے ذکر فرمانے لگے ۔ کبھی یہ سورت کبھی وہ سورت ۔ مجھے کچھ اکتاہٹ ہونے لگی تو کہنے لگے کہ ۔ سیدتو جو تجسس میں گمراہ ہو چکا ہے تو بس یہ اک کلمہ یاد کر لے ۔ اس کے ذکر سے تیرا بھی بھلا ہو گا اور ان کا بھی جن تک یہ کلمہ پہنچے گا ۔
"اللہ نورالسماوات و الارض " 1977 میں چودہ سال کی عمر میں سنا یہ کلمہ آج بھی (جبکہ پچاس کے قریب ہوں میں )اسی جوش و جذبے سے روشن ہے ۔ اور بلاشبہ اس کے ذکر کو بہت بابرکت پایا ہے ۔
نماز چاہے گنڈے دار ہی کیوں نہ ہو ئی
آیت الکرسی
سورت الحشر کی آخری سات آیات
یا اللہ یا رحمان یا رحیم یا کریم یا ذوالجلال و الاکرام انی مغلوب فا انتصر
رب زدنی علماء
اللھم صلی علی محمد و علی آل محمد و بارک وسلم
آوارہ گردی کرتےان ہی کلمات پاکیزہ کو پایا ہے ۔ اور ان ہی کا مبلغ ہوں ۔
7۔ آپ اس فقیر درویش کے بارے میں ہمیں مزید تعارف دے سکتے ہیں؟ وہ کون تھے ، آپ کو کیسے جانتے تھے جو آپ کو اتنی نصیحتیں کردیں ؟ ان کلمات میں ایسا کیا راز ہے جو چودہ سال کی عمر سے اب تلک اپنایا ہوا ہے؟
8۔ زندگی میں محبت کی ناکامی نے آپ کو کیا سبق دیا ؟
9 ۔ کس شاعر کے کلام سے متاثر ہیں؟ اور کیوں؟
10۔
سرگوشی: گزشتہ انٹرویو سے سوال
حقیقت ہے کہ میں نے کبھی بچپن میں ایسا مجرم بننا چاہا تھا جو قانون کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہے ۔
چور کیسے تالے توڑتے ہیں ۔ ؟
جیب تراش کیسے جیبیں کاٹتے ہیں ؟
منشیات کے سمگلر کیسے سمگلنگ کرتے ہیں ۔ ؟
اس کے بارے تجسس تھا اور ان شعبوں سے منسلک افراد سے گہری دوستی رکھتے ان کو عملی صورت دیکھتے اپنے تجسس کی تسکین کی ۔
لیکن یہ کرم اللہ کا کہ سوائے نشہ کرنے کے کوئی دوسرا جرم میرے ہاتھوں وقوع پذیر نہیں ہوا ۔میرے اللہ نے مجھے محفوظ رکھا ۔
اب تو بائیس سال گزر چکے ان لوگوں سے دور رہتے سعودیہ میں اپنی حماقتوں کی سزا پاتے لیکن شاید
اکثرلاہور و راولپنڈی کے تھانوں میں " مشکوک " افراد کی فہرست میں شاید میرا نام اب بھی موجود ہو ۔
میری محترم بہنا لوگ آتے ہیں اپنے اپنے گھروں میں بیتنے والے ڈرامے مجھے سناتے ہیں ۔
اور آپ جانیں ہی کہ " حقیقت ڈرامے سے زیادہ دل چسپ ہوتی ہے ۔ "
کیا یہ صرف نشہ کرنے کی وجہ سے تھا یا اسکے پیچھے کوئی اور بات بھی تھی؟
سرگوشی: گزشتہ انٹرویو سے سوال
عمران کا کردار ابن صفی کے قلم سے ابھری اک ایسی شخصیت ہے ۔ جو ہر لحاظ سے کامل ہے ۔ مگر اس میں اک کجی ہے ۔ جو کہ اس کردار پر لکھے گئے ناولز کو پڑھنے پر ہی کھل سکتی ہے ۔ میرا مجرم بننے کا شوق کسی حد تک ایسی سوچ کا حامل تھا کہ کوئی بھی مجھے پکڑ نہ سکے ۔ عمران جیسے سراغرسانوں کو بھی چکر دے دیا کروں ۔ شکر ہے کہ یہ شوق عمل درآمد سے پہلے ہی دم توڑ گیا ۔ اور" نایاب "بننے کی سوچ نے اسیر کر لیا ۔ اس اسیری نے مطالعے اور گفتگو میں ایسی مہارت کا حامل کر دیا کہ میرے اپنے بھی مجھ سے دور دور ہی رہنا مناسب سمجھنے لگے ۔
ایسے ہی اور بہت سارے احمقانہ شوق مجھے اپنا اسیر کیئے رکھتے تھے ۔
جنوں سے دوستی کر لوں ۔
ٹیلی پیتھی سیکھ لوں ۔
ہمزاد قابو کر لوں ۔
نجومی بن جاؤں ۔
پامسٹری سیکھ لوں ۔
اور یہ میرے رب کا فضل کہ مجھ پر مہربان رہا
اور میرے بہت سے شوق و خواب کو تکمیل و تعبیر کی
منزل تک پہنچاتےمجھےمجرم بننے سے بچا لیا ۔۔
11۔آپ نے یہ سب کیسے حاصل کیا ، ٹیلی پیتھی سیکھنا تو ہر شخص کا شوق رہا ہے مگر اکثر کامیاب نہیں ہو پاتے ،
12 ۔ کچھ اس داستان سے پردہ تو اٹھائیے کہ منزل تک پہنچاتے مجھے مجرم بننے سے بچا لیا
سرگوشی: گزشتہ انٹرویو سے سوال
اک ڈرائیونگ نہیں آتی محترم بہنا
باقی تمام علوم سے حسب منشاء استفادہ حاصل کرتے اس سچے اللہ سمیع العلیم کا شکر ادا کرتا ہوں ۔
جس نے مجھے ان علوم کو سمجھنے کی توفیق سے نوازا ۔۔۔
ان علوم میں کامل ہونے کا درجہ رکھنے والے کس صورت حال کا شکار ہوتے ہیں اس کی وضاحت اک مختصر واقعہ سے ۔
سن 79 کی بات ہے یہ ۔ ہم کچھ آوارہ دوستوں نے مل کر ریلوے کی زمین پر قبضہ کرتے اک ڈیرہ بنا رکھا تھا ۔
منشیات کے عادی اور درویشی کے لبادے اوڑھے ملنگ اور کچھ بے سہارا بے خانماں ضعیف العمر بزرگ
اس ڈیرے کو اپنے آرام و سکون کے لیئے استعمال کرتے تھے ۔ ان میں اک شخصیت " ویلے تایا " کی بھی تھی ۔
میلے کچیلے رہنا نہ کبھی نہانا نہ کبھی منہ ہاتھ دھونا ۔ جگے تایا کہلاتے ڈیرے پہ خاموش بیٹھے رہتے وقت پاس کرنا ۔
ہم دو دوست اس ڈیرے کے روح رواں کہلاتے تھے ۔ اور ہمارا زیادہ وقت یہاں ہی گزرتا تھا ۔
اس لیئے سب ڈرامے باز قسم کے لوگ ہمارے سامنے کھلی کتاب تھے ۔
اک دن میرے دوست " یاسین بھٹی " نے کہا کہ شاہ جی
" ایس ویلے تایا بارے جاندے او ؟ اے کی شئے اے ؟"
میں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس بوڑھے کو گھر والوں نے نکال دیا ہے اس لیئے یہاں پڑا رہتا ہے ۔
کہنے لگا کہ نہیں مجھے علم ہے کہ اس بابے کے اگے پیچھے کوئی نہیں ہے ۔ اور یہ اپنے ہاتھ دیکھنے کے فن میں کبھی کامل کہلاتا تھا ۔
صدر ایوب تک اس کی پہنچ تھی ۔ لیکن پھر جانے کیا ہوا کہ یہ نشے میں ڈوب گیا ۔ اور آوارگی کرتے زندگی گزارنے لگا ۔
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ۔ سو اب تایا جی پر نظر رہنے لگی ۔ جب کبھی اکیلے ہونا تایا جی کو چھیڑنا انہیں بات کرنے پر مجبور کرنا ۔
ان کی سپیشل خدمت کرنی ۔ آہستہ آہستہ ان سے بے تکلفی ہو گئی ۔
ہم چونکہ اس زمانے میں نئے نئے عشق کے اسیر ہوئے تھے ۔ اور اپنے عشق کے انجام بارے متفکر رہتے تھے ۔
اک دن کسی ایسی ہی سوچ میں مبتلا اپنے دھیان میں گم تھا ۔ یکبارگی جو نگاہ اٹھی تو دیکھا کہ
تایا جی میرے ہاتھ پر نظر جمائے ہوئے ہیں ۔میں ویسے ہی کچھ پریشان تھا چھوٹتے ہی تایا جی سے کہا کہ
ویلے تایا جی کدے ساہنوں وی کج دس دیو کہ کی بنے گا ساڈھا " یہ سن کر ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ
" سید بادشاہ اک عمر گزرے گی تیری اس آوارگی میں " لیکن اک دن تو راہ پر آ جائے گا ۔
عشق تیرا تجھے وہ ضرب لگائے گا کہ تو اپنے اس تجسس کی اسیر سب ذہانت و چالاکی بھول جائے گا ۔
اور کچھ ایسی حقیقتوں سے آگہی دی جو کہ سو فیصد درست تھیں ۔ اب جب وقت ملنا ان سے اسی پامسٹری کے موضوع پر
بات چیت ہونے لگی ۔ تایا جی بہت پڑھے لکھے وسیع علم کا حامل نکلے ۔ اک دن میں نے اس سے کہا کہ
تایا جی آپ کو کیا مشکل ہے جو آپ اتنے گندے رہتے ہیں نہ نہاتے ہیں نہ منہ ہاتھ دھوتے ہیں ۔
کتنی بو آتی ہے آپ میں سے ۔ لوگ آپ کے پاس بیٹھتے بھی نہیں ۔
یہ سن کر روانے لگے اور کہنے لگے کہ سید کیا بتاؤں تجھے میرا یہ منہ ہاتھ دھونا اور نہانا کیوں چھوٹ گیا ۔۔
اس ہاتھ دیکھنے کے علم نے جہاں مجھے بے انتہا عزت دی وہیں ایسی اذیت بھی دی کہ
اس سے ملی سب عزت بھی گئی اور اذیت عمر بھر کا ساتھ بنی ۔
ات چیت ہونے لگی ۔ تایا جی بہت پڑھے لکھے وسیع علم کا حامل نکلے ۔ اک دن میں نے اس سے کہا کہ
تایا جی آپ کو کیا مشکل ہے جو آپ اتنے گندے رہتے ہیں نہ نہاتے ہیں نہ منہ ہاتھ دھوتے ہیں ۔
کتنی بو آتی ہے آپ میں سے ۔ لوگ آپ کے پاس بیٹھتے بھی نہیں ۔
یہ سن کر روانے لگے اور کہنے لگے کہ سید کیا بتاؤں تجھے میرا یہ منہ ہاتھ دھونا اور نہانا کیوں چھوٹ گیا ۔۔
اس ہاتھ دیکھنے کے علم نے جہاں مجھے بے انتہا عزت دی وہیں ایسی اذیت بھی دی کہ اس سے ملی
سب عزت بھی گئی اور اذیت عمر بھر کا ساتھ بنی ۔
میں جب اپنا ہاتھ اٹھاتا تھا منہ دھونے کے لیئے ۔ تو میرے ہاتھ کی لکیریں مجھ پر ہنستی تھیں ۔
مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی اس آگہی سے گزرنا پڑتا تھا میرا کوئی چاہنے والا تو اک بار مرتا تھا مگر مجھے اس کے نہ مرنے
تک بار بار مرنا پڑتا تھا ۔ مجھے میرے ہاتھ کی لکیریں میرے آنے والے وقت کو جیسے مجسم کر دیتی تھیں ۔
میں نے ان لیکروں سے آگہی پاکر اپنے والدین اپنے بیوی بچوں کی موت
کب کیوں کیسے ہو گی کو جان کران کی موت تک کتنی اذیت پائی ہے ۔
کہ مجھے ہاتھ اپنے سامنے کرتے ڈر لگتا تھا ۔
اللہ سچے نے انسان سے ان تمام باتوں کو چھپا رکھتے انسان پر اپنا فضل کر رکھا ہے ۔
ایسے علم جو " غیب " سے مطلع کرنے سے منسوب ہوں ان میں کاملیت حاصل کرنے کی خواہش گویا
اپنے آپ پر آگہی سے بھرپور دروازہ کھولنا جیسا ہے ۔
" غیب کا علم صرف اللہ کو ہی سزاوار ہے ۔ "
ان تایا جی ہی سے کچھ پامسٹری کے علم کا اکتساب کیا ۔
کامل تو نہیں ہوں مگر خاندان والے ہی کیا اک زمانہ مجھے ہاتھ دکھا اپنے خوابوں میں گم ہوجاتا ہے ۔
اور میرے لیئے چائے پینے کا سبب
ا13۔ ویلے تایا جی کا کردار بہت ہی دلچسپ ہے ، انہوں نے آگہی کے عذاب پر پچھتاوا جھیلا تو آپ نے اس عذاب پر کیسے قدرت حاصل کی ؟ آگہی تو مسلسل عذاب ہے جبکہ نا تو آپ کے مزاج میں چڑاچڑاہٹ ہے ناہی آپ کو غصہ آتا ہے ، شاذ و نادر ہی کوئی ایسا شخص ملے گا جسکو غصہ نہ آئے مگر آپ سے بات کرتے محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو غصہ نہیں آتا
14۔ محفل پر آپ کی کون کون سی پسندیدہ شخصیات ہیں؟
15۔ آپ خود کو اپنے آئنے میں کیسا پاتے ہیں؟ آپ میں کیا خوبیاں ہیں جو آپ کو ممتاز کرتی ہیں اور کیا خامیاں ہیں جن سے آپ دور رہنا چاہتے ہیں؟
16۔
سرگوشی: گزشتہ انٹرویو سے سوال
پاکستان میں 1990 تک رہا ہوں ۔
دولتالہ ۔ مری ۔ راولپنڈی ۔ لاہور ۔ ڈسکہ ان جگہوں پر بکھری ہوئی ہے داستان میری ۔
ان کے علاوہ " جئے شاہ نورانی " درگاہ سے لیکر " پیر بابا " درگاہ سوات تک
یعنی کراچی سے لیکر سوات تک شاید ہی کوئی درگاہ ایسی ہوگی جہاں میں نے کچھ راتیں نہ بتائی ہوں ۔
پاکستان میں آوارگی کی ملی سزا یہاں " سعودی عرب " میں مزدوری کرتے پوری کر رہا ہوں ۔
آپ کی زندگی کی کہانی ویسی ہی ہے جیسے میں کوئی افسانہ یا ناول پڑھ رہی ہوں ، مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آپ نے زندگی افسانوں والی جی ہے تو کچھ نہ کچھ زیاں کا احساس بھی ستاتا ہوگا تو کہیں کوئی کامیابی خوشی بھی دے جاتی ہوگی ۔۔ آپ نے سیاحت میں زندگی گزاری ہے ۔۔ ابھی تو آپ ان جئے شاہ نوارنی اور پیر بابا کے بارے میں ہمیں آگا ہ کردیں اور ساتھ میں ہوسکے تو کچھ چیدہ چیدہ واقعات بھی سنادیں جن سے ہمیں کوئی آگہی حاصل ہو ۔ کیونکہ آپ کی زندگی تو مکمل داستان ہی ہے
17۔
سرگوشی: گزشتہ انٹرویو سے سوال
تاریخی عمارتیں مجھے مسحور کر دیتی ہیں ۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتا ہوں ۔
میری سوچ و وجدان جب اس عمارت کی تعمیر کی جانب رواں ہوتے ہیں تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ
یہاں اپنی زندگی بتانے والے میرے آس پاس ہیں اور مجھے اپنی کہانیاں سنا رہے ہیں ۔
صحرا ۔۔۔۔۔۔۔
چودھویں کی رات اور صحرا کی تنہائی
اس منظر اور کیفیت کو الفاظ میں بیان کیا ہی نہیں جا سکتا میری بہنا
سمندر ۔۔ جانے کیوں مجھے سمندر کبھی کشش نہیں کرتا ۔۔
آپ دو ایسے واقعات سنادیں جن سے آپ کو لگے کہ یہاں اپنی زندگی بتانے والے میرے آس پاس ہیں اور مجھے اپنی کہانیاں سنا رہے ہیں ۔
18۔ اگر آپ مولانا شمس تبریزی سے ملتے تو کیا ان سے خواہش کرتے ؟
19۔ کبھی زندگی میں آپ کے بولے گئے سچ نے آپ کو تکلیف دی ؟
20 ۔ آپ کو سعودی عرب کے علاوہ کسی اور ملک کی سیر کا شوق ہے
بقیہ سوالات ان جوابات کے بعد آپ سے مزید بھی کروں گی ۔۔۔فی الحال کے اتنا ہی