جمعرات، 29 اکتوبر، 2020

انٹرویو ود سید نایاب حسین نقوی --حصہ 7

0 تبصرے

 انٹرویو ود سید نایاب حسین نقوی --حصہ 7

ماشاءاللہ۔۔۔ ایک منفرد شخصیت کا منفرد انٹرویو ہو رہا ہے۔ ہم بھی کچھ جاننے، سیکھنے اور پانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
ہمیں تو کچھ یوں لگتا ہے محترم کہ اسباب پہلے سے ہی موجود ہوتے ہیں۔ اور ہم قدرت کو نہیں ، بلکہ قدرت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی نیت ، ارادے اور کوشش کو اس نہج پر لے جائیں کہ وہ مقررہ اسباب کے ساتھ مل کر ہمیں اس مقام پر پہنچائے جو ہمارے لیے ہے۔۔۔لا توفیقی الا باللہ ولا حول ولا قوۃ۔۔۔
کیا کہتے ہیں آپ۔۔۔:)
میرے محترم بھائی
اللہ سوہنا سدا مہربان رہے آپ پر آمین
آپ کی بات سولہ آنے درست ہے کہ اسباب پہلے ہی سے موجود ہوتے ہیں ۔ لیکن قدرت ہمیں مجبور نہیں بلکہ ہم اپنی نیت ارادے اور کوشش سے قدرت کو مجبور کرتے ہیں ۔
مجھے تو سچے کلام پاک سے یہی آگہی ملتی ہے کہ
انسان کے لیے صرف وہ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔
(النجم:۳۹)

کوشش شرط ہے ۔ کوشش کرے گا تو ہی سبب بنے گا اور وہ ملے گا جس کی طلب ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راستہ دِکھاتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔
(بنی اسرائیل:۹)

کس کو رستہ دکھایا جاتا ہے ؟ اسے ہی جو غوروفکر کی صورت رستہ پانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر کوئی سبب وجود میں آتے رستے کی نشان دہی کر دیتا ہے ۔
یہ کسب بارے سبب کی شرط ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عطا تو عطا ہے ۔ عطا کے لیئے سبب قدرت خود بناتی ہے بنا کسی شرط کسی کوشش کے
عطا و کسب کے اسباب سمجھنے کے لیے مجھے جو سب سے بہتر رہنمائی ملی وہ آپ جناب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کے مطالعے سے ملی ۔ کیسے اک یتیم و یسیر رحمتہ للعالمین قرار پائے ۔
کیا ایسا نہیں ہے کہ روحانیات میں کسب کم اور عطا زیادہ اسباب کے وجود میں آنے کا ذریعہ بنتی ہے ۔ اور مادیات میں عطا کم کسب زیادہ اسباب کے وجود میں آنے کا ذریعہ ہوتا ہے ۔ ؟
آپ سے رہنمائی کی التجا ہے اگر میں کہیں غلطی کر رہا ہوں ۔
بہت دعائیں

اگر قدرت مجبور ہو جائے تو پھر قدرت کہاں رہی۔ لا یُسئل عما یفعل وھم یُسئلون۔(الانبیاء : 23)
حق۔ لیکن اس کوشش کی ڈوری کو کس نے ہلایا؟ لا توفیقی میں اس کا اشارہ ہے۔۔۔
سب عطا ہے ، کسب بھی عطا ہے۔۔۔

اب سوال یہ آگیا کہ " لاتوفیقی " کی شرط " توفیق " میں کیسے بدلتی ہے ۔ ؟
فرمان الہی ہے کہ
کہو اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کودکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔
سورة الرعد
اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کودکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔
سورة الشورى
جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا ان کے لیے خوشخبری ہے۔
سورة الزمر
وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے، مگر(ان نشانیوں کے مشاہدے سے)سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنےوالاہو۔
ان فرامین مبارکہ میں اپنی چاہت کو عام رکھتے رجوع کی شرط لازم قرار دی گئی ہے ۔
جس نے رجوع کیا وہ ہدایت پا گیا ۔ جس نے کوشش کی اس نے پا لیا ۔
ہم با حیثیت مسلمان بلاشک اپنے ہر کسب کے حاصل ہونے کو اللہ سوہنے کی جانب سے عطا ہونے کا ہی یقین رکھتے ہیں ۔
لیکن اس کائنات میں سب مسلمان نہیں ہیں ۔ اور قدرت بلاتفریق مذہب سب کی ہی مددگار ہوتی ہے ۔
آپ سے گفتگو کرتے مجھے یہ آگہی ملی کہ میں نے مجبور کا لفظ غلط استعمال کیا ۔ یوں کہتا تو درست ہوتا کہ ہم اپنی نیت ارادے پر مبنی بھرپور کوشش کرتے قدرت سے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کر سکتے ہیں ۔ ؟
اب یہ مطلوبہ مقاصد جائز ہوتے ہیں یا نہیں ۔۔ یہ اک الگ موضوع ہے ۔
آپ نے توجہ دی بہت شکریہ
بہت دعائیں


و ان لیس للانسان الا ما سعی کا اطلاق کسی حد تک دنیا پر تو کرسکتے ہیں لیکن اس سے حقیقی مراد آخرت ہے۔۔۔

دنیا کی کامیابی کے لیے ضروری نہیں کہ ہر محنت سپھل ہوجائے!!!


میرے محترم بھائی میری ناقص سوچ سے قران پاک کی ہر آیت کا براہ راست اطلاق دنیاکی زندگی پر ہی ہے ۔ اور اس اطلاق پر قائم دنیا کا عمل آخرت میں بدلہ ہے ۔ لالچ اور زیادتی کا جذبہ شدید محنت اور کشٹ کے باوجود منزل تک نہیں پہنچنے دیتا ۔ قدرت کے فراہم کردہ اسباب بھی آپس میں لڑ جھگڑ فیل ہو جاتے ہیں ۔

میرے محترم بھائی ملحوظ رہے کہ میرا علم و عمل ناقص ہے ۔ میں تبلیغ نہیں صرف اپنی کہانی سنا رہا ہوں ۔ اور جو سچ ہے میری نگاہ میں وہی لکھ رہا ہوں ۔
میری کہانی میں آپ کو صرف میرے یقین کی بابت ذکرملے گا وہ یقین جو کہ وقت نے مجھے اپنی مرضی سے گزار تے مجھے مطالعے مشاہدے اور در در پھرا کر مجھے دیا ۔ بات صرف یقین کی ہے اس سادے یقین کی جو افضل ہوتا ہے عین الیقین اور حق القین سے ۔ اور میں نے یہی حقیقت پائی ہے کہ میرا یقین ہی مجھے کامیابی سے نوازتا ہے اگر میرا یقین میرے رب پر سچا ہے ۔ اور میں اپنے رب کو اپنے سے بلند ذات مان سچے دل سے اسکے سامنے جھکتا ہوں اس کی اطاعت کرتا ہوں تو پھر میرا یہ یقین کبھی غلط نہیں ہوتا میرا رب مجھے دنیا کے سامنے جھکنے سے بچاتا ہے میرے لیئے آسانی پیدا فرماتا ہے ۔ کوشش میری ہوتی ہے کامیابی سے وہ نوازتا ہے ۔
پھر وہی کہوں گا کہ مجبور کر دیتا ہوں کہ مجھ پر کرم ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
قدرت بھی بعینہ یہی کرتی ہے وہ انسان کے عمل میں اس کی کوشش کے جوش سے مجبور ہوتے کچھ ایسے اسباب فراہم کرتی ہے جو کہ عمل کو کامیاب کر دیتے ہیں ۔
کوئی محنت کوشش کرتے ڈاکٹر انجیئر عالم بن جاتا ہے کو ئی اپنی محنت کوشش کے بل پر مہا چور بن جاتا ہے ۔ قدرت کبھی کسی کی محنت نہیں ضائع کرتی بشرطیکہ محنت کوشش پوری لگن سے ہو ۔
اور جب محنت کوشش کامیاب ہو جائے تو پھر اسے عطا ماننا پڑتا ہے کہ قدرت نے موافق اسباب پیدا کیئے اور کامیاب ہوئے ۔
عمل سے دور رہنا کر کے تقدیر کا بہانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھلا دانائی ہے کیا ؟
جناب ابراہیم علیہ السلام پر کیسے عطا ہوئی ۔ جناب موسی علیہ السلام پر عطا کیسے ہوئی ۔ اک عبد پر کیسے یہ عطا ہوئی کہ رسول بن رحمت للعالمین کہلایا ۔۔۔؟
اور تو اور جناب اصحاب کہف کے کتے نے کس کسب کے بدلے میں جنت میں داخلے کا انعام پایا ۔ ؟



 

ہفتہ، 24 اکتوبر، 2020

انٹرویو ‏ود ‏نایاب ‏حسین ‏سید ‏---- ‏حصہ ‏6

0 تبصرے
وقت اور " میں " اپنا سفر طے کرتے رہے ۔ میں وقت کو اپنی مرضی سے گزار رہا تھا اور وقت مجھے اپنی مرضی سے گزارتے مجھ سے کھیل رہا تھا ۔۔۔۔ وقت کے اس کھیل میں یہ بات سامنے آئی کہ وقت براہ راست قدرت سے منسلک ہے ۔ اور ہم سب جو اس وقت کے اندر قید ہیں وہ اک سا ہی سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔ ہم چاہے بگ بینگ کو کائنات کے وجود میں آنےکا اتفاقی حادثہ مانیں ہم قدرت کی اطاعت پر ہی خود کو مجبورپاتے ہیں یاپھر ہم بگ بینگ کو امر " کن " کا " فیکون " مان اللہ سوہنے کی حکمت پر صابر شاکر رہتے اپنے مجبور ہونے کو نبھائے جاتے ہیں ۔۔
دونوں صورتوں میں ہی ہم اپنی عقل و سوچ کو رہنما رکھتے اپنی جانب سے اپنے جسم و جاں کی حفاظت و سکون کےلیے غور و فکر میں مبتلا رہتے اپنے اپنے اعمال سے خود کو خیر یا شر کی صف میں لے آتے ہیں ۔
اک وہم و خیال جو صفت تغیر کا حامل اور حادثے کے سبب اپنی صورت بدلنے پر مجبور اس کو ہم قدرت کہہ سکتے ہیں اور قدرت اس کائنات میں اپنی صفت تغیر کے حادثاتی دکھائی دینے والے جلوے بکھیرتی رہتی ہے ۔
اک یقین جو کہ غیر متغیر خود میں اک حکم نہ اس کے وجود میں آنے کا کوئی سبب نہ کوئی حادثہ جو ہمیشہ سے ہے تھا اور سدا ہی رہے گا اسے ہم اللہ کی ذات پاک کہہ سکتے ہیں
ہماری نیت ہمارا ارادہ ہماری کوشش قدرت کو مجبور کر دیتی ہے کہ وہ ایسے سبب وجود میں لے آئے جن کے سبب ہم کامیابی کی منزل تک پہنچیں ۔
قدرت کہیں یا اللہ بلاشک ان کی حکمت انسان کےارادے اور کوشش کے ساتھ براہ راست ربط رکھتی ہے ۔ اور کچھ ایسے سبب بنتے جاتے ہیں کہ وہم و خیال حقیقت بن سامنے آجاتے ہیں ۔
قدرت کے فیصلوں میں بھی کچھ اکائیاں غیر متغیراصولوں کی طرح ہیں ۔ عدل و انصاف رواداری پر رواں اور انسانیت کی خدمت گار ہستیاں ہی رہنما قرار پاتی ہیں ۔۔ چاہے کوئی یتیم ہو معذور ہی کیوں نہ ہو ۔
میں اپنی آوارگی میں مست یہاں وہاں پھرتے آستانوں مزاروں اور عاملوں کے ڈیروں کی خاک چھانتے یہ سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ یہ جو میرے اردگرد بہت سے ایسے آستانے ٹھکانے بکھرے نظر آتے ہیں جہاں عامل کامل ہونے کے دعویدار اپنی اپنی دکانیں سجائے بیٹھے ہیں ۔ آپ کسی کے پاس جا بیٹھیں آپ جان جائیں گے کہ اگر یہ سیر ہے تو کوئی دوسرا عامل سوا سیر ہے ۔ اک کا عمل دوجا کاٹ دیتا ہے اک کی بندش دوسرا کھول دیتا ہے ۔ حالانکہ دونوں نے ہی چلوں وظائف میں عمر گزارتے عامل کامل ہونے کا درجہ پا لیا ہوتا ہے ۔ لیکن عمل کسی کا بھی اتنا مضبوط نہیں ہوتا کہ کاٹا نہ جا سکے ۔آخر ایسا کیوں ۔۔۔۔ ؟
میں نے یہ دیکھا کہ کچھ لوگ بظاہر پاگل دیوانے مجذوب سے لگتے ہیں جنہیں خود کا ہوش نہیں ہے بے معنی بے مقصد سے اعمال میں محو رہتے ہیں ۔ کوئی دعوی نہیں کرتے کسی بھی صورت مسیحائی کا ۔ مگر اک زمانہ ان کے پیچھے خود دیوانہ ہوے پھرتا ہے ۔ آخر ایسا کیوں ۔۔۔ ؟
بابا رمضان مرحوم کاغذاں آلا (حق تعالی ان کی مغفرت فرمائے ۔ آمین ) بھی اک ایسا ہی کردار ہے ۔
جس کے ساتھ وقت نے کچھ ایسا کھیل کھیلا کہ اک پڑھا لکھا شخص دنیا کی نگاہ میں دیوانہ قرار پاتے سڑکوں گلیوں سے کاغذ چننے لگا ۔ اب قدرت کی جانے کیا مرضی تھی کہ دنیا اس کے پیچھے چل پڑی ۔ اس سے مار کھانا گالیاں سننے کے لیئے اسے ستانا اس کے پیچھے پیچھے پھرنا زندگی کی جنگ سے پریشان لوگوں نے اپنا وطیرہ بنا لیا ۔ اور زبان خلق نے اسے درویش قرار دینا شروع کر دیا ۔ اک زمانہ ان سے بات کرنے کو ترستا تھا اور میں بزعم خود اپنی چرب زبانی کو اپنا ہتھیار بنا انہیں ٹھگنے کے چکر میں تھا ۔ اور یہ سوچ کر خوش ہوتا تھا کہ یہ میرے جال میں پھنس چکے ہیں ۔ مجھ سے اچھے سے بات کرتے ہیں ۔ مجھ سے کھانا پینا مانگ کر کھا لیتے ہیں ۔
میں یہ نہیں جانتا تھا کہ ان کا مہربان ہونا آیت الکرسی اور درود شریف کے ذکر کی بدولت ہے ۔ ( آپ شاید یہ پڑھ کر ہنسیں یا میرے بارے کچھ بھی سوچیں مگر یہ حقیقت ہے کہ آیت الکرسی اور درود شریف میں صرف اللہ سوہنے کو ٹھگنے کے لیئے پڑھتا رہتا تھا کیونکہ میری بہن نے مجھے بچپن سے یہ یقین دلا دیا تھا کہ عند اللہ بہت مقبول ہے یہ ذکر ۔ اس کے ذاکر کو ہمیشہ آسانی سے عزت ملتی ہے ۔ اور ابھی مجھے اس حقیقت کی آگاہی نہیں تھی کہ " ((واللہ خیر الماکرین ) کس شئے کا بیان ہے
بزعم خود بابا جی کو ٹھگی لگاتے ان سے یہ ذکر یہ نصیحتیں حاصل کر لیں ۔ اور مخلوق خدا کو ان کا ذکر دیتے ٹھگنے لگا کہ مجھے مقصود تو شہرت تھی نا ۔۔۔۔۔
ان کا راز جاننا ہو تو ان ان پاک کلمات کے مالک پر پورا یقین رکھتے ان پاک کلمات کا ذکر کرنا اپنا معمول بنا لیں اور اپنے اردگرد موجود اللہ کی مخلوق کے لیئے اپنی جانب سے اپنی استطاعت کے مطابق آسانی پیدا کرنے کی کوشش کیا کریں ان شاء اللہ کچھ ہی مدت بعد آپ خود مان جائیں کہ کس قدر عظیم بابرکت کلمات ہیں یہ ۔
ان سے ہی یہ بھی سنا کہ یقین ہی سچ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لا اللہ " نہیں کوئی معبود " کے بعد جو الا اللہ " سوا اللہ کے " ہے نا ۔۔ یہی یقین کی بنیاد ہے جب ہم کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو نفی کے بعد جس اللہ کا اقرار کرتے ہیں وہ صرف اور صرف ہمارا یقین ہوتا ہے ۔ کہ ہاں وہ اللہ ہے جو قادر ہے جو خالق ہے ۔ اگر ہم سچی نیت سے اس کی بات کو مانیں گے اس سے ڈرتے خود کو اس کی عبدیت میں دیتے اس کی مخلوق کی آسانی کے لیئے خود دکھ درد برداشت کریں گے تو وہ اللہ ہمیں اپنا دوست قرار دیتے ہم پر ایسے مہربان ہوگا کہ ہمارے ہر قدم پر ہمارے ساتھ ہوگا ۔
عجب تو یہ کہ شرکیہ الفاظ پر مشتمل چلے ہوں یا آیات قرانی کے وظائف ہر دوکو پورے یقین پوری شرائط کے ساتھ مکمل کرنے والا خود میں اتنا یقین حاصل کر سکتا ہے کہ اگر چاہے تو ہوا میں اڑنے لگے ۔
بس یوں سمجھ لیں کہ یہ " یقین " ہی ہے کہ یہ کلمات ہی مجھ ٹھگ کی ٹھگی کا میاب کرواتے ہیں ۔ سو ان کو کبھی نہیں چھوڑ پایا ۔۔۔
کوشش کی تھی کہ براہ راست سوالوں کے جواب لکھ دوں لیکن اپنی کہانی ہے ہی اس قدر الجھی کہ سرا ہاتھ نہیں آتا ۔ کہیں سے کہیں نکل جاتی ہے بات ۔۔۔۔۔ اور بات اک بار نکل پڑے تو کب رکتی ہے ۔۔۔
ہمزاد ٹیلی پیتھی مسمریزم ہپناٹزم نجوم علم جفر دست شناسی چہرہ شناسی سادہ لفظوں میں سادہ دل پریشان حال لوگوں کو ٹھگنے کے طریقے ۔۔۔ ابھی بہت سی لفاظی باقی ہے ان کے بارے ۔ لکھوں گا ان شاء اللہ
(جو بھی لکھ رہا ہوں اس کی سچائی بارے خود ہی جواب دہ ہوں ۔ اور مقصود آپ سب سے اپنی اصلاح کی خواہش رکھتے علم کا طلب )
بس وقت مہربان رہا

انٹرویو ‏ود ‏سید ‏نایاب ‏حسین ‏نقوی----- ‏حصہ ‏پنجم ‏

0 تبصرے
نور سعدیہ شیخ نے کہا: ↑
5) زندگی تو تعمیر و تخریب کا نام ہے ، آپ کی زندگی کے کون کون سے ایسے ہی واقعات ہیں جن سے گزرتے آپ آج خود کو نایاب حسین کہتے ہیں


گذشتہ سے پیوستہ
اقابلا اور انکا کی داستانیں پڑھتے اس خواہش نے بے قرار کر دیا کہ میرے پاس بھی ایسی کوئی طاقت ہو ۔ اب چلوں وظیفوں کا لالچ اپنا اسیر کر رہا تھا ۔ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ چرب زبان بہت ہوں اور کچھ ہی دیر میں کسی کو بھی شیشے میں اتار اپنا مقصود حاصل کرنے میں ہمیشہ کامیاب ہی رہتا ہوں ۔
والد کی جیب والدہ کا پرس دادی کے تکیئے بہنوں کی گلگ میری دسترس سے کبھی دور نہ تھے جب موقع ملا پیسے اڑا لیئے ۔ اور دنیا کو کھلاتے پلاتے اپنی دوستی بناتے اپنا مقصود حاصل کر لیتا ۔ ویسے بھی فطرتی طور پر انسان دوست ہوں اور انسان کی خدمت کرتے کبھی جھجھک نہیں ہوتی چاہے کسی کو وقت پر جوتے ہی کیوں نہ صاف کر کے دے دوں ۔ اور یہ خدمت مجھے بہت جلد انسان کی نگاہ میں لے آتی ہے ۔ اور مجھے توجہ ملتی ہے ۔
پچھلے انٹرویو میں بتا چکا ہوں کہ ہماری گلی میں اک کالے جادو کے عامل رہتے تھے ۔ جن سے میرے اچھے تعلقات تھے ۔ اب میری مصروفیت یہی تھی کہ کہیں کسی بارے خبر ملے کہ وہ کسی شکل میں ہرے پیلے نیلے کالے جادو ٹونے تعویذ دھاگے کرتا ہے یا ان کی کاٹ پیٹ کرتا ہے ۔ تواپنی پوری چالاکی و عیاری کو سہارا بناتے اس سے ربط بنا لینا ۔
مجھ سے بڑی بہن نے مجھے بہت بچپن سے آیت الکرسی اور درود شریف یاد کروا دیا تھا ۔ کہ اگر کہیں کبھی کوئی ڈر لگے تو یہ پڑھ لیا کرنا ۔ ڈر بھاگ جائے گا ۔ بچپن سے گزر اب لڑکپن میں تھا بے وقوفی نادانی میں مبتلا ہوتے بزعم خود بہت چالاکی کے ساتھ دنیا کو دھوکہ دیتے اپنی خواہش پوری کرنے کی سوچ کا اسیر تھا ۔ بظاہر احمق سادہ معصوم اور باطن میں اس سے برعکس ۔ اپنی زندگی کے اس مرحلے پر میں اب دو دنیاؤں کا مسافر تھا ۔
اک وہ دنیا جہاں صرف یقین پر مبنی اللہ کی ذات پاک اور اس کا کلام جو کہ ہدایت و آسانی کا سبب ۔
اور اک دوسری دنیا جہاں یقین کچھ مخصوص الفاظ کی مخصوص طریقے سے پڑھائی اور کچھ ایسے اعمال پرقائم ہوتا ہے جو کہ بظاہر عجیب اور کچھ حد تک کریہہ بھی ہوتے ہیں ۔ اور جسم خاکی کو مشقتوں میں مبتلا رکھا جاتا ہے ۔ جو کہ ترک دنیا سے مماثل ہوتا ہے ۔ چلے ہوتے ہیں۔ وظائف کا انبار اٹھانا پڑتا ہے ۔ پستی کی آخری حد تک گرنا ہوتا ہے ۔
میں سمجھتا ہوں یہ میرے اللہ کا فضل ہی تھا جو میں بیک وقت دونوں دنیاؤں کا مسافر بننے کی خواہش میں مبتلا ہوتے دونوں کو ساتھ چلانا چاہتا تھا ۔ اگر کہیں صرف چلوں والی دنیا کا لالچ رکھتے اس راہ چلتا تو شیطان کا سیکریٹری بن جہنم کی آگ کا حقدار ٹھہرتا ۔۔
چلے بھی کرتا تھا حاضریاں بھی بلاتا تھا ۔ اور آیت الکرسی اور درود شریف بھی دل میں چلتا رہتا تھا ۔ چاند کی آخری راتوں میں کبھی پیپل و برگد کے نیچے بیٹھ ویران پرانے قبرستان میں کسی قبر کے سرہانے کبھی پائینتی بیٹھ کسی سے ملے کچھ الفاظ و جملے جو کہ کسی حد تک شرکیہ بھی ہوتے پڑھتے رہنا ۔ زبان پر ان کا ذکر اور دل میں آیت الکرسی کا ورد ۔ اس دوران بہت سے ایسے مناظر اپنے ارد گرد واقع ہوتے دیکھتا تھا جو کہ کبھی ڈراتے کبھی حیرانگی میں مبتلا کرتے تھے ۔ (یہ تو بہت بعد میں راز کھلا کہ میری سوچ ہی میرے خیال کو بنتے میرے تصور پر مجسم ہو جاتی تھی ۔اور میں وہم کو اصل جان حیرانگی میں مبتلا ہو جاتا تھا )
پچھل پیریاں دیکھیں شتونگڑوں سے ملاقات رہی چھلاوے نے بہ بھگا بھگا تھکا کر اپنی صحبت سے نوازا ۔ روحوں بد روحوں سے ملاقات ہوئی ۔ ان سب سے گزر خود کو عامل کامل جان لیا مان لیا ۔ مجھ بے وقوف کو اس حقیقت کا کہاں علم تھا کہ آیت الکرسی اور درود شریف کا ذکر مسلسل مجھے پناہ میں لیئے ہوئے ہے ۔اور اس ذکر پاک کی یہ رحمت ہے کہ جنات بھی ملاقات کو آ جاتے ہیں ۔
(اس عمر میں پہنچ یہ کہنے میں کوئی ڈر جھجھک نہیں کہ گمراہی میں ڈوب گیا تھا ۔ اپنے یقین کو چھوڑ واہموں میں الجھ گیا تھا ۔ کیسے یہ حقیقت کھلی ۔ اس کہانی کے کسی موڑ پر یہ بات بھی کھلے گی ۔ )
انٹرویو کے بہانے اس کہانی کے لکھنے کا مطلوب بس یہی ہے کہ شاید مجھ ایسا اگر کوئی واہموں کے پیچھے بھاگ چلوں وظیفوں میں الجھا نادانستگی میں شرکیہ اعمال میں مبتلا ہوتے کچھ کامیابی پاتے گمراہی کی راہ پر ہے۔ تو وہ پلٹ آئے )
کہانی جاری ہے ابھی ۔ وقت کا مہربان رہنا شرط
بہت دعائیں

انٹرویو ‏ود ‏سید ‏نایاب ‏حسین ‏نقوی ‏----- ‏حصہ ‏چہارم

0 تبصرے
نور سعدیہ شیخ نے کہا: ↑
5) زندگی تو تعمیر و تخریب کا نام ہے ، آپ کی زندگی کے کون کون سے ایسے ہی واقعات ہیں جن سے گزرتے آپ آج خود کو نایاب حسین کہتے ہیں
محترم بٹیا آپ کا یہ سوال مجھے ماضی میں پہنچاتے میری گزری فلم مجھے دکھا رہا ہے ۔ جو یاد آ رہا ہے لکھ رہا ہوں ۔
اللہ سوہنے کی قدرت بڑے بھائی کے بعد یک بعد دیگرے تین بہنیں اس دنیا میں تشریف لائیں ۔ جب میری آمد ہوئی تو میری دادی مرحومہ نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ یہ تو نایاب ہے ۔ یہ ایسا نام تھا جو اسم با مسمی ہوتے اپنوں کے لیئے نایاب رہا ۔ نہ کسی کی شادی نہ کسی کی وفات ۔ سب خاندان والے موجود ہوتے اور نایاب نایاب ہی ہوتا ۔
میں خود کو نایاب نہیں کہتا میری بٹیا یہ تو زمانہ کہتا ہے ۔
اب گزری کچھ یوں کہ 1969 میں والد مرحوم دولتالہ گاؤں سے تبدیل ہو کر لاہور لیڈی ایچی سن ہسپتال آگئے ۔ شاہدرہ اسٹیشن میں اک مکان کرائے پر لیا اور زندگی اپنی ڈگر چلنے لگی ۔ مجھے ایم سی مڈل سکول شاہدرہ میں کلاس دوئم میں داخلہ مل گیا ۔ جو کورس کی کتابیں تھیں وہ تو چار دن میں پڑھ لیں ۔ سب یاد ہو گئیں ۔ استاد کے کچھ بھی پوچھنے پر فٹ سے جواب دینا اور خود کو بڑا ذہین ماننا ۔ لیکن روز وقت پر سکول جانا اور وقت پر چھٹی کر گھر آنا ۔ یہ زندگی کا چلن مجھے بھاتا نہیں تھا ۔ اونگھتے کو ٹھیلتے کا بہانہ اک دن میرے اک کلاس فیلو نے کہا کہ چلو سیر کرنے چلیں ۔ بستے اٹھائے اور سکول کے پیچھے واقع ریلوے سٹیشن پہنچ گئے ۔ ناروال سے آنے والی ٹرین پر بیٹھے اور لاہور پہنچ گئے ۔ وہاں گھوم پھر اسی ٹرین پر بیٹھ واپس شاہدرہ آ گئے ۔ بس یہ سفر اک ایسے سفر کی شروعات تھی جو اب تک ختم نہ ہوا ۔ اب تو یہ سلسلہ بن گیا گھر سے سکول کے لیئے نکلنا بستے کہیں کسی کھیت میں چھپانے اور سارا دن آوارہ گردی کرنی ۔ یہ نہیں تھا کہ گھر والوں کو پرواہ نہیں تھی ۔ وہ اپنی اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر جب بھی میری پڑھائی بارے پوچھتے سب فر فر سنا دیتا ۔
دادی مرحوم بتاتی تھیں کہ گھر میں یسرناالقران پڑھ کر جب قران پاک شروع کیا تھا تو روزنامہ امروز کی خبریں پڑھ کر انہیں سناتا تھا ۔ گھر میں والد والدہ سمیت سب ہی مطالعہ کے شوقین تھے ۔ بہشتی زیور ۔ طلسم ہوش ربا ۔ پھول ۔ تہذیب نسواں کی تحاریر پر اکثر جب سب گھر والے کھانے کے لیئے بیٹھتے تو گفتگو ہوا کرتی تھی ۔ بس سمجھ لیں کہ مطالعہ اور بحث گھٹی میں شامل ہے والدین نے کھلانے پلانے میں کبھی کمی کی ہو تو ہو ۔ مگر کتابیں گھر لا ہمیں پڑھانے میں کبھی کنجوسی نہ کی ۔
والد صاحب سید سبط محمد اور والدہ صاحبہ سلطانہ سید کا تعلق امروہہ ضلع مراد آباد کے اک فقیر منش صوفی خاندان سے تھا جس کا نسبی تعلق سید حسین شر ف الد ین شا ولا یت سے تھا ۔ ہندوستان میں سادات امروہہ میں پہلے شخص جو سرزمین امروہہ میں وارد ہو ئے وہ سید شاہ نصیر الد ین تھے جو عابد ی خاندان کے مو رث ہو ئے۔ ان کی حیات ہی میں چو دھویں صدی عیسوی اور ساتویں صدی ہجر ی کے آغا ز میں سید حسین شر ف الد ین شاہ ولا یت وارد ا امروہہ ہو ئے۔
والد صاحب تقسیم برصغیر کے وقت سروے آف انڈیا میں ملازم تھے ۔ پاکستان بننے کے بعد سروے آف پاکستان کے ملازم ہوئے ۔ وہاں سے محکمہ صحت بھیج دئے گئے ۔ والد صاحب کو زندگی نے کچھ اس طور برتا تھا کہ آپ مذہب و رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر رہتے صرف انسان دوستی پر عمل پیرا ہونے پر مجبور ہوگئے ۔ اس انسان دوستی کے باعث ان کی کبھی بھی اپنے افسروں سے نہ بنی ۔ اور نہ ہی ترقی ہوئی ۔ آپ اپنی قناعت و توکل میں مگن ڈیوٹی کے بعد انگلش کی ٹیوشن پڑھاتے اپنا اور بیوی بچوں کا رزق تلاشنے میں مصروف رہے ۔ ۔ اس ٹیوشن کے سلسلے میں والد محترم کی ملاقات میرے نانا جی سید عبد الحفیظ مرحوم سے ہوئی جو کہ باٹا شو کمپنی میں بوائلر انجیئر تھے ۔ نانا جی کو والد صاحب کی شخصیت اتنی بھائی کہ اپنی پڑھی لکھی بیٹی کو خوشی خوشی اک فقیر منش کی زوجیت میں دے دیا ۔ حق مغفرت فرمائے والدہ صاحبہ بھی اپنی سب امارت بھول دال روٹی قناعت کرتے اپنے صاحب کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارتی رہیں وقت کے ساتھ ساتھ کنبہ بڑھتے بڑھتے 11 افراد پر مشتمل ہوگیا ۔ اک فرد کمانے والا اور گیارہ فرد کھانے والے ۔ سو والدہ صاحبہ نے بھی ورکنگ وومن بننے کا رادہ کرتے 1970 میں ملازمت کر لی ۔ میری عمر اس وقت سات سال تھی ۔ ماں باپ دونوں ہم بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطر ملازمت کرنے لگے ۔ صبح جانا رات کو آنا ۔ چھٹی کے سب بچوں کا پاس بٹھا ان سے ان کی تعلیم بارے گفتگو کرنی ۔ سب بہن بھائی تو ماشاء اللہ سیدھے سبھاؤ سکول جاتے اپنی پڑھائی میں مصروف رہتے اور میں بھگوڑا جو اک بار ہی اپنے کورس کی کتب کو بھی ناول کی صورت پڑھ لیتا اور والدین کے کچھ پوچھنے پر ان کے پوچھے سبق سے بھی آگے کی سنا دیتا ۔ وہ مطمئن ہو جاتے ۔۔ والد صاحب چونکہ لیڈی ایچیسن ہسپتال میں تھے ۔اور شاہدرہ ہی کیا کہیں کا بھی کوئی رہائیشی جب اپنی بیگم کے ہمراہ زچگی کے سلسلے میں ہسپتال کا چکر لگتا تو گویا وہ والد صاحب کا مرید ہی ہوجاتا ۔ میرے سکول کے اساتذہ بھی ان میں شامل تھے ۔ اور میں نے اس عقیدت کا غلط فائدہ اٹھایا ۔ مسلسل سکول نہ جانے پر سکول سے نام کٹنا جولازم امر تھا ۔ اس سے بچتا رہا ۔ اپنی کلاس کے استاد کے گھر جا کر ان کی بیگم کو سودا سلف لا دیا کرنا ۔ اور امتحانوں سے پہلے باجی کی منت کرتے استاد محترم سے معافی پاتے امتحان دے آتا اور پاس ہو جاتا ۔ دوئم سوئم چہارم پنجم میں پہنچ وقت نے اک ایسا موقع دیا جو کہ مجھے سنوارنے کی بجائے مزید آوارگی میں دھکیل گیا ۔ پنجم میں وظیفے کے لیئے امتحان لیا جاتا تھا ۔ اور مختلف سکولوں سے ذہین بچے منتخب کیئے جاتے تھے ۔ اک دن حسب معمول سکول سے فرار ہوتے بازار کے گشت پر تھا ۔ اچانک پیچھے سے کسی نے کان پکڑ لیا اور کہا چل سکول ۔ آواز نے بتا دیا کہ استاد محترم ہیں ۔ ڈرتے دعائیں مانگتے سکول پہنچا ان کے ساتھ ۔ انہوں کہا کہ یہ سوال حل کر دو ۔ اللہ کی قدرت یا اس کی حکمت مجھ سے وہ سوال بہت جلد حل ہو گئے ۔ اور مجھے وظیفے کے امتحان کے لیئے منتخب کر لیا گیا ۔۔۔۔ وقت کا یہ کھیل " مرے کو مارے شاہ مدار " کی مثال ہو گیا ۔ وظیفہ پاتے ہی میں تو خود کو ایسا عالم سمجھنے لگا جسے کسی بھی استاد کی کوئی حاجت نہ ہو ۔۔
کلاس دوئم سے جب سکول سے بھاگنے کی شروعات ہوئیں تو ساتھ ہی " یقین " کی بھی شروعات ہو گئی ۔ وہ ایسے کہ ہم سکول سے بھاگنے والوں میں شامل اک بڑی کلاس کے بچے نے ہمیں بتایا کہ دو پتھر یہ اک اینٹ کے دو ٹکڑے اک ترتیب کے ساتھ اوپر نیچے رکھ کو جو خواہش کرو وہ پوری ہوتی ۔ کسی معاملے کو ٹالنا ہو جب بھی کارگر ہوتی ہے ۔ میں نے اسے اپنا لیا گھر سے نکلتے کسی کھیت درخت کے نیچے دو پتھر اوپر تلی رکھنا اور کہنا کہ میں سکول سے بھاگنے پر پکڑا نہ جاؤں ۔ مجھے کوئی اغوا نہ کرلے ۔ میں آج رستہ نہ بھول جاؤں ایسی ہی بچگانہ خواہشیں کرنا معمول بن گیا ۔ اگر کبھی کچھ ایسا ہوتا جس کے نہ ہونے کی دعا کی ہوتی تھی تو جب جاکر ان پتھروں کو دیکھنا تو وہ گرے ہوئے ملتے ۔ بس یقین مضبوط ہو جاتا ۔ والدین ہمارے لیئے رزق کی تلاش میں محو تھے اور ہم سب بہن بھائی ہر سال امتحان میں نہ صرف پاس ہو جاتے بلکہ والدین کو اساتذہ سے ہماری تعریف سن کر تسلی اور خوشی مل جاتی ۔ اب پرائمری پاس کر مڈل میں آ گیا تھا ۔ اور " انکا " اقابلا " ہمزاد " جیسے سلسلوں سے دوستی ہو چکی تھی ۔ خواہش اپنا قبضہ جما رہی تھی کہ میں جو کہ خود میں بہت ذہین ہوں میں بھی کچھ ایسے وظیفے عمل کروں کہ میرے پاس بھی ماورائی طاقتیں آ جائیں ۔ اور یہ جو میرے محلے کی ماں بہنیں مجھے " سید سردار ۔ سید باشاہ ۔ پیر و مرشد کی سیڑھی چڑھا موقع با موقع گھر بلا دودھ پلا حلوہ کھلا مجھ سے اپنے لیئے آسانی کی دعا کرواتی ہیں ۔ ان کے مسلوں کو حل کروں ۔
اپنے سب بہن بھائیوں میں میں بہت نحیف جسم کا حامل ہوں بہت دبلا پتلا وجود رہا ہے میرا اور کچھ نشے کی علت نے جسم کو بننے ہی نہ دیا ۔ جتنی کلائی دس سال کی عمر میں تھی ویسی ہی اب بھی ہے ۔جسمانی طور طاقتور نہ ہونے کا حل اپنی چرب زبانی میں پایا ۔ اور بادشاہ گر بن جن سے ڈر ہوتا ہوتا تھا انہیں دوسروں کے سر بٹھانے لگا ۔ اور خود ان کا چمچہ خاص ہوتے خود کو محفوظ رکھتے اپنی بادشاہی کرتا رہا ۔
کس قدر عجیب ہوتا ہے اپنی کہانی یاد کرنا ۔ وقت بیتے پل جیسے مجسم کر دیتا ہے ۔
نایاب کے نایاب ہونے کی کہانی جاری ہے
بہت دعائیں

انٹرویو ‏ود ‏سید ‏نایاب ‏حسین ‏نقوی ‏----- ‏حصہ ‏سوم

0 تبصرے
نور سعدیہ شیخ نے کہا: ↑
1) آپ کیسے ہیں؟ کیا مصروفیات ہیں آج کل؟
کرم ہے سچی ذات پاک کا ۔ مزدور بندے کی کیا مصروفیات ۔ مزدوری ہی چلتی رہتی ہے ۔ آج کل چونکہ سپانسر شپ تبدیل کرائی ہے ۔ تو نئی جگہ نئے بندوں سے میل جول میں وقت گزر جاتا ہے ۔ اللہ سوہنا والدہ محترمہ کی مغفرت فرمائے (آمین ) آپ نے تعزیتی دھاگہ کھولا ۔ وقت نے کروٹ لی مجھے کفیل بدلنا بدلتے اک نئی جگہ آنا پڑا جہاں نیٹ کی پابندی نہیں ۔ اور اب آپ کے سوالوں کے جواب میں داستان لکھنے میں مصروف ہوں ۔ شاید کہ اسی طور میں بھی اس نایاب کو جان جاؤں پہچان جاؤں ۔ جس کے بارے آپ نے اس قدر سسپنس سے بھرپور ابتدائیہ لکھا ہے


نور سعدیہ شیخ نے کہا: ↑
2) محفل کی سالگرہ کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟
میرے نزدیک تو اردو محفل اک مدرسے کی مانند ہے ۔ اور ہم سب علم حاصل کرتے علم کی تقسیم کرتے ہیں ۔ ۔ اردو محفل میں ہم رنگ پھول کھلے ہیں اگر کوئی صرف انسانیت کا درس دیتے دہریت کے سردار کا لقب حاصل کیئے ہوئے ہے تو وہیں کچھ ایسی ہستیاں بھی ہیں جنہیں بلا خوف اللہ کا دوست کہا جا سکتا ہے ۔ جن کے لفظوں سے صرف محبت پھوٹتی ہے ۔ احساس جھلکتا ہے ۔ مجھے تو ان دومیں کچھ بھی فرق نہیں دکھتا کہ دونوں میں فقط انسان اور انسانیت سے محبت ہی دکھتی ہے ۔
ہمیں یہاں متحرک رہتے بس یہی خیال رکھنا چاہیئے کہ ہمارے لفظوں سے نفرت فساد انتشار نہ پھیلے
ہم یہاں اپنے لفظوں کا کچھ ایسا ذخیرہ چھوڑ جائیں جو انسان اور انسانیت کی بھلائی کا سبب بنے ۔
اور یاد رہے کہ
جب تک ہے آباد یہ اردو محفل
لفظوں کی صورت ہم بھی زندہ رہیں گے ۔۔۔۔۔
جسم فنا ہوجاتے ہیں ۔ صدا باقی رہ جاتی ہے
ہماری بھی بس صدا ہی رہ جائے گی
دعا یہی کہ سدا سجی رہے یہ اردو محفل

نور سعدیہ شیخ نے کہا: ↑
3) پاکستان میں دورانِ سیاحت کن کن مقامات نے آپ کو تحیر میں لیتے یہ سبق دیا کہ زندگی تو کتنی بڑی معلم ہے؟
کسی نے کہا تھا کہ ہمیں در در نچایا اور پھرایا یار نے ۔۔۔۔۔
میرے پاس یار نہیں تھا نشہ تھا ۔ اور پاکستان کے طول وعرض میں جہاں بھی گیا ۔ بس یہی سوچ آئی کیا فرق ہے تجھ میں کسی بادشاہ میں
کل جہاں بادشاہ کروفر سے دربار لگائے ہوئے تھا تو آج وہاں بیٹھ نشہ کر رہا ہے ۔ کسی بھی مقام کی اپنی کوئی اہمیت نہیں اس کی اہمیئت ہمیشہ اس کے مقیم سے وجود میں آتی ہے ۔۔۔۔ یہ جسم خاکی جس کو بنا سنوار کر شان و فخر سے نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ نمایاں ہونا لمحاتی ہے ۔ اگر اس جسم خاکی میں موجود روح کو بنا سنوار لیا جائے ۔ تو بنا نمایاں ہونے کی خواہش سے ایسے نمایاں ہو جاتا ہے انسان کہ جہاں اس کے قدم پڑیں وہ مقام بھی نمایاں ہوجاتا ہے ۔ اس سے منسوب ہو جاتا ہے ۔
میرے نزدیک تو یہ گزرتا وقت جسے زندگی کہتے ہیں ہر پل اک معلم کی صورت ہمیں اپنے اسرار و رموز سکھا رہا ہوتا ہے ۔
گھڑیال دیتا ہے ہر پل یہ منادی گردوں نے اک گھڑی اور گھٹا دی
میاں محمد بخش رح کیا خوب تنبیہ فرما گئے ہیں
لوئے لوئے بھر لے کُڑیے جے تدھ بھانڈا بھرنا
شام پئی، بن شام محمد گھر جاندی نے ڈرنا
یہ پیغام سب کے لیئے ہے ان کے لیئے بھی جو قدرت پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے لیئے بھی جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔

نور سعدیہ شیخ نے کہا: ↑
4) آپ کی بیٹی جس کا نام غزل ہے ، اسکے بارے میں کیا خواب ہے آپ کا ؟
سیدہ معیدہ فاطمہ میری غزل نایاب
اللہ سوہنا اس سمیت میری سب بیٹیوں کی راہ آسان فرمائے کبھی دکھ نہ پائیں سدا مسکرائیں آمین
میری خواہش بس یہی کہ وہ پڑھ لکھ کر اک ایسی خاتون کی صورت زندگی گزارے جس پر انسان اور انسانیت فخر کرے ۔
میرے پاس اس کے لیئے بہت سی بٹیائیں رول ماڈل کی صورت ہیں جن کی تعلیم جن کی گفتگو جن کا خود پر یقین میرے لیئے انتہائی متاثر کن ہے ۔ میں ان کے بارے اس سے بات کرتا ہوں آپ نے اتنا پڑھنا ہے ایسی شخصیت بننا ہے جیسےاردو محفل پر موجود محترم سیدہ شگفتہ محترم فرحت کیانی محترم عائشہ عزیز محترم ورک صاحبہ محترم صائمہ شاہ محترم بوچھی اپیا محترم نور سعدیہ بٹیا ۔ آپ نے اک اچھی خاتون بننا ہے ۔ ابھی تک تو ما شاء اللہ توقع سے زیادہ اچھا رزلٹ ملتا ہے اس کا ۔ اپنی کلاس کی کیپٹن ہے ۔ اپنی تحصیل میں مقرر ہے ۔ ان شاء اللہ رب سوہنا میری خواہش پوری فرمائے گا ۔
آپ سب پڑھنے والوں سے اس خواہش بارے دعا کی التجا ہے ۔

نور سعدیہ شیخ نے کہا: ↑
6) اگر آپ نے رسمی تعلیم حاصل کی ہوتی تو آج کیا بنے ہوتے ؟
کوئی بہت مشہور و معروف انجینئر کہلاتا ۔۔۔۔۔ مگر یہ میری حماقت و نادانی کہ میں نے سکول کی تعلیم کو کبھی کسی قابل نہ سمجھا ۔ اور اس کی سزا مزدور کی صورت انجیئروں کے تحت مزدوری کرتے پائی ۔
اس پر بٹیا نے سوال کر دینا ہے کہ کیا یہ اللہ کی حکمت تھی کہ سکول سے بھاگے اور سزا پائے۔۔ ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ نے اپنی حکمت کے تحت مجھے اچھا تیز ذہن دیا جو سوچ و خیال و وجدان کے درمیان بہترین ربط قائم کرنے پر قادر رہا ۔ اور میں اس پر غرور کرتے حماقت میں مبتلا ہوگیا ۔ میں نے یقین کر لیا میں سب جانتا ہوں ۔ مجھے سکول و مدرسے کی ضرورت نہیں ۔ بلا شک میں نے زندگی کو اپنی مرضی سے بتاتے ٹھوکریں کھاتے اپنے علم میں مہارت تو حاصل کر لی مگر میرے پاس وہ کاغذ کا ٹکرا نہیں جسے سند کہتے ہیں ۔ اور دنیا کے نظام میں ان پڑھوں میں قرار پاتا ہوں ۔
بلا شک ماں سچ کہتی تھی اس حقیقت کا جب علم ہوا تو بہت دیر ہوچکی تھی وقت گزر چکا تھا ۔ ۔

نوٹ ۔۔ سوالوں کی ترتیب کچھ بدل دی ہے ۔
بہت دعائیں

بدھ، 21 اکتوبر، 2020

سید ‏نایاب ‏حسین ‏نقوی ‏--- ‏انٹرویو ‏حصہ ‏دوم

0 تبصرے
تو جناب ہم یہاں سے سوالات شُروع کرنے لگے ہیں ۔۔ اگر کوئی بھی سوال ایسا ذاتی نوعیت کا ہے جس کے بارے میں بتانے سے گریز کرنا چاہیں گے تو آپ اسے بآسانی رد کرسکتے ہیں

1) آپ کیسے ہیں؟ کیا مصروفیات ہیں آج کل؟
2) محفل کی سالگرہ کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟
3) پاکستان میں دورانِ سیاحت کن کن مقامات نے آپ کو تحیر میں لیتے یہ سبق دیا کہ زندگی تو کتنی بڑی معلم ہے؟
4) آپ کی بیٹی جس کا نام غزل ہے ، اسکے بارے میں کیا خواب ہے آپ کا ؟
5) زندگی تو تعمیر و تخریب کا نام ہے ، آپ کی زندگی کے کون کون سے ایسے ہی واقعات ہیں جن سے گزرتے آپ آج خود کو نایاب حسین کہتے ہیں
6) اگر آپ نے رسمی تعلیم حاصل کی ہوتی تو آج کیا بنے ہوتے ؟
گزشتہ انٹرویو سے ایک سوال

سرگوشی: گزشتہ انٹرویو سے سوال
بہت بچپن ہی سے آوارہ گرد ی کرتے " ملنگوں درویشوں فقیروں " کا لبادہ اوڑھے بہت سی ہستیوں کی صحبت حاصل رہی ۔
دکھی انسانیت کو ان کو " اللہ والا " سمجھتے ان کے پاس آتے اپنی مشکلوں کو بیان کرتے اور دعا کی التجا کرتے جھڑکیاں کھاتے
بہت بار دیکھا ۔ تجسس ہوا کہ یہ لوگ اس مقام پر کیسے پہنچے ہیں ؟ کیا اسم ہے ان کے پاس ۔ ؟
چونکہ ان سے میرا یاری دوستی والا ناطہ تھا ۔ اور میرا وقت ان کے پاس ہی گزرتا تھا ۔ اس لیئے میں ان کی حقیقت سے بخوبی واقف تھا
اور ان کے پہنے لبادوں کی حقیقت بھی مجھ سے مخفی نہ تھی ۔ ان میں اکثر صرف اس دھندے سے اپنے بال بچوں کا رزق تلاشتے تھے ۔ میری نظر میں یہ سب نشئی دھوکہ باز اور ڈھکوسلے تھے ۔ اور خلق خدا کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے تھے ۔
ان میں اک کاغذ چننے والا بھی تھا جس کی واحد مصروفیت سڑکوں پر موسم سے بے نیاز گھومنا اور پھٹے پرانے اخباری کاغذوں کا
جمع کرنا اور انہیں کسی بلند جگہ اکٹھا کر کے باندھ دینا تھی ۔ میں اسے پاگل سمجھتا تھا ۔ کبھی کبھار میں نے دیکھنا کہ کسی درویش ملنگ کے پاس کوئی مرد یا عورت روتے ہوئے اپنی فریاد بیان کر رہے ہیں ۔ تو اس شخص نے اچانک اس مرد یا عورت کو اک لکڑی سے ضرب لگانی اور اسے مجمع سے دور لے جا کر اسے کچھ کہنا اور مارتے اسے بھگا دینا ۔ جیسے ہی وہ فریادی وہاں سے بھاگتا ۔ سب مجمع اس بات پر اتفاق کرتا کہ اس فریادی کا بیڑا پار ہو گیا ہے ۔ اور یہ حقیقت اپنی جگہ کہ دوبارہ وہ فریادی جب نظر آتا تھا ۔ تو اس کے پاس ان صاحب کے لیئے مٹھائی یا کپڑوں کا جوڑا یا پیسے ہوتے تھے ۔ لیکن یہ صاحب کچھ بھی قبول نہ کرتے تھے ۔ اور کھڑے کھڑے وہ لباس اور وہ مٹھائی وہ پیسے مجمع میں موجود کسی بھی دوسرے کی جانب اچھال دیتے تھے ۔ اور اس فریادی کو کچھ کشمیری پنجابی زبان میں بے ربط سے جملے کہتے تھے ۔ جن کا مفہوم کچھ ایسا ہوتا تھا کہ " اب نہیں بھولنا اور سدا اس کا ذکر کرنا ہے "
میری اس سے بھی دوستی تھی اکثر اسے اپنے پاس بٹھا چائے سگریٹ کھانا کھلاتا تھا ۔ مجھے تجسس تھا کہ یہ کیا تلقین کرتا ہے فریادی کو ؟ اک دن وہ جانے کس موج میں تھے ۔ مجھے اپنی لکڑی سے اک ضرب لگا کہنے لگے کہ ۔
" اٹھ نشئیا ۔ کیوں بزرگاں نوں بدنام کرنا ایں " مجھے بہت حیرت ہوئی کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ۔ اٹھ کر ان کے پیچھے گیا ۔ اور پوچھا کہ سائیں جی خیر تو ہے ۔ کہنے لگے پہلے چائے پلا اور کچھ کھلا ۔ بہت بھوک لگی ہے ۔ میں اکیلا ہی ڈیرے پر تھا ۔ سو ناچار ہوٹل پر گیا چائے اور بسکٹ لایا ۔ انہیں کھلایا ۔ کھا پی کر دیوانہ وار ہنسے اور کہنے لگے کہ " سیدا تو تو سردار ہے ۔ مگر تیری عقل نے تجھے گمراہی میں دھکیل دیا ہے ۔ توبہ کر لے ۔ یہ نشے بازی چھوڑ ماں باپ کی اطاعت کر ، ورنہ بہت دھکے کھائے گا پچھتائے گا ۔ لیکن گیا وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا ۔ بول کیا چاہتا ہے تو ؟ میں موقع غنیمت سمجھا اور کہا کہ ۔ سائیں جی آپ صرف اتنا بتا دیں کہ آپ کیا اسم بتاتے ہیں کہ پریشان حال لوگ خوشی خوشی آ کر آپ کو مٹھائی کپڑے پیسے دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ؟
یہ سن کر پھر قہقہے لگانے لگے ۔ پھر کچھ دیر خاموش رہ کر کہنے لگے کہ " سید تو بہت شاطر ہے " میں بھی اسی شاطری کا شکار ہوتے اجڑا برباد ہوں ۔ یہ کہہ کر وہ اٹھے اور مجھے نلکہ گیڑنے پر لگا کپڑوں سمیت ہی نہانے لگے ۔ خوب اچھی طرح نہا کر گھٹنوں پر بیٹھ گئے ۔ اور
قران پاک کے بارے ذکر فرمانے لگے ۔ کبھی یہ سورت کبھی وہ سورت ۔ مجھے کچھ اکتاہٹ ہونے لگی تو کہنے لگے کہ ۔ سیدتو جو تجسس میں گمراہ ہو چکا ہے تو بس یہ اک کلمہ یاد کر لے ۔ اس کے ذکر سے تیرا بھی بھلا ہو گا اور ان کا بھی جن تک یہ کلمہ پہنچے گا ۔
"اللہ نورالسماوات و الارض " 1977 میں چودہ سال کی عمر میں سنا یہ کلمہ آج بھی (جبکہ پچاس کے قریب ہوں میں )اسی جوش و جذبے سے روشن ہے ۔ اور بلاشبہ اس کے ذکر کو بہت بابرکت پایا ہے ۔
نماز چاہے گنڈے دار ہی کیوں نہ ہو ئی
آیت الکرسی
سورت الحشر کی آخری سات آیات
یا اللہ یا رحمان یا رحیم یا کریم یا ذوالجلال و الاکرام انی مغلوب فا انتصر
رب زدنی علماء
اللھم صلی علی محمد و علی آل محمد و بارک وسلم
آوارہ گردی کرتےان ہی کلمات پاکیزہ کو پایا ہے ۔ اور ان ہی کا مبلغ ہوں ۔

7۔ آپ اس فقیر درویش کے بارے میں ہمیں مزید تعارف دے سکتے ہیں؟ وہ کون تھے ، آپ کو کیسے جانتے تھے جو آپ کو اتنی نصیحتیں کردیں ؟ ان کلمات میں ایسا کیا راز ہے جو چودہ سال کی عمر سے اب تلک اپنایا ہوا ہے؟

8۔ زندگی میں محبت کی ناکامی نے آپ کو کیا سبق دیا ؟
9 ۔ کس شاعر کے کلام سے متاثر ہیں؟ اور کیوں؟
10۔
سرگوشی: گزشتہ انٹرویو سے سوال
حقیقت ہے کہ میں نے کبھی بچپن میں ایسا مجرم بننا چاہا تھا جو قانون کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہے ۔
چور کیسے تالے توڑتے ہیں ۔ ؟
جیب تراش کیسے جیبیں کاٹتے ہیں ؟
منشیات کے سمگلر کیسے سمگلنگ کرتے ہیں ۔ ؟
اس کے بارے تجسس تھا اور ان شعبوں سے منسلک افراد سے گہری دوستی رکھتے ان کو عملی صورت دیکھتے اپنے تجسس کی تسکین کی ۔
لیکن یہ کرم اللہ کا کہ سوائے نشہ کرنے کے کوئی دوسرا جرم میرے ہاتھوں وقوع پذیر نہیں ہوا ۔میرے اللہ نے مجھے محفوظ رکھا ۔
اب تو بائیس سال گزر چکے ان لوگوں سے دور رہتے سعودیہ میں اپنی حماقتوں کی سزا پاتے لیکن شاید
اکثرلاہور و راولپنڈی کے تھانوں میں " مشکوک " افراد کی فہرست میں شاید میرا نام اب بھی موجود ہو ۔
میری محترم بہنا لوگ آتے ہیں اپنے اپنے گھروں میں بیتنے والے ڈرامے مجھے سناتے ہیں ۔
اور آپ جانیں ہی کہ " حقیقت ڈرامے سے زیادہ دل چسپ ہوتی ہے ۔ "

کیا یہ صرف نشہ کرنے کی وجہ سے تھا یا اسکے پیچھے کوئی اور بات بھی تھی؟


سرگوشی: گزشتہ انٹرویو سے سوال
عمران کا کردار ابن صفی کے قلم سے ابھری اک ایسی شخصیت ہے ۔ جو ہر لحاظ سے کامل ہے ۔ مگر اس میں اک کجی ہے ۔ جو کہ اس کردار پر لکھے گئے ناولز کو پڑھنے پر ہی کھل سکتی ہے ۔ میرا مجرم بننے کا شوق کسی حد تک ایسی سوچ کا حامل تھا کہ کوئی بھی مجھے پکڑ نہ سکے ۔ عمران جیسے سراغرسانوں کو بھی چکر دے دیا کروں ۔ شکر ہے کہ یہ شوق عمل درآمد سے پہلے ہی دم توڑ گیا ۔ اور" نایاب "بننے کی سوچ نے اسیر کر لیا ۔ اس اسیری نے مطالعے اور گفتگو میں ایسی مہارت کا حامل کر دیا کہ میرے اپنے بھی مجھ سے دور دور ہی رہنا مناسب سمجھنے لگے ۔
ایسے ہی اور بہت سارے احمقانہ شوق مجھے اپنا اسیر کیئے رکھتے تھے ۔
جنوں سے دوستی کر لوں ۔
ٹیلی پیتھی سیکھ لوں ۔
ہمزاد قابو کر لوں ۔
نجومی بن جاؤں ۔
پامسٹری سیکھ لوں ۔
اور یہ میرے رب کا فضل کہ مجھ پر مہربان رہا
اور میرے بہت سے شوق و خواب کو تکمیل و تعبیر کی
منزل تک پہنچاتےمجھےمجرم بننے سے بچا لیا ۔۔

11۔آپ نے یہ سب کیسے حاصل کیا ، ٹیلی پیتھی سیکھنا تو ہر شخص کا شوق رہا ہے مگر اکثر کامیاب نہیں ہو پاتے ،

12 ۔ کچھ اس داستان سے پردہ تو اٹھائیے کہ منزل تک پہنچاتے مجھے مجرم بننے سے بچا لیا

سرگوشی: گزشتہ انٹرویو سے سوال
اک ڈرائیونگ نہیں آتی محترم بہنا
باقی تمام علوم سے حسب منشاء استفادہ حاصل کرتے اس سچے اللہ سمیع العلیم کا شکر ادا کرتا ہوں ۔
جس نے مجھے ان علوم کو سمجھنے کی توفیق سے نوازا ۔۔۔
ان علوم میں کامل ہونے کا درجہ رکھنے والے کس صورت حال کا شکار ہوتے ہیں اس کی وضاحت اک مختصر واقعہ سے ۔
سن 79 کی بات ہے یہ ۔ ہم کچھ آوارہ دوستوں نے مل کر ریلوے کی زمین پر قبضہ کرتے اک ڈیرہ بنا رکھا تھا ۔
منشیات کے عادی اور درویشی کے لبادے اوڑھے ملنگ اور کچھ بے سہارا بے خانماں ضعیف العمر بزرگ
اس ڈیرے کو اپنے آرام و سکون کے لیئے استعمال کرتے تھے ۔ ان میں اک شخصیت " ویلے تایا " کی بھی تھی ۔
میلے کچیلے رہنا نہ کبھی نہانا نہ کبھی منہ ہاتھ دھونا ۔ جگے تایا کہلاتے ڈیرے پہ خاموش بیٹھے رہتے وقت پاس کرنا ۔
ہم دو دوست اس ڈیرے کے روح رواں کہلاتے تھے ۔ اور ہمارا زیادہ وقت یہاں ہی گزرتا تھا ۔
اس لیئے سب ڈرامے باز قسم کے لوگ ہمارے سامنے کھلی کتاب تھے ۔
اک دن میرے دوست " یاسین بھٹی " نے کہا کہ شاہ جی
" ایس ویلے تایا بارے جاندے او ؟ اے کی شئے اے ؟"
میں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس بوڑھے کو گھر والوں نے نکال دیا ہے اس لیئے یہاں پڑا رہتا ہے ۔
کہنے لگا کہ نہیں مجھے علم ہے کہ اس بابے کے اگے پیچھے کوئی نہیں ہے ۔ اور یہ اپنے ہاتھ دیکھنے کے فن میں کبھی کامل کہلاتا تھا ۔
صدر ایوب تک اس کی پہنچ تھی ۔ لیکن پھر جانے کیا ہوا کہ یہ نشے میں ڈوب گیا ۔ اور آوارگی کرتے زندگی گزارنے لگا ۔
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ۔ سو اب تایا جی پر نظر رہنے لگی ۔ جب کبھی اکیلے ہونا تایا جی کو چھیڑنا انہیں بات کرنے پر مجبور کرنا ۔
ان کی سپیشل خدمت کرنی ۔ آہستہ آہستہ ان سے بے تکلفی ہو گئی ۔
ہم چونکہ اس زمانے میں نئے نئے عشق کے اسیر ہوئے تھے ۔ اور اپنے عشق کے انجام بارے متفکر رہتے تھے ۔
اک دن کسی ایسی ہی سوچ میں مبتلا اپنے دھیان میں گم تھا ۔ یکبارگی جو نگاہ اٹھی تو دیکھا کہ
تایا جی میرے ہاتھ پر نظر جمائے ہوئے ہیں ۔میں ویسے ہی کچھ پریشان تھا چھوٹتے ہی تایا جی سے کہا کہ
ویلے تایا جی کدے ساہنوں وی کج دس دیو کہ کی بنے گا ساڈھا " یہ سن کر ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ
" سید بادشاہ اک عمر گزرے گی تیری اس آوارگی میں " لیکن اک دن تو راہ پر آ جائے گا ۔
عشق تیرا تجھے وہ ضرب لگائے گا کہ تو اپنے اس تجسس کی اسیر سب ذہانت و چالاکی بھول جائے گا ۔
اور کچھ ایسی حقیقتوں سے آگہی دی جو کہ سو فیصد درست تھیں ۔ اب جب وقت ملنا ان سے اسی پامسٹری کے موضوع پر
بات چیت ہونے لگی ۔ تایا جی بہت پڑھے لکھے وسیع علم کا حامل نکلے ۔ اک دن میں نے اس سے کہا کہ
تایا جی آپ کو کیا مشکل ہے جو آپ اتنے گندے رہتے ہیں نہ نہاتے ہیں نہ منہ ہاتھ دھوتے ہیں ۔
کتنی بو آتی ہے آپ میں سے ۔ لوگ آپ کے پاس بیٹھتے بھی نہیں ۔
یہ سن کر روانے لگے اور کہنے لگے کہ سید کیا بتاؤں تجھے میرا یہ منہ ہاتھ دھونا اور نہانا کیوں چھوٹ گیا ۔۔
اس ہاتھ دیکھنے کے علم نے جہاں مجھے بے انتہا عزت دی وہیں ایسی اذیت بھی دی کہ
اس سے ملی سب عزت بھی گئی اور اذیت عمر بھر کا ساتھ بنی ۔
ات چیت ہونے لگی ۔ تایا جی بہت پڑھے لکھے وسیع علم کا حامل نکلے ۔ اک دن میں نے اس سے کہا کہ
تایا جی آپ کو کیا مشکل ہے جو آپ اتنے گندے رہتے ہیں نہ نہاتے ہیں نہ منہ ہاتھ دھوتے ہیں ۔
کتنی بو آتی ہے آپ میں سے ۔ لوگ آپ کے پاس بیٹھتے بھی نہیں ۔
یہ سن کر روانے لگے اور کہنے لگے کہ سید کیا بتاؤں تجھے میرا یہ منہ ہاتھ دھونا اور نہانا کیوں چھوٹ گیا ۔۔
اس ہاتھ دیکھنے کے علم نے جہاں مجھے بے انتہا عزت دی وہیں ایسی اذیت بھی دی کہ اس سے ملی
سب عزت بھی گئی اور اذیت عمر بھر کا ساتھ بنی ۔
میں جب اپنا ہاتھ اٹھاتا تھا منہ دھونے کے لیئے ۔ تو میرے ہاتھ کی لکیریں مجھ پر ہنستی تھیں ۔
مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی اس آگہی سے گزرنا پڑتا تھا میرا کوئی چاہنے والا تو اک بار مرتا تھا مگر مجھے اس کے نہ مرنے
تک بار بار مرنا پڑتا تھا ۔ مجھے میرے ہاتھ کی لکیریں میرے آنے والے وقت کو جیسے مجسم کر دیتی تھیں ۔
میں نے ان لیکروں سے آگہی پاکر اپنے والدین اپنے بیوی بچوں کی موت
کب کیوں کیسے ہو گی کو جان کران کی موت تک کتنی اذیت پائی ہے ۔
کہ مجھے ہاتھ اپنے سامنے کرتے ڈر لگتا تھا ۔
اللہ سچے نے انسان سے ان تمام باتوں کو چھپا رکھتے انسان پر اپنا فضل کر رکھا ہے ۔
ایسے علم جو " غیب " سے مطلع کرنے سے منسوب ہوں ان میں کاملیت حاصل کرنے کی خواہش گویا
اپنے آپ پر آگہی سے بھرپور دروازہ کھولنا جیسا ہے ۔
" غیب کا علم صرف اللہ کو ہی سزاوار ہے ۔ "
ان تایا جی ہی سے کچھ پامسٹری کے علم کا اکتساب کیا ۔
کامل تو نہیں ہوں مگر خاندان والے ہی کیا اک زمانہ مجھے ہاتھ دکھا اپنے خوابوں میں گم ہوجاتا ہے ۔
اور میرے لیئے چائے پینے کا سبب

ا13۔ ویلے تایا جی کا کردار بہت ہی دلچسپ ہے ، انہوں نے آگہی کے عذاب پر پچھتاوا جھیلا تو آپ نے اس عذاب پر کیسے قدرت حاصل کی ؟ آگہی تو مسلسل عذاب ہے جبکہ نا تو آپ کے مزاج میں چڑاچڑاہٹ ہے ناہی آپ کو غصہ آتا ہے ، شاذ و نادر ہی کوئی ایسا شخص ملے گا جسکو غصہ نہ آئے مگر آپ سے بات کرتے محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو غصہ نہیں آتا

14۔ محفل پر آپ کی کون کون سی پسندیدہ شخصیات ہیں؟

15۔ آپ خود کو اپنے آئنے میں کیسا پاتے ہیں؟ آپ میں کیا خوبیاں ہیں جو آپ کو ممتاز کرتی ہیں اور کیا خامیاں ہیں جن سے آپ دور رہنا چاہتے ہیں؟

16۔
سرگوشی: گزشتہ انٹرویو سے سوال
پاکستان میں 1990 تک رہا ہوں ۔
دولتالہ ۔ مری ۔ راولپنڈی ۔ لاہور ۔ ڈسکہ ان جگہوں پر بکھری ہوئی ہے داستان میری ۔
ان کے علاوہ " جئے شاہ نورانی " درگاہ سے لیکر " پیر بابا " درگاہ سوات تک
یعنی کراچی سے لیکر سوات تک شاید ہی کوئی درگاہ ایسی ہوگی جہاں میں نے کچھ راتیں نہ بتائی ہوں ۔
پاکستان میں آوارگی کی ملی سزا یہاں " سعودی عرب " میں مزدوری کرتے پوری کر رہا ہوں ۔


آپ کی زندگی کی کہانی ویسی ہی ہے جیسے میں کوئی افسانہ یا ناول پڑھ رہی ہوں ، مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آپ نے زندگی افسانوں والی جی ہے تو کچھ نہ کچھ زیاں کا احساس بھی ستاتا ہوگا تو کہیں کوئی کامیابی خوشی بھی دے جاتی ہوگی ۔۔ آپ نے سیاحت میں زندگی گزاری ہے ۔۔ ابھی تو آپ ان جئے شاہ نوارنی اور پیر بابا کے بارے میں ہمیں آگا ہ کردیں اور ساتھ میں ہوسکے تو کچھ چیدہ چیدہ واقعات بھی سنادیں جن سے ہمیں کوئی آگہی حاصل ہو ۔ کیونکہ آپ کی زندگی تو مکمل داستان ہی ہے

17۔
سرگوشی: گزشتہ انٹرویو سے سوال
تاریخی عمارتیں مجھے مسحور کر دیتی ہیں ۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتا ہوں ۔
میری سوچ و وجدان جب اس عمارت کی تعمیر کی جانب رواں ہوتے ہیں تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ
یہاں اپنی زندگی بتانے والے میرے آس پاس ہیں اور مجھے اپنی کہانیاں سنا رہے ہیں ۔
صحرا ۔۔۔۔۔۔۔
چودھویں کی رات اور صحرا کی تنہائی
اس منظر اور کیفیت کو الفاظ میں بیان کیا ہی نہیں جا سکتا میری بہنا
سمندر ۔۔ جانے کیوں مجھے سمندر کبھی کشش نہیں کرتا ۔۔

آپ دو ایسے واقعات سنادیں جن سے آپ کو لگے کہ یہاں اپنی زندگی بتانے والے میرے آس پاس ہیں اور مجھے اپنی کہانیاں سنا رہے ہیں ۔

18۔ اگر آپ مولانا شمس تبریزی سے ملتے تو کیا ان سے خواہش کرتے ؟

19۔ کبھی زندگی میں آپ کے بولے گئے سچ نے آپ کو تکلیف دی ؟

20 ۔ آپ کو سعودی عرب کے علاوہ کسی اور ملک کی سیر کا شوق ہے

بقیہ سوالات ان جوابات کے بعد آپ سے مزید بھی کروں گی ۔۔۔فی الحال کے اتنا ہی

محترم ‏سید ‏نایاب ‏حسین ‏نقوی ‏سے ‏باتیں ‏--- ‏حصہ ‏اول ‏

0 تبصرے
السلام علیکم! میں ہوں آپ کی میزبان نور سعدیہ اور میرے ساتھ ہیں محمد عدنان ، مریم افتخار، فہد اشرف اور حمیرا عدنان، جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے محفل کی سالگرہ کا کیک بھی کٹ چکا ہے اور انٹریوز کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے ۔ میں اسی مناسبت سے اسٹیج پر ایک ایسی ہستی کو مدعو کرنے جارہی ہُوں جن کے اخلاق و گفتار کی محفل گواہ ہے ۔ گوکہ ان کا انٹرویو پہلے ہوچکا ہے مگر محفلین ان کے بارے میں مزید جاننے کے خواہاں ہیں ۔ ان سے باتیں کرنا ایسا ہی ہے جیسے آئنے سے باتیں کرنا ہے ۔۔اسی حوالے سے انہی کی بات

آئینے کے سو ٹکڑے کر کے ہم نے دیکھے
اک میں بھی تنہا...... ہزار میں بھی اکیلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئینے سے باتیں کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تو آئینہ اکثر ہی یہ سوال کرتا ہے ۔
تو کہ اپنی ذات میں اک انجمن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر اس قدر تنہا کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

ان کی زندگی بہت دلچسپ رہی ہے ، جن صاحبان نے ان کا گُزشتہ انٹریو نہیں پڑھا ہے وہ اسکو پھر سے پڑھ لیں کیونکہ ان کو جاننے کے بعد مزید جاننے کا تجسس پیدا ہوتا ہے ۔ ان کی زندگی کو پڑھیں تو معلوم ہوتا ہم کسی کہانی کے کردار کا مطالعہ کر رہے ہیں ۔ ان کو سپر ہیومین بننے کی خواہش بھی رہی ہے اور واقعات و حالات سے لگتا ہے کہ شاید یہ اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں ۔ کیا یہ اپنی زندگی کے ہیرو ہیں؟ ہیرو ہونا کسی احساسِ زیاں کو جنم دیتا ہے ؟
محترم محمود غزنوی نے ان کی خدمت میں ایک شعر نذر کیا تھا ، یہی ان کی شخصیت کا مکمل عکاس ہے 

لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں ، منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہلِ زمانہ قدر کرو، نایاب ہیں ہم ، کمیاب ہیں ہم

یہ سوالات تو ہم ان سے باتیں کرکے ہی جان سکیں گے ۔۔ان سے باتوں کروں تو لگتا ہے علم کا وسیع دریا معجزن ہے جبکہ ان کی زندگی میں رسمی تعلیم کا نام و نشان ہی نہیں ۔ جی تو ہم سب کے من و ذہن میں بہت سے سوالات کلبلا رہے ہوں گے ، آئیے ہم بھرپور تالیوں سے ان کا استقبال کریں ۔۔۔ ہمارے ساتھ محفل کی ہردلعزیز شخصیت ہیں نایاب صاحب

اتوار، 18 اکتوبر، 2020

مکالمہ ‏--- ‏حصہ ‏نمبر ‏۱

0 تبصرے
 نور:  اس  مکالمے کو شُروع کرنے کا مقصد روحانی سفر پر گفتگو ہے اور اس بارے میں محترم سید نایاب حُسین صاحب کیا تحریر  فرماتے ہیں اس سے روشنی پانا.ہے ...

سید نایاب حسین:  میں تو خود روشنی کی تلاش میں تمام عمر سفر میں رہا، اب بھی اس کی تَلاش میں ہوں!  کہاں میں اور کہاں میرا علم. جسے خود نور کی جستجو ہو، اس کے لفظ کیا روشنی دیں گے ـ بلاشک، اللہ نور السماوات والارض ... اس کائنات میں دینے والی ذات ایک ہی ہے جو بانٹ رہی ہے، دے رہی ہے ذات اقدس محمد محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو. وہی ذات بانٹ رہی ہے رحمت!  وما ارسلنک الا رحمت للعالمین. ویسے کیا عجب کھیل ہے زندگی .. موج ہے دریا میں، بیرونِ دریا کچھ نَہیں .. کس کے جلوے میں کی تلاش میں ہیں؟ ظاہر میں ملتا ہے اسکا جلوہ، وہ خود کہاں ہے؟ 

نور:  آپ کے علم کی روشنی تو پھیلی ہوئی ہے ... تلاش ہم جیسے خام کو ہوتی ہے کامل ہونے کی ... آپ کی بات سے اتفاق ہے کہ سارا سفر باطنی ہوتا ہے ... جلوہ ظاہر میں ہو تو نہیں پاتا مگر باطن کی آنکھ تو دیکھ سکتی ہے نا؟ خدا کا جلوہ کیسے ممکن ہے؟  کیا کرنا چاہیےاللہ کے اس پھیلاؤ ....اللہ نور  السماوت پر کچھ روشنی ڈالیے تاکہ کچھ ہمیں علم مل سکے ـ نور کی حقیقت کیا ہے؟  کیا عرش پر ممکن ہے جانا؟اپنے علم سے فیض یاب کیجیے تاکہ جواب سے دل کو تشفی ہو

سید نایاب حسین:   میں اک کمزور و عاجز بندہ ہوں، جسکا علم ابھی خام ہے.انسان بننے کا سفر جاری ہےـ وہ سچا سمیع العلیم ہے،  سب علوم اس کی جانب سے ہیں ـ اولادِ آدم و حوا نے جب حرفوں کی بنت سے لفظ جوڑ اپنی سوچ کو بیان کرنے کا ہنر سیکھ لیا، تو عجب اک حقیقت سامنے آئی وہ جو ذرا سا بھی عقل رکھتا ہے اس کے پاس اک ہی سوال تھا ــ 

میں کون ہوں؟
میری حقیقت کیا ہے؟ 
یہ میں جو خود میں اک جہاں لیے پھرتا ہوں .. اسکی حقیقت کیا ہے؟
اسکی منزل کیا ہے؟
اس حقیقت کی کھوج ہی روشنی کے سفر کی بنیاد ہے 
کچھ نے کہا:  زندگی اور کچھ بھی نہیں فقط کچھ عناصر میں ظہور ترتیب ـ 
کچھ نے پایا کہ دانا خاک میں مل کے گل و گلزار ہوتا ہے 
مادہ فنا ہوتا جاتا ہے اور روح تقسیم ہوتی جاتی ہے ـ مادیت و روحانیت کے درمیان ربط تلاش کرنا ہی روحانی سفر ہےـ وہ جس کا جلوہ ہر سمت ہے،  وہ خود کہاں ہے؟ اب اس بارے گفتگو کے دو دائرے ہیں:  ایک بحثیت مسلمان،  ایک بحثیت انسان!  یہاں اک سوال سامنے آتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں یا انسان؟