بدھ، 31 مارچ، 2021
ہفتہ، 27 مارچ، 2021
جمعہ، 26 مارچ، 2021
جمعرات، 4 مارچ، 2021
بدھ، 3 مارچ، 2021
پیر، 1 مارچ، 2021
جمعرات، 25 فروری، 2021
اتوار، 21 فروری، 2021
جمعہ، 1 جنوری، 2021
نشست نمبر۱
نشست اوّل:
بابا سے پہلی ملاقات سے اخیر تک ، انٹرنیٹ اک میڈیم رہا ۔ میری ان سے ذاتی طور پر ملاقات کبھی نہیں ہوئی مگر روح کو کب کسی میڈیم کی طلب ہوتی ہے ... یوں تو میرا ان سے کبھی وٹس ایپ ، کبھی فیس بک پر ، کبھی کسی اور میسنجر پر سلسلہ گفتگو رہا ۔"انٹر۔نیٹ" تو بس اک واسطہ/medium تھا، اس واسطے نے پہلی ملاقات کا ذریعہ بننا تھا ۔ Intranet بننے کے لیے۔ وگرنہ یہ ازل کا ساتھ کسی واسطے کا محتاج نہ تھا ، نہ ہے اور نہ رہے گا۔ روحوں کے سنگم ، تال میل اور کیمسٹری کو سمجھنا کسی رابطے کی سائیٹ کے لیے ممکن نہیں ہے ۔
اج دی گل نئی رانجھن یارا
میں ازلوں تیرے نال منگی آں !!!
میری شاہ بابا سے چند نشستیں اس پہلی 'باقاعدہ' نشست سے قبل بھی رہیں تھیں، اس پہلی نشست کو پہلی کہنے کی وجہ یہی ہے کہ یہ نشست خود میری اپنی ''دعا '' کا ثمر تھی۔ رب بندوں کی سنتا ہے اور شاید وہ درد بھی اس لیے عطا کرتا ہے. جب میرا پیمانہِ دل درد سے بھرپور ہوا تب شدت ِ دردنے مجھے تھام کے خدا کے حضور کردیا اور میں نے اس کے قدموں میں بیٹھ کے مناجات کیں تھیں ....
یا خدا ..
اب بس کردے
کوئی تو مسیحا ساتھ کردے
دُکھاں توں ہاری آں مولا
کوئی تے ہووئے، جیہڑا دل دے قفل کھولے
سن لے تو سوہنیا،
تُو نہ سُنی تے فیر مولا کس نے سننا!
مسیحا تو وہ سیاہی چوس ہوتا ہے جو سارے دُکھ جذب لے. ذہنی الجھنیں اس قدر زیادہ تھیں کہ سوچ کے سب دھاگے بار بار الجھ کر رہ جاتے.
یہ دُعا ماہِ مبارک کی طاق رات کو رو رو کے مانگی تھی. یقیناً اُس رمضان المبارک کی طاق رات کی گھڑیوں نے مجھے مبارک کردیا وگرنہ میں کہاں؟ کیا میری اوقات تھی ایسی؟
نہیں ..! نہیں ..! نہیں ..!
میری اوقات ہرگز نہیں تھی مگر اس لج پال نے لاج رکھ لی!
!
جس رات میں نے دُعا مانگی، اسی رات "message " کی آواز گڑگڑاہٹ و شدت نے سُن لی اور موبائل کے اس میسج میں کشش نے پردہ چاک کیا ...!
خدا ہے
ازل سے ساتھ ہے
احساس بھی ہے
پہچان نہیں ہے
وہ اپنے نمائندوں کو بھیجتا ہے
ہمیں احساس تک ہونے نہیں دیتا کس نمائندے سے ہمیں کیا ملے گا
یہ بندے جو ہمیں چلتے پھرتے کچھ دے جاتے ہیں، یہ اس کے نمائندے تو ہوتے ہیں
کچھ پیامبر ہوتے ہیں
کچھ رسول ہوتے ہیں
نہ یہ ظاہر کرتے ہیں، نہ خدا ظاہر کرتا ہے ... پردہ رہتا ہے
بابا کا میسج چَمک رَہا تھا، محبت چَمک رہی تھی اور روشنی نے بابا کو سامنے مجسم کردیا. بظاہر میں میسج پڑھ رہی تھی مگر میں ان کو دیکھ رہی تھی گویا یہ روبرو ملاقات کے جیسی تھی. یہ ان کا کوئی کمال تھا جسے مجھ جیسے کم فہم لوگ سمجھ نہیں سکتے یا سمجھ بہت دیر سے آتی ہے.
مجھے ان کی آواز سنائی دی اور وہ صدا یوں تحریر تھی.
"محبت کسی سے سرِ راہ یونہی نَہیں ہوجاتی ... اُس کاتبِ اول نے ساتھ لکھا ہوتا ہے .. آشنائی کے اس لمحے کو شناسائی میں کب بدلنا ہے، وہ بھی رقم ہے...! میرے پاس آپ کی امانت ہے اور وہ لوٹانے آیا ہوں ...! "
میں حیرت زدہ ...!
ابھی تو میں سراپا اشک کناں تھی ..،
اب سراپا حیرت!
دل نے سوال تب کیا تھا یہ کون ہیں؟
میں نے جراَت نہ کی پوچھنے کی ...، یہ تو مقام ادب تھا ...، بے ادبی کیسے کرتی. .. ! ابھی ہی تو میں نے ان کو دیکھا تھا، میرے اندر سکون و محبت کا احساس ہلکورے لینے لگا اور اشک تھم گئے ..میں حیرت میں گُم ہوگئی اک معصوم بچے کی طرح ...! یہ ملاقات کسی ایسے کمرے میں تھی جہاں سامانِ زیست نَہیں تھا. فرشی نشستیں تھیں .. سامنے شاہ بابا تھے، وہاں ہر منظر دھواں دھواں اور خوشبو گلاب کی پھیلی ہوئی تھی .. . میں بابا کے سامنے سیاہ چادر اوڑھے بیٹھی تھی اور وہ سفید لباس میں روشنی کا مرکز بنے تھے، میں نے سوال کیا ...
" کیا واقعی محبت ایسے ہوجاتی ہے؟ آپ نے تو مجھے دیکھا بھی نَہیں، مجھ سے بات تک نَہیں کی ...!
بابا نے مسکرا کے مجھے دیکھا اور سمجھاتے کہنے لگے
" پتر، روح کو جاننے کے لیے کِسی مادے واسطے کی ضرورت نَہیں ہوتی ہے .. محبت کا جذبہ ازل سے دِل کی کائنات بَنا ہے اور ایک جیسی کشش والی ارواح کو یہ پہچان ہوجاتی ہے ... یہ کشش / محبت "پہچان " ہی ہے ... "
وہ صیحح کہتے تھے کہ ایک جیسی ارواح کشش سے بچ نہیں سکتی تھی. میں نے اپنے دِل میں اس قدر کشش محسوس کی کہ دِل تھامنا پڑا. میں نے دل میں جاری جنگ صورتِ سوال اُنکے سامنے رکھدی
" بابا...!
یہ امانت کیا ہوتی ہے؟
میں نے کبھی آپ کو کچھ نَہیں دیا ...!
میں تو آپ کو جانتی تک نَہیں ...!
پھر آپ نے کیا لوٹانا ہے؟ "
بابا اب آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے اور ان کے قلب سے روشنی مجھے کچھ ایسی محسوس ہوئی کہ مجھے لگا یہ روشنی اک آنکھ کی سی صورت مجھ پر نِگاہ رَکھے ہوئے ہے ...
" امانت کے بارے میں اللہ نے قران پاک میں سورہ الحشر کی آخری آیات میں کیا خوب فرمایا ہے
لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ} سورة الحشر،
اگر یہ امانت (قران پاک) کسی پہاڑ پر نازل فرماتا تو وہ اس کی ہیبت سے دب جاتا...
اللہ کے ہاں "امانت " کا مطلب کچھ اور ہے . جس کو یہ امانت ملتی ہے اس پر لازم ہوتا ہے کہ اسکو سچے حقدار تک پُہنچائے ...
میں مزید حیرت میں چلی گئی گویا ڈوب گئی اور کسی معصوم سے بچے کی مانند سوال کیا
" آپ کو کیسے علم ہُوا، میں حقدار ہوں؟ "
شاہ بابا: آپ کی تحریر سے ... ..!
تحریر مجھ پر عیاں ہوتے "صورت " بَنا دیتی ہے
یہ وہی صورت ہے، جس کے بارے میں یہ روایت مشہور ہے
خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ
اسی صورت سے جہاں کو دیکھو تو ہر شے کی صورت بہ رنگِ تجلیات و اسماء الہی منور ہو ہی جاتی ہے اور جاننے والا جان لیتا ہے جو اسے جاننا ہو ...
اس لیے خالق نے فرمایا ہے
فثمہ وجہ اللہ
جس جانب منہ پھیرو، "میری" صورت/ میرا چہرہ ہے. یعنی کہ ہر جانب اس کی جلوہ گری ہے
میں ہونق بنی یہ سب سن رہی تھی. مجھے اس کی سمجھ نہیں آئی تھی ... میں نے پوچھا
"اچھا، تو آپ کوئی روحانی بندے ہیں؟ "
شاہ بابا: ہم سب روحانی ہیں، ہم سب روح لیے ہیں...
" میری تحریر میں ایسی کیا بات ہے جس سے آپ کو اندازہ ہوا؟ مجھے تو خود اس کی خبر نہیں "
شاہ بابا: اب تو میں بھول گیا وہ کونسی تحریر تھی. جب یاد آئے گا تو اس پر بات کروں گا
میں ایسے بابا کی صدا کو آواز کی صورت میں سن رہی تھی جیسے بیٹھی تو میں ان کے قریب ہوں مگر آواز کسی دور کنواں سے آرہی ہوں .. وہ کنواں اس من مندر کی دنیا میں کہاں سے آگیا...! دِل کی دنیا عجیب ہوتی ہے یہاں آواز کنواں تک لیجاتی ہے اور کنواں بے نام و نشان رہتا ہے. یہاں خوشبو آتی ہے، کبھی گلاب تو کبھی موتیے تو کبھی کسی پھول کی. اس رنگ و بو کی دنیا کے نظارے میں اس کی کیا حکمت ہوتی ہے یہ رب جانے اور اس کا کام. میرے پاس تو کسی سوال کا جواب نہیں تھا. میں اتنی صراحت سے بیان کردہ گفتگو کو سن تو رہی تھی مگر ان الفاظ کی چاشنی کو ہی محسوس کر پائی تھی. مجھے اس وقت کچھ سَمجھ نَہیں آیا تھا ... شاید درون کی سمجھ اس نامعلوم دائرے کی جانب لیجاتی ہے جہاں پر اپنی ذات " نا معلوم " ہو جاتی ہے. بقول شاعر:
پتہ لگائے کوئی کیا میرے پتے کا پتہ
میرے پتے کا پتہ ہے کہ لاپتہ ہوں میں
(بیدم وارثی)
میری پیاسی زمین کو محبت کے " آب حیات" سے ایک قطرہ ملا تھا ،بارش کی وہ پہلی بوند تھی جو دل پر گری اور لگا کہ دنیا جل تھل ہوگئی ۔۔۔
بابا جانتے تھے وہ مجھ سے بات کیوں کر رہے ہیں ، انہیں کیوں مجھ تک بھیجا گیا ہے مگر میں نہیں جانتی تھی. مجھے الجھن محسوس ہوئی تھی بُہت زیادہ .. میں رمضان المبارک کے روزے رکھتی تھی، پورا سال قران پاک نہیں پڑھتی تھی مگر اس ماہ تو پڑھ لیا کرتی تھی بلکہ race لگاتی تھی .. اللہ سے race کہ دیکھو اس ماہ میں اتنے ختم کرلیے. دیکھ لو ! میں نے کتنا زیادہ پڑھ لیا ... نَماز تو ویسے قضا ہوجاتی تھی مگر ماہِ رمضان میں کبھی کوئی نماز قضا ہو جائے ... سب ملنے والوں کو فخر سے بتایا کرتی تھی کہ میں نے اتنے "ختم " کیے. کبھی کبھی دل میں خلش سی جاگتی اور میں اس خلش کو سُلا دِیا کرتی تھی. مجھے دُنیا کی رنگینی بُہت پرلطف لگا کرتی تھی .... وہ مجھ سے امانت کی بات کر رہے تھے اور انسان کو خالق نے " ظلوما جھولا " کہا ہے. شاید میری یہی نادانی تھی جس کا مجھے علم نَہیں تھا جو پہلے سے جانتا ہو، وہ بھاگ جاتا ہے. جو نادان ہو وہ اٹھالیتا ہے..
گزشتہ قسط کا ربط
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2811409795853569&id=100009537288172'
میں اور شاہ بابا
اسے کہانی کہا جائے۔ آپ بیتی، تن بیتی، عشق بیتی یا تلاشِ حق کا سفر۔ میں خود اسے کچھ نام دینے سے قاصر ہوں اور اس کا فیصلہ پڑھنے والے پر چھوڑتی ہوں کہ وہ اس میں سے کیا اخذ کرتا ہے۔ میں اپنے طور دیکھوں تو شاید ابھی تک ان راہوں کو پورے سے نہیں اپنا سکی جیسا میرے مُرشد نے حکم دیا۔ لیکن کوشش مستقل جاری ہے اور ان کے حکم کے مطابق جاری ہی رہنی چاہئیے۔
ہاں کچھ امانتیں ہیں جو انہوں نے میرے سپُرد کیں کہ میرا مادی سفر ختم ہونے پر آپ حقداروں کو لوٹانا ہوں گی۔ یہ کاوش ہے مرشد پاک کے اس حکم کی تعمیل میں جس میں میرا کوئی کمال نہیں۔ جتنا جلد ہوسکے آپ لوگ اپنی اپنی امانتیں وصول کیجئیے۔ جس کے لیے جو ہے اسے وہی سمجھ آئے گی کچھ نہ سمجھ آئے تو سمجھ لیجئیے وہ آپ کے لیے تھا ہی نہیں۔ جو سمجھ آئے بس اسے ہی تھام لیجئیے۔
ہم میں سے اکثر راہِ حق کے متلاشی کہتے ہیں کہ کاش مجھے مرشدِ کامل مل جائے۔ اس کے لیے وہ در در جھانکتے ہیں، ہر جگہ کی خاک چھانتے ہیں۔ کبھی کسی کے روحانی چھابڑے میں ہاتھ مارتے ہیں کبھی کہیں کی ونڈو شاپنگ کررہے ہوتے ہیں۔ کبھی کسی در کا نمک چکھ کر تھُو کردیتے ہیں کہ یہ تو کڑوا ہے یہ میرے ذائقے کا نہیں۔ یہ ایسا نہیں یہ ویسا نہیں۔ درحقیقت ایسا یا ویسا باہر کچھ نہیں ہوتا سب اپنے اندر ہوتا ہے۔ آپ طالبِ صادق بنیں اس عشق کی نگری میں کنواں خود چل کر پیاسے کے پاس آتا ہے۔
یہاں کنواں خود اپنے پیاسے کا پیاسا ہوتا ہے۔ ہاں کنویں کی بھی پیاس ہوتی ہے کہ آؤ اور مجھ سے پانی بھر بھر پیو سیر ہوجاؤ تاکہ میرے سینے کو بھی قرار مِلے۔
جیسے رومی نے راز افشا ہونے پر شمس سے کہا کہ مُجھے آپ کی تلاش تھی تو شمس نے کہاں میں تو خود کب سے تیری تلاش میں سرگرداں تھا کس در کی خاک نہیں چھانی۔ مگر اب تم مجھے مل گئے ہو۔ اب امانتیں لوٹانے کا وقت ھے۔
یہ کہانی بھی کچھ ایسے ہی چھُپے آبِ حیات کے چشمے کی ہے جو چل کر میرے پاس آگیا۔ میں سمجھی میں نے اسے ڈھونڈا یا وہ مل گیا لیکن اس نے مجھے ڈھونڈ نکالا۔ میری روحانی تشنگیاں اور کمیاں کجیاں دُور کیں۔ اور سب سے پہلے مجھے بتلایا کہ اصل مُرشد الرشید ہے۔ مقصد اگرراہِ ہدایت پانا ہے تو سچے طالب بن کر اس کے در پہ آؤ
اگرراہِ ہدایت کے "متلاشی" ہو تو سچے طالب بن کر اس کے در پہ آؤ وہ تمہیں کسی راز آشنا کے حوالے کردے گا۔ راز آشنا کے قرب میں رہنا بھی راز آشنا ہونا ہی ہے۔ راز، راز میں ہی بھلے لگتے ہیں کھُل جائیں تو عذابِ آگہی کے سِوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
کہتے ہیں اللہ کی تلاش کسی اللہ والے کے در پر ہی لے جاتی ہے۔ اللہ کے گاہک کو 'مرد' کہا جاتا ہے۔ یہی مردانگی ہے اصل حق "الحق" کی تمنا اور اس پرقائم ہوجانا۔ جسمانی صنف اس میں حقیقت نہیں رکھتی۔
دَر دَر دی دُر دُر نالوں دُر بن جا اک دَر دا
صاحب معاف کرے تقصیراں تے رہ جاوے کُج پردا
اس پردے دا اوہ دَر ضامن جس دَر دا توں بَردا
بلھے شاہ جے پھریئے دَردَر فیر صاحب معاف نہ کردا
کسی ایک در پر اپنا آپ تیاگ دو۔ آوارہ نفس/جانور کے حصے لوگوں کا چھوڑا یا پھینکا گند مند ہی آتا ہے۔ جبکہ ایک کھونٹے سے بندھے ہوئے کو بڑے مان سے رکھا جاتا ہے۔ اس کے ہر دُکھ درد کی دوا کی جاتی ہے الغرض ہر طرح سے اس کا خیال رکھا جاتا ہے۔ وہ ہر وقت اپنے 'مالک' کی نظر اور دھیان میں ہوتا ہے۔ لہٰذا جہاں سکون ملے وہیں بیٹھ جاؤ وہیں کہیں اللہ ہے یا اللہ کی رحمت اُتر رہی ہے۔ کیونکہ بابا کہتے ہیں سکون صرف اللہ میں ہے۔ جہاں اللہ ہے وہاں سکون اور جہاں سکون ہے وہاں اللہ۔ اب اللہ جہاں سے مِلے اس جگہ پہ ٹھوکر نہیں مارنی چاہے وہ کسی کنجری کا کوٹھا ہی کیوں نہ ہو۔ سب اس کو وارا کھاتا ہے تو تم کون ہو اس کی مخلوق اور ان کے اعمال تولنے والے۔
کُن والے کی مرضی ہے جہاں سے بھی بولے۔ کہیں سے بھی جھانکے کسی بھی رنگ میں دِکھے۔ یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے معاملات میں مالکِ کُل ہے مختارِ کُل ہے۔
انٹرنیٹ جسے رابطوں کی دنیا کہا جاتا ہے۔ اک جہانِ حیرت جہاں نیکی بدی اچھائی برائی وقتی تعلقات ہر لمحہ جنم لیتے اور اپنی موت مررہے ہوتے ہیں۔ جہاں بہت سوں کو راہ مل رہی ہوتی ہے وہیں بہت سے 'گُم راہ' بھی ہورہے ہوتے ہیں۔ راہیں تو راہیں ہیں۔ راہ غلط نہیں ہوتی ہم غلط ہوتے ہیں۔
میں بھی پیاسی در در بھٹکتی اس جہانِ حیرت میں ڈوبتی اُبھرتی رہتی۔ اندر پارے کی مانند چھلکورے لیتی اک بے قراری تھی جو وقتاََ فوقتاََ لکھنے پر مجبوری کرتی رہتی اور میں قلم کے ذریعے اس درد کو اس رابطوں کی دنیا میں اسکرینوں پر پھیلا دیتی۔ لوگ واہ واہ کرتے سر دھُنتے مگر۔۔ اپنی یہ حالت تھی
" کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ مِلدا"
اک روز مل ہی گیا۔۔
یونہی چلتے چلتے
ہاں چلتے چلتے یونہی کوئی مل گیا تھا۔۔ یونہی کوئی۔۔
پھر ایسا مِلا کبھی نہ جُدا ہونے کے لیے
اس نے تھام لیا ہمیشہ کے لیے
چلتی راہیں تھم گئیں
گردشِ دوراں کے نئے باب کھُلنے لگے۔۔ وہ تھا ہی ایسا 'نایاب''
ظالم نے دل کی دُنیا ہی لُوٹ لی۔ اب کہیں خاک کی چادر اوڑھے لیٹا ہے مگر ہر دھڑکن کے ساتھ میرے اندر بھی دھڑکتا ہے۔ واقعی 'فقیر' کو ٹھہراؤ نہیں اس کی ڈیوٹی چلتی ہی رہتی ہے۔ اللہ نے کچھ نفوس صرف اپنے لیے بنائے ہیں شاید وہ انہیں میں سے ایک میرے لیے "آبِ حیات" بن کر آیا اور "رموزِ حیات" سکھا کر پڑھا کر میرے اندر انڈیل کر بے نیازی سے آگے چل دیا۔
وہ نام کا ہی نہیں کردار کا بھی نایاب تھا۔ 'رب' نے اسے واقعی نایاب ہی بنایا تھا۔
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں
وہ میرے لیے بھی 'نایاب' ثابت ہوا۔ وہ ایسا پارس پتھر تھا جس نے چھُو کر مُجھے کندن کردیا اور خود کو وہی پتھر کا پتھر کہتا رہا۔ نہیں میں پتھر ہوں تم کُندن ہو۔ مگر یہ کُندن تو اسی کے لمس کا مرہونِ منت ہے۔
مگر فقیر کہاں مانتا ہے۔
کورا کاغذ تھا یہ من میرا
لکھ دیا نام اس پہ تیرا
: نایاب۔۔ 'سید نایاب حسین نقوی' نام تھا ان کا
نام اور کردار کے سید۔۔ سید یعنی سردار، بادشاہ، سائیں۔۔ میرا روحانی سِر کا سائیں۔۔
میرے ماں باپ نے مجھے جنما اور عرش سے فرش پر لے آئے،،
اس نے مجھے پھر سے جنما اور فرش سے عرش کی راہ دِکھلا دی۔
میں تھا کیا مجھے کیا بنا دیا
مُجھے عشقِ احمدﷺعطا کیا
ہو بھلا حضورﷺکی آل کا
مُجھے جینا مرنا سِکھا دیا
کیا 'فقیر' ایسے بھی ہوتے ہیں؟
کیا 'بابے' انٹرنیٹ بھی استعمال کرتے ہیں؟
لیکن میں بے خبر یہ نہ جانتی تھی کہ وہ علمِ لدُنی سے مالا مال اور نوازے گئے ہوتے ہیں۔ کائنات کا ہر علم ان پر اپنے در وَا کیے ہوتا ہے اور کھُلی کتاب کی مانند خود کو ان کی خدمت میں پیش کیے رکھتا ہے۔
درحقیقت ان کا اپنا 'نیٹ ورک' اتنا سٹرونگ ہوتا ہے کہ وہ کسی ظاہری ڈیوائس کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ جو اصل 'موبائل فون' اور سیٹلائٹ انسان کے اپنے اندر نصب ہے وہ اس سے کام لیتے ہیں۔ مگر ہم جیسوں کے لیے انہیں ہماری سطح پر مجبوراََ آنا پڑتا ہے۔ میرے جیسی بے کار ڈیوائس کو 'ٹیون اپ' کرنے کے لیے۔
نہ جانے وہ کون سا لمحہ تھا جب اس نے درِ دل پر دستک دینے کے بجائے براہِ راست دل میں پھسکڑا مار لیا۔
وہ آیا۔۔
اس نے دیکھا۔۔!
اور فتح کر لیا۔۔۔!!!
اور دے تار 'اللہ' کے ساتھ جا جوڑی۔ ایسی جوڑی کہ دل و دماغ روشن ہوگئے۔ ہاں میں ایسی ہی اندھیر نگری میں ٹامک ٹوئی مارتی جی رہی تھی۔ اس 'لائن مین' نے آکر 'پیار کی کنڈی' ڈالی اور کنکشن جوڑ دیا۔
اس روشنی میں پھر مجھے اپنے حقیقی در و دیوار روشن نظرآنے لگے۔ گندگیاں، غلاظتیں کجیاں سب نظر آئیں تو شرمندہ ہوئی۔ مگر اس نے مجھے شرمندہ نہیں ہونے دیا بلکہ خود مل مل کہ ہر غلاظت دور کر دی۔
تب سے اب تک وہ بتی روشن ہے اس کے نام کی۔ اس نے میرے دل کی مسجد آباد کی اور اس میں اذان پھونکی۔
ابھی بھی وہ اس مسجد کا موذن ہے۔ جاروب کش ہے، متولی ہے، 'الیکٹریشن' ہے۔ کہ جب کبھی لَو ہلکی پڑنے لگے کرنٹ ختم ہونے لگی یا اسپارکنگ ہونے لگے یا بالکل ہی بجھنے کے قریب ہو تو فوری آگے بڑھ کر کنکشن پھر سے مضبوط کرکے تازہ دم کردیتا ہے۔
جمعہ، 18 دسمبر، 2020
شاہ جی سے سوالات و جوابات
فرحت کیانی نے کہا ہے
ممتاز مفتی کی کتاب لبیک پڑھنے کا اتفاق ہوا؟ اگر ہاں تو آپ کا اس پر تبصرہ۔
کیا ہی زبردست مطالعہ و مشاہدہ ہے محترم جناب ممتاز مفتی صاحب کا
" لبیک " بلا شبہ اک استعارا ہے " انسان اور اس کے خالق اللہ " کے درمیان پیار و بے تکلفی کا ۔
میں اپنی ذاتی کیفیت بیان کروں تو جب بھی عمرہ کی سعادت حاصل ہوتی ہے تو
مدینہ منورہ پہنچتے ہی جسم و سوچ پر اک لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے ۔ جسم و جان کی سب طاقتیں
سوچ و فکر و وجدان پر پہرےداری پر صرف ہونے لگتی ہیں ۔ کہیں کوئی گستاخی نہ ہو جائے ۔ کہیں کوئی بے ادبی نہ ہو جائے ۔
اک غیر مرئی " جلال " اپنا اسیر کیئے رکھتا ہے ۔
مگر جب مکہ المکرمہ پہنچتا ہوں تو سوچ فکر و وجدان سب آزادی سے مصروف عمل رہتے ہیں ۔
ایسے ہی لگتا ہے جیسے کوئی بچہ ماں کی گود میں بے فکری سے کھیل رہا ہو
فرحت کیانی نے کہا ہے
اور ایک آخری سوال یہ جو اشفاق احمد، ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب کے 'بابے' ہیں۔
کیا واقعی ایسے بابے ہوتے ہیں؟ ان کو پہچانا کیسے جائے؟
کسی بھی " بابے کے لبادے " میں چھپے حقیقی بابے کی شناخت ہمارا وجدان و ضمیر با آسانی کر سکتا ہے ۔
اگر ہم ذرا غور کرتے ان کے قول و عمل کو پرکھ لیں ۔
اخلاق ۔ انسان دوستی ۔ اپنی ذات کی نفی ۔قربانی ۔ اختیار کے وقت عجز
یہ علامت ہیں کسی بھی اللہ کے سچے بندے کی ۔
آپ کے دستخط میں موجود شعر بھی اک علامت ہے ایسے لوگوں کی
کہ " وہ اپنے حصے کی شمع جلانے میں مصروف " رہتے ہیں ۔ بنا کسی دوسرے کی شمع پر زبان دراز کیئے ۔
فرحت کیانی نے کہا ہے
اتنی دشت نوردی کے بعد ابھی بھی کوئی چیز ہے جو آپ کی توجہ اپنی طرف کھینچتی ہے؟ جیسے تاریخی عمارتیں ، صحرا، سمندر وغیرہ
تاریخی عمارتیں مجھے مسحور کر دیتی ہیں ۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتا ہوں ۔
میری سوچ و وجدان جب اس عمارت کی تعمیر کی جانب رواں ہوتے ہیں تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ
یہاں اپنی زندگی بتانے والے میرے آس پاس ہیں اور مجھے اپنی کہانیاں سنا رہے ہیں ۔
صحرا ۔۔۔۔۔۔۔
چودھویں کی رات اور صحرا کی تنہائی
اس منظر اور کیفیت کو الفاظ میں بیان کیا ہی نہیں جا سکتا میری بہنا
سمندر ۔۔ جانے کیوں مجھے سمندر کبھی کشش نہیں کرتا ۔۔۔۔۔
فرحت کیانی نے کہا ہے
اب تک پاکستان میں کہاں کہاں اور پاکستان سے باہر کن ممالک میں جانا ہوا ہے
پاکستان میں 1990 تک رہا ہوں ۔
دولتالہ ۔ مری ۔ راولپنڈی ۔ لاہور ۔ ڈسکہ ان جگہوں پر بکھری ہوئی ہے داستان میری ۔
ان کے علاوہ " جئے شاہ نورانی " درگاہ سے لیکر " پیر بابا " درگاہ سوات تک
یعنی کراچی سے لیکر سوات تک شاید ہی کوئی درگاہ ایسی ہوگی جہاں میں نے کچھ راتیں نہ بتائی ہوں ۔
پاکستان میں آوارگی کی ملی سزا یہاں " سعودی عرب " میں مزدوری کرتے پوری کر رہا ہوں ۔
جمعرات، 17 دسمبر، 2020
ویلے تایا جی
ویلے تایا جی! اک اور اسرار بھری داستان
یہ "کجی" کا کیا مطلب ہے؟؟؟
انسانی شخصیت میں موجود ایسی خامی جو اس کی شخصیت میں موجود تمام خوبیوں کو دھندلا دے ۔
"کجی یا ٹیڑھ " کہلاتی ہے
آپ کسر نفسی سے کام لیتے ہیں جبکہ ماشاءاللہ آپ بہت بہت ذہین اور عالم و فاضل ہیں
اللہ آپکے علم میں اور اضافہ کرے
جزاک اللہ خیراء
اللہ تعالی اس گمان کو حقیقت میں بدل دے اور آپ کی دعا کو شرف قبولیت بخشے آمین ثم آمین
یہ بتائیں کہ جنہیں آپ نے احمقانہ شوق کہا ہے اور جن کا ذکر بھی کیا ہے
ان میں یہ کون کون سے فن آپ کو آتے ہیںِ؟؟؟
اک ڈرائیونگ نہیں آتی محترم بہنا
باقی تمام علوم سے حسب منشاء استفادہ حاصل کرتے اس سچے اللہ سمیع العلیم کا شکر ادا کرتا ہوں ۔
جس نے مجھے ان علوم کو سمجھنے کی توفیق سے نوازا ۔۔۔
ان علوم میں کامل ہونے کا درجہ رکھنے والے کس صورت حال کا شکار ہوتے ہیں اس کی وضاحت اک مختصر واقعہ سے ۔
سن 79 کی بات ہے یہ ۔ ہم کچھ آوارہ دوستوں نے مل کر ریلوے کی زمین پر قبضہ کرتے اک ڈیرہ بنا رکھا تھا ۔
منشیات کے عادی اور درویشی کے لبادے اوڑھے ملنگ اور کچھ بے سہارا بے خانماں ضعیف العمر بزرگ
اس ڈیرے کو اپنے آرام و سکون کے لیئے استعمال کرتے تھے ۔ ان میں اک شخصیت " ویلے تایا " کی بھی تھی ۔
میلے کچیلے رہنا نہ کبھی نہانا نہ کبھی منہ ہاتھ دھونا ۔ جگے تایا کہلاتے ڈیرے پہ خاموش بیٹھے رہتے وقت پاس کرنا ۔
ہم دو دوست اس ڈیرے کے روح رواں کہلاتے تھے ۔ اور ہمارا زیادہ وقت یہاں ہی گزرتا تھا ۔
اس لیئے سب ڈرامے باز قسم کے لوگ ہمارے سامنے کھلی کتاب تھے ۔
اک دن میرے دوست " یاسین بھٹی " نے کہا کہ شاہ جی
" ایس ویلے تایا بارے جاندے او ؟ اے کی شئے اے ؟"
میں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس بوڑھے کو گھر والوں نے نکال دیا ہے اس لیئے یہاں پڑا رہتا ہے ۔
کہنے لگا کہ نہیں مجھے علم ہے کہ اس بابے کے اگے پیچھے کوئی نہیں ہے ۔ اور یہ اپنے ہاتھ دیکھنے کے فن میں کبھی کامل کہلاتا تھا ۔
صدر ایوب تک اس کی پہنچ تھی ۔ لیکن پھر جانے کیا ہوا کہ یہ نشے میں ڈوب گیا ۔ اور آوارگی کرتے زندگی گزارنے لگا ۔
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ۔ سو اب تایا جی پر نظر رہنے لگی ۔ جب کبھی اکیلے ہونا تایا جی کو چھیڑنا انہیں بات کرنے پر مجبور کرنا ۔
ان کی سپیشل خدمت کرنی ۔ آہستہ آہستہ ان سے بے تکلفی ہو گئی ۔
ہم چونکہ اس زمانے میں نئے نئے عشق کے اسیر ہوئے تھے ۔ اور اپنے عشق کے انجام بارے متفکر رہتے تھے ۔
اک دن کسی ایسی ہی سوچ میں مبتلا اپنے دھیان میں گم تھا ۔ یکبارگی جو نگاہ اٹھی تو دیکھا کہ
تایا جی میرے ہاتھ پر نظر جمائے ہوئے ہیں ۔میں ویسے ہی کچھ پریشان تھا چھوٹتے ہی تایا جی سے کہا کہ
ویلے تایا جی کدے ساہنوں وی کج دس دیو کہ کی بنے گا ساڈھا " یہ سن کر ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ
" سید بادشاہ اک عمر گزرے گی تیری اس آوارگی میں " لیکن اک دن تو راہ پر آ جائے گا ۔
عشق تیرا تجھے وہ ضرب لگائے گا کہ تو اپنے اس تجسس کی اسیر سب ذہانت و چالاکی بھول جائے گا ۔
اور کچھ ایسی حقیقتوں سے آگہی دی جو کہ سو فیصد درست تھیں ۔ اب جب وقت ملنا ان سے اسی پامسٹری کے موضوع پر
بات چیت ہونے لگی ۔ تایا جی بہت پڑھے لکھے وسیع علم کا حامل نکلے ۔ اک دن میں نے اس سے کہا کہ
تایا جی آپ کو کیا مشکل ہے جو آپ اتنے گندے رہتے ہیں نہ نہاتے ہیں نہ منہ ہاتھ دھوتے ہیں ۔
کتنی بو آتی ہے آپ میں سے ۔ لوگ آپ کے پاس بیٹھتے بھی نہیں ۔
یہ سن کر روانے لگے اور کہنے لگے کہ سید کیا بتاؤں تجھے میرا یہ منہ ہاتھ دھونا اور نہانا کیوں چھوٹ گیا ۔۔
اس ہاتھ دیکھنے کے علم نے جہاں مجھے بے انتہا عزت دی وہیں ایسی اذیت بھی دی کہ
اس سے ملی سب عزت بھی گئی اور اذیت عمر بھر کا ساتھ بنی ۔
ات چیت ہونے لگی ۔ تایا جی بہت پڑھے لکھے وسیع علم کا حامل نکلے ۔ اک دن میں نے اس سے کہا کہ
تایا جی آپ کو کیا مشکل ہے جو آپ اتنے گندے رہتے ہیں نہ نہاتے ہیں نہ منہ ہاتھ دھوتے ہیں ۔
کتنی بو آتی ہے آپ میں سے ۔ لوگ آپ کے پاس بیٹھتے بھی نہیں ۔
یہ سن کر روانے لگے اور کہنے لگے کہ سید کیا بتاؤں تجھے میرا یہ منہ ہاتھ دھونا اور نہانا کیوں چھوٹ گیا ۔۔
اس ہاتھ دیکھنے کے علم نے جہاں مجھے بے انتہا عزت دی وہیں ایسی اذیت بھی دی کہ اس سے ملی
سب عزت بھی گئی اور اذیت عمر بھر کا ساتھ بنی ۔
میں جب اپنا ہاتھ اٹھاتا تھا منہ دھونے کے لیئے ۔ تو میرے ہاتھ کی لکیریں مجھ پر ہنستی تھیں ۔
مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی اس آگہی سے گزرنا پڑتا تھا میرا کوئی چاہنے والا تو اک بار مرتا تھا مگر مجھے اس کے نہ مرنے
تک بار بار مرنا پڑتا تھا ۔ مجھے میرے ہاتھ کی لکیریں میرے آنے والے وقت کو جیسے مجسم کر دیتی تھیں ۔
میں نے ان لیکروں سے آگہی پاکر اپنے والدین اپنے بیوی بچوں کی موت
کب کیوں کیسے ہو گی کو جان کران کی موت تک کتنی اذیت پائی ہے ۔
کہ مجھے ہاتھ اپنے سامنے کرتے ڈر لگتا تھا ۔
اللہ سچے نے انسان سے ان تمام باتوں کو چھپا رکھتے انسان پر اپنا فضل کر رکھا ہے ۔
ایسے علم جو " غیب " سے مطلع کرنے سے منسوب ہوں ان میں کاملیت حاصل کرنے کی خواہش گویا
اپنے آپ پر آگہی سے بھرپور دروازہ کھولنا جیسا ہے ۔
" غیب کا علم صرف اللہ کو ہی سزاوار ہے ۔ "
ان تایا جی ہی سے کچھ پامسٹری کے علم کا اکتساب کیا ۔
کامل تو نہیں ہوں مگر خاندان والے ہی کیا اک زمانہ مجھے ہاتھ دکھا اپنے خوابوں میں گم ہوجاتا ہے ۔
اور میرے لیئے چائے پینے کا سبب
" حلول ووحدت الوجود والشہود "
یہ مجھے سمجھ نہیں آیا ۔
حلول ۔۔۔۔ اللہ تعالی کا کسی جسم انسانی میں سما جانا
اک مردود فلسفہ ہے
وحدت الوجود ۔۔۔۔ روح کے نفخ الہی کو سب اجسام میں یکساں سمجھنا
اک اختلافی فلسفہ ہے
وحدت الشہود ۔۔۔۔۔۔۔ سب کائناتی اجسام میں خالق کی جھلک دیکھنا
یہ بھی اختلافی فلسفہ ہے
× یہ بتائیں کہ نشے کی لت کیوں اور کن وجوہات کے بنا پر پڑتی ہے؟؟؟
نشے میں مبتلا ہونے کی صرف اک وجہ ہوتی ہے
" فرد کا اپنی معاشرتی روحانی جسمانی خواہشوں کے کسی بھی صورت نامکمل اور نا آسودہ رہنے پر
اسکے شعور میں ابھرنے والی سوچ کی اذیت سے فرار "
اب یہ فرار چاہے شعوری ہو یا لاشعوری بہرصورت فرد کو اک ایسی پناہگاہ تلاش کرنے پر ابھارتا ہے
جہاں وہ اپنی کسی ناآسودگی اور کسی کمتری کے باعث دوسرے افراد کی نگاہوں سے ابھرنے
والی تضحیک و تذلیل سے بچ سکے ۔
اور نشہ اسے یہ پناہگاہ فراہم کر دیتا ہے ۔
نشہ ہے کیا ؟یہ کن کیفیات کو ابھارتا ہے ۔ ؟
" نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل "
نشہ کسی بھی فرد کا کسی بھی صورت کسی شئے کا سہارا لیتے اپنے شعور کو یہ آگہی دینا ہوتی ہے کہ
اس شئے کے استعمال سے اب مین نشے میں ہوں ۔ اور یہ آگہی اس قدر طاقتور ہوتی ہے کہ فرد نشے میں مدہوش دکھتا ہے ۔
اسی مدہوشی میں وہ بیرونی دنیا کے بکھیڑوں میں الجھے بنا اپنے اپ میں ڈوبا باریکیاں تلاش کرتا رہتا ہے
نشہ دراصل انسان میں موجود اس " میں " کو سلا دیتا ہے جو کہ
انسان کو دوسروں کی نظر میں اپنا آپ سنوارنے اور نمایاں کرنے کے مددگار ہوتی ہے ۔
جب یہ " میں " نشے کے زیر اثر ہوتی ہے تو فرد کو یہ پرواہ نہیں ہوتی کہ اسے کون کس نظر اور کس صورت سے دیکھ رہا ہے ۔
اور فرد نشے کے زیر اثر اک یک گونہ مستی اور اپنے آپ میں مگن رہتا ہے ۔
اور اس کی یہ مستی اور اپنے آپ میں مگن رہنے والی کیفیت اسے بیرونی دنیا سے یکسر بے نیاز کر دیتی ہے ۔
کچھ تو نشے کو مجبوری کے عالم میں اختیار کرتے ہیں ۔
اور کچھ اپنے تجسس کی تسکین کے لیئے جب کسی نشہ آور شئے کا استعمال کرتے ہیں ۔
تو وہ جسمانی طور پر اپنے آپ کو عمومی طور سے زیادہ ہشاش باش پاتے ہیں اور اس نشے کے اسیر ہوجاتے ہیں ۔
نشہ اک لعنت ہے کیونکہ یہ فرد کو تو ذہنی طور پر توانا کرتا ہے مگر جسمانی اور معاشرتی طور پر بے انتہا نقصان کا سبب بنتا ہے ۔
جسمانی عوارض تو اپنی جگہ مگر اس کی معاشرتی برائی یہ ہے کہ فرد صرف اپنے آپ میں ڈوبا
ان تمام فرائض سے غافل ہو جاتا ہے جوکہ کسی بھی معاشرے میں موجود انسانوں کے لیئے فلاح کا سبب بنتے ہیں ۔
مخلص لوگوں کی پہچان شاہ جی کی زبانی
نایاب بھائی معصوم اور مخلص لوگوں کی پہچان کیسے ہوتی ہے کہ آجکل تو کسی پر بھی اعتبار کا زمانہ نہیں اور زیادہ اللہ اللہ کرنے والے ہی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ آگے خود ہی سمجھ جائیں
اعتماد اور اعتبار بلا شبہ دھوکے کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے ۔
لیکن اس ڈر سے کہ دھوکہ ملے گا ۔ کسی پر اعتماد اور اعتبار نہ کرنا اپنی جگہ اک غلطی
اور اپنی ذات سے کسی دوسرے کو فائدہ پہنچنے سے روکنے کا سبب
پہچان کوئی بھی نہیں ہے ۔ سوا اس کے کہ جو سچا اور اللہ سے ڈرنے والا ہوگا ۔
وہ کبھی بھی اپنے ظاہری کردار اور شخصیت کو اپنی اس کیفیت کی نمائیش کے لیئے استعمال کرتا نہ دکھے گا ۔ جب ایسے انسان کے پاس تنہائی کی محفل نصیب ہو تو اس کا باطن کھلے گا کہ
اس کی حقیقت کیا ہے ۔؟
ایسے ہی تنہائی میں یہ حقیقت بھی کھل جاتی ہے کہ
" سانپ سانپ " کہتے ڈرانے والا خود کس قدر بڑا سانپ ہے ۔"
اعتماد و اعتبار کرنا اور کسی دوسرے کے ہم پر کیئے جانے والے اعتماد و اعتبار کو قائم رکھنا ۔
درحقیقت اس " جذبہ انس " کی بنیاد اور اہم ضرورت ہوتی ہے جو کہ انسانوں کے درمیان فلاح اور بھلائی کے کاموں کو وسعت دیتے انسانیت کو قائم کرتا ہے ۔
سوری بھائی مجھے ان کے بارے میں نہیں پتہ کہ کون شخصیت ہیں تاریخ میں
کہیں بنو امیہ یا بنو عباس کے دور میں تو نہیں تھے؟؟؟
حسین بن منصور حلاج کے بارے اتنا ہی لکھ دینا مناسب کہ
صوفیا میں یہ ہستی اور اس کے افکار بہت اہمیت رکھتے ہیں
یہ ہستی " حلول ووحدت الوجود والشہود " کے فلسفے کی بانی کہلائی جاتی ہے
اور اکثریت کے نزدیک متنازغہ ہستی ہے ۔
یہ اپنے " سچ " کے اعتراف میں بہت مشہور ہیں اور ان کا نام اکثر
کسی " سچ " بولنے والےپر بطور مثل چسپاں کر دیا جاتا ہے ۔
ان کے بارے اکثر اشعار " اقبال و فیض " نے کہے ہیں ۔
کبھی وقت ملا تو جو اکتساب میں نے کیا ہے ان کے قصے سے
وہ تحریر کر دوں گا ۔
آپ کے خیال میں انسانی فلاح کی ضمانت کس میں ہے ؟
انسانیت کا فروغ ۔ اخلاق کی تبلیغ ۔مذہبی آزادی
آپ جناب نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب فتح مکہ کے بعد مکے میں داخل ہوئے
تو سراپا عجز کی علامت بنے فرما رہے تھے کہ
جو شخص ابو سفیان کے گھرمیں داخل ہو جائے وہ امان میں ہے ،جو شخص مسجد الحرام میں پناہ لے لے وہ امان میں ہے ،جو شخص اپنے گھر کے اندررہے اور دروازہ بند کر لے وہ بھی امان میں ہے۔“
یہ نہیں فرمایا کہ آج ہلاکت ہے اس کے لیئے جو اسلام قبول نہ کرے اور یہ " فلاح انسانی " کے وہ مصدقہ اصول ہیں جن پر کاربند رہنے والے انسانیت کو عروج پہ پہنچا دیتے ہیں
اور یہ کس سے مخفی ہے کہ جب تک امت مسلمہ ان اصولوں پہ کاربند رہی اسلام عروج کی بلندی تک پہنچا اور جب امت مسلمہ نے ان اصولوں سے روگردانی شروع کی زوال دروازے تک آن پہنچا
خود نوشت: سید نایاب حسین نقوی
شاہ جی کا نظریہ ء اعتماد
تعبیر محترم کے کیے گئے سوالات
آپ کو نہیں لگتا کہ ہر بات بتانے والی نہیں ہوتی؟؟؟
سچ تو یہ ہے کہ ہر آدمی کا سچ الگ ہوتا ہے اور ہم سے مختلف ہوتا ہے
سچ تو سچ ہی ہوتا ہے میری بہنا
لاکھ چھپاؤ اک دن کھل جاتا ہے ۔
تو کیا فائدہ کچھ چھپانے کا ۔
ہر بات دو یا دو سے زیادہ انسانوں کے درمیان ہوتی ہے ۔
اس بات کی بنیاد " اعتماد و اعتبار " ہوتی ہے
اور اس اعتماد و اعتبار کی صرف اک ہی پکار ہوتی ہے کہ
آپس میں کچھ نہ چھپایا جائے ۔ سچ وہی چھپائے جانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
جو کسی صورت ہماری شخصیت و کردار کی کجی سے منسلک ہوں ۔
اور ان کے افشاء ہونے سے ہمیں شرمساری کا سامنا کرنا پڑے
سچ صرف وہی چھپانا بہتر جس سے انتشار و افتراق پھیلنے کا اندیشہ ہو ۔
کسی انسان کو بلا وجہ نقصان نہ پہنچے ۔
ایسے سچ غیبت کے درجے میں آتے ہیں ۔
تعریف کروانا چاہتے ہیں نا نایاب بھائی
تعریف تو اس سچے خالق حقیقی کو ہی سزاوار ہے ۔ محترم بہنا
یاد ہے آپکو آپ نے ایک بار مجھے کہا تھا کہ میں بال کی کھال اچھی اتارتی ہوں
آج بھی میں یہی کام کرنے لگی ہوں
بال کی کھال اتارنا بھی اک فن ہے اور بہت کم اس فن میں ماہر ہوتے ہیں
اور بلاشبہ آپ مہارت رکھتی ہیں ۔
خود نوشت: سید نایاب حسین نقوی
شاہ صاحب سے کیے گئے سوالات
آپکی داستان کافی حیرت انگیز اور کسی کہانی جیسی ہے ۔اچھی خاصی کتاب لکھ سکتے ہیں آپ
اک زمانہ یہ کہتا ہے اور ہم سو جائیں گے کسی دن اس داستان کو کہتے کہتے
لکھنا نہیں آتا ورنہ لکھ ڈالوں تجسس میں الجھے خود پہ گزرے کرب کی داستان
سوال لازم ٹھہرتا ہے اور جواب میں کھلی کتاب ہوں میں
× کن لوگوں پر رشک آتا ہے؟؟؟
ایسے لوگوں پر جو بظاہر عام سے مسکین صفت سادہ سے لگتے ہوں ۔
عام لوگ انہیں پاگل دیوانہ کے لقب سے پکارتے ہوں ۔
لیکن ان کی محفل میں بیٹھ کر جب ان کی گفتگو سنو تو
ان کا حرف حرف کرن کی طرح اجالا اور لفظ لفط خوشبویں بکھیرتا محسوس ہو۔
کسی سے اتنا متاثر ہوئے کہ اسی کو فالو کرنے کو دل کیا ہو ؟؟؟
جناب نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
جناب علی علیہ السلام
جناب حسین علیہ السلام
جناب زینب علیہ السلام
یہ بلند و پاک ہستیاں تو میری روح میں سمائی ہیں
اور ان کو فالو کرنا میری آخرت کے لیئے نفع بخش ہے ۔
میں ان کی سیرت پاک کو جتنا بھی سمجھ کر فالو کرنا چاہوں
میں عاجز ٹھہرتا ہوں کیونکہ گنہگار ہوں
عام سے وہ انسان جنہوں نے آگہی کے در وا کیے ان میں
بابا بلھے شاہ سرکار
محترم واصف علی واصف
محترم اشفاق احمد
محترم ممتاز مفتی
اک لمبی فہرست ہے کہ جو بھی آگہی کو عام کرے جذبہ انس کو ہمراہ لیئے
اس کا اتباع کرنے پر یہ دل دیوانہ اکساتا ہے ۔
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں
بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا
جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا
×آپکی سب سے بڑی خوبی؟؟؟
بنا کسی تفریق مذہب و ملت و مسلک و رنگ و نسل و رشتہ و خاندان
مظلوم کا ساتھ دینا میرا اصول ہے ۔
×آپکی سب سے بڑی خامی
اصولی بات پر اپنے پیاروں سے بھی علمی عملی کھلے طور اختلاف کرنا
×آپکی پسندیدہ تاریخی شخصیت اور کیوں
"" سقراط "" جس نے ہنستے ہنستے زہر کا پیالہ تو پی لیا ۔ لیکن سچ کو جھوٹ نہ کہہ سکا
منصور بن حلاج ۔ جس نے" انا الحق " کا نعرہ مستانہ بلند کیا
اور کہا اگر مجھے دعوی خدائی کرتے پاؤ تو سولی ہی میری سزا
اور یہی نعرہ " انا الحق " کا لگاتے ہاتھ پاؤں کٹواتے سولی چڑھ گیا ۔
×گناہ کبیرہ اور صغیرہ کے علاوہ آپ کی نظر میں گناہ کیا ہے؟؟؟
وہ سچ جس سے کوئی دوسرا انسان مصیبت میں گرفتار ہو جائے
خود نوشت: سید نایاب حسین شاہ نقوی

























