شاہ بابا اور میرے درمیان بُہت سے ایسے نقاط پر گفتگو رَہی. وہ گفتگو اللہ کی تَلاش و کھوج پر مبنی ایک کھُلی حقیقت ہے.جس کا حُکم مجھے ان سَفر کرجانے کے بعد مِلا.... ان کا حُکم مجھ سے یہ داستان لکھوا رَہا ہے جس داستان کا نقطہ نقطہ محبت ہے. یہ باطنی دنیا کے اسرار کھول دے گی تو کَہیں آپ پر آپ کے ذات کے ایسے ایسے حجابات کو وا کریگی کہ آپ دنگ رہ جائیں گے .......یہ تن بیتی، ہڈبیتی، عشق بیتی بھی ہے اور تلاش حق کا سَفر بھی ..... مرشد و بابا ----- بڑا فرق ہوتا ہے ---- بابا طَریقہ ہوتا زندگی ہے ... مرشد آپ کو حق و سچ کا راستہ بَتاتا ہے مگر اس راستے پر سَفر آپ نے خود کرنا ہوتا ہے ........ بابا سراپا شفقت میں ڈھلا ایسا نورانی پیکر ہوتا ہے جو آپ کے عذاب جھیل کے آپکو آپ کی جنت حوالے کردیتا ہے .... سید نایاب حُسین شاہ نقوی میرے لیے ایسے *شاہ بابا * ہیں ..... میری ہوئی ان کی گفتگو نہ صرف مرے لیے مشعلِ حرم ہے بلکہ یہ مشعل جو میں نے اس کتاب کی صورت پہنچائی ہے یہ جس جس تک پہنچے گی اسکا باطن منور ہوجائے گا ......میں اب بھی اس مشعل سے استفادہ حاصل کرتی ہوں جہاں کَہیں غلطی ہوتی ہے ان کی باتوں کو پڑھتی ہوں .... اس سے مستفید ہوتی ہوں ..... میں خود ابھی ان کے بَتائے گئے طریقوں پر عمل کرنے میں کوشاں ہے. یہ جہدِ مسلسل ہے ...اس ریاضت کو تاعمر جاری رہنا ہے ....
وہ درویش صفت ایک آزاد منش انسان تھے . جن کی زندگی ایک مکمل راز ہے. درویش ایک مکمل راز ہوتا ہے.... ان کو راز کی حفاظت کرنی تھی .... تاہم مجھے یہ ڈیوٹی تھما گئے کہ ان کی زندگی کے ان پہلوؤں کو گفتگو میں لاؤں جس سے انسانیت و آدمیت کا فلسفہ سَمجھ میں آتا ہے ....میں ان کی امانت آپ تک پہنچانے کے لیے یہ کتاب لکھ رہی ہوں ...جس کسی کو اس سے فائدہ ملا، شاہ صاحب اور خُدا کے سامنے میں سرخرو ہوجاؤں گی ....اس لیے اس کتاب میں جس کی امانت ہوئی، وہ اس تک پہنچ جائے گی .... جس کو سَمجھ نہ آئے وہ جان لے یہ کتاب اس کے لیے ہے ہی نَہیں. میں بس ایک پیام کو عام کررہی ہوں .... جس کو اپنے حصے کا پیام ملے وہ اسکو تھام لے .... یہ اس کتاب کا مقصد ہے.....
راہِ عشق کا اصول الگ ہے یَہاں کنواں پیاسے کے پاس چَل کے آتا ہے جیسا کہ رومی کے پاس شمس ..... جیسا کہ اقبال کے پاس رومی کا فیض بول اُٹھا.... یہ فیض کہیں بُکل کا چور بن کے تڑپاتا ہے تو کبھی آئنہ مثلِ شمس بن کے پوری آب و تاب سے کثیف دل کو منور کردیتا ہے ..... جن کا نَصیبہ عشق ہوتا ہے وہ کبھی اللہ والے سے محروم نَہیں رہتے. خُدا خود اُن کو وہ سب عَطا کرتا ہے جس کا اس نے لکھ رَکھا ہوتا ہے ....ہم میں سے اکثر راہِ حق کے متلاشی کہتے ہیں کہ کاش مجھے مرشدِ کامل مل جائے۔ اس کے لیے وہ در در جھانکتے ہیں، ہر جگہ کی خاک چھانتے ہیں۔ کبھی کسی کے روحانی چھابڑے میں ہاتھ مارتے ہیں کبھی کہیں کی ونڈو شاپنگ کررہے ہوتے ہیں۔ کبھی کسی در کا نمک چکھ کر تھُو کردیتے ہیں کہ یہ تو کڑوا ہے یہ میرے ذائقے کا نہیں۔ یہ ایسا نہیں یہ ویسا نہیں۔ درحقیقت ایسا یا ویسا باہر کچھ نہیں ہوتا سب اپنے اندر ہوتا ہے۔ آپ طالبِ صادق بنیں اس عشق کی نگری میں کنواں خود چل کر پیاسے کے پاس آتا ہے۔
یہاں کنواں خود اپنے پیاسے کا پیاسا ہوتا ہے۔ ہاں کنویں کی بھی پیاس ہوتی ہے کہ آؤ اور مجھ سے پانی بھر بھر پیو سیر ہوجاؤ تاکہ میرے سینے کو بھی قرار مِلے۔
جسطرح طالب صادق کی جستُجو اللہ ہوتی ہے بالکل اسی طرح بابا جس کے پاس *اللہ* ہوتا ہے وہ بھی کسی سچے مرید کو امانت حَوالے کرتا ہے تاکہ یہ سلسلہ جس سے زَمانہ جگمگا رَہا ہے وہ جاری و ساری رَہے. اس کے نُمائندے بھیس بھر کے کسی عام آدمی جیسے کسی الیکڑیشن تو کبھی کسی مزدور کی صورت موجود ہوتے تو کَہیں یہ ظاہر میں ڈیوٹی دیتے ہیں .... یہ داستان اک متلاشی کی ہے جس کی تَلاش خدا مگر اس نے تلاش کو جگہ جگہ جا کے عیاں نَہیں کیا. گھر میں بیٹھے خدا سے راز و نیاز کیے .... میں نے انہیں ڈھونڈا نَہیں مگر انہوں نے مجھے ڈھونڈا نکالا ..... میرے درون کو ایسے روشن کیا کہ وہیں میں نے سجدہ شکر کیا ....
خُدا تو ایسے بھی عَطا کرتا ہے
خُدا تو کتنا بَڑا رازق ہے....
کہتے ہیں اللہ کی تلاش کسی اللہ والے کے در پر ہی لے جاتی ہے۔ اللہ کے گاہک کو 'مرد' کہا جاتا ہے۔ یہی مردانگی ہے اصل حق "الحق" کی تمنا اور اس پرقائم ہوجانا۔ جسمانی صنف اس میں حقیقت نہیں رکھتی۔
انٹرنیٹ جسے رابطوں کی دنیا کہا جاتا ہے۔ اک جہانِ حیرت جہاں نیکی بدی اچھائی برائی وقتی تعلقات ہر لمحہ جنم لیتے اور اپنی موت مررہے ہوتے ہیں۔ جہاں بہت سوں کو راہ مل رہی ہوتی ہے وہیں بہت سے 'گُم راہ' بھی ہورہے ہوتے ہیں۔ راہیں تو راہیں ہیں۔ راہ غلط نہیں ہوتی ہم غلط ہوتے ہیں۔
میں بھی پیاسی در در بھٹکتی اس جہانِ حیرت میں ڈوبتی اُبھرتی رہتی۔ اندر پارے کی مانند چھلکورے لیتی اک بے قراری تھی جو وقتاََ فوقتاََ لکھنے پر مجبوری کرتی رہتی اور میں قلم کے ذریعے اس درد کو اس رابطوں کی دنیا میں اسکرینوں پر پھیلا دیتی۔ لوگ واہ واہ کرتے سر دھُنتے مگر۔۔ اپنی یہ حالت تھی
" کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ مِلدا"
اک روز مل ہی گیا۔۔
یونہی چلتے چلتے
ہاں چلتے چلتے یونہی کوئی مل گیا تھا۔۔ یونہی کوئی۔۔
پھر ایسا مِلا کبھی نہ جُدا ہونے کے لیے
اس نے تھام لیا ہمیشہ کے لیے
چلتی راہیں تھم گئیں
گردشِ دوراں کے نئے باب کھُلنے لگے۔۔ وہ تھا ہی ایسا 'نایاب''
ظالم نے دل کی دُنیا ہی لُوٹ لی۔ اب کہیں خاک کی چادر اوڑھے لیٹا ہے مگر ہر دھڑکن کے ساتھ میرے اندر بھی دھڑکتا ہے۔ واقعی 'فقیر' کو ٹھہراؤ نہیں اس کی ڈیوٹی چلتی ہی رہتی ہے۔ اللہ نے کچھ نفوس صرف اپنے لیے بنائے ہیں شاید وہ انہیں میں سے ایک میرے لیے "آبِ حیات" بن کر آیا اور "رموزِ حیات" سکھا کر پڑھا کر میرے اندر انڈیل کر بے نیازی سے آگے چل دیا۔
وہ نام کا ہی نہیں کردار کا بھی نایاب تھا۔ 'رب' نے اسے واقعی نایاب ہی بنایا تھا۔
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں
وہ میرے لیے بھی 'نایاب' ثابت ہوا۔ وہ ایسا پارس پتھر تھا جس نے چھُو کر مُجھے کندن کردیا اور خود کو وہی پتھر کا پتھر کہتا رہا۔ نہیں میں پتھر ہوں تم کُندن ہو۔ مگر یہ کُندن تو اسی کے لمس کا مرہونِ منت ہے۔
مگر فقیر کہاں مانتا ہے۔
کورا کاغذ تھا یہ من میرا
لکھ دیا نام اس پہ تیرا
: نایاب۔۔ 'سید نایاب حسین نقوی' نام تھا ان کا
نام اور کردار کے سید۔۔ سید یعنی سردار، بادشاہ، سائیں۔۔ میرا روحانی سِر کا سائیں۔۔
میرے ماں باپ نے مجھے جنما اور عرش سے فرش پر لے آئے،،
اس نے مجھے پھر سے جنما اور فرش سے عرش کی راہ دِکھلا دی۔
میں تھا کیا مجھے کیا بنا دیا
مُجھے عشقِ احمدﷺعطا کیا
ہو بھلا حضورﷺکی آل کا
مُجھے جینا مرنا سِکھا دیا
کیا 'فقیر' ایسے بھی ہوتے ہیں؟
کیا 'بابے' انٹرنیٹ بھی استعمال کرتے ہیں؟
لیکن میں بے خبر یہ نہ جانتی تھی کہ وہ علمِ لدُنی سے مالا مال اور نوازے گئے ہوتے ہیں۔ کائنات کا ہر علم ان پر اپنے در وَا کیے ہوتا ہے اور کھُلی کتاب کی مانند خود کو ان کی خدمت میں پیش کیے رکھتا ہے۔
درحقیقت ان کا اپنا 'نیٹ ورک' اتنا سٹرونگ ہوتا ہے کہ وہ کسی ظاہری ڈیوائس کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ جو اصل 'موبائل فون' اور سیٹلائٹ انسان کے اپنے اندر نصب ہے وہ اس سے کام لیتے ہیں۔ مگر ہم جیسوں کے لیے انہیں ہماری سطح پر مجبوراََ آنا پڑتا ہے۔ میرے جیسی بے کار ڈیوائس کو 'ٹیون اپ' کرنے کے لیے۔
نہ جانے وہ کون سا لمحہ تھا جب اس نے درِ دل پر دستک دینے کے بجائے براہِ راست دل میں پھسکڑا مار لیا۔
وہ آیا۔۔
اس نے دیکھا۔۔!
اور فتح کر لیا۔۔۔!!!
اور دے تار 'اللہ' کے ساتھ جا جوڑی۔ ایسی جوڑی کہ دل و دماغ روشن ہوگئے۔ ہاں میں ایسی ہی اندھیر نگری میں ٹامک ٹوئی مارتی جی رہی تھی۔ اس 'لائن مین' نے آکر 'پیار کی کنڈی' ڈالی اور کنکشن جوڑ دیا۔
اس روشنی میں پھر مجھے اپنے حقیقی در و دیوار روشن نظرآنے لگے۔ گندگیاں، غلاظتیں کجیاں سب نظر آئیں تو شرمندہ ہوئی۔ مگر اس نے مجھے شرمندہ نہیں ہونے دیا بلکہ خود مل مل کہ ہر غلاظت دور کر دی۔
تب سے اب تک وہ بتی روشن ہے اس کے نام کی۔ اس نے میرے دل کی مسجد آباد کی اور اس میں اذان پھونکی۔
ابھی بھی وہ اس مسجد کا موذن ہے۔ جاروب کش ہے، متولی ہے، 'الیکٹریشن' ہے۔ کہ جب کبھی لَو ہلکی پڑنے لگے کرنٹ ختم ہونے لگی یا اسپارکنگ ہونے لگے یا بالکل ہی بجھنے کے قریب ہو تو فوری آگے بڑھ کر کنکشن پھر سے مضبوط کرکے تازہ دم کردیتا ہے۔










0 تبصرے:
ایک تبصرہ شائع کریں