منگل، 17 نومبر، 2020

بلھا کیہ جاناں میں کون ! قسط نمبر 5

0 تبصرے

بلھا کیہ جاناں  میں کون !: نشست نمبر ۶

 

متلاشی کی سوچ کا دائرہ بدلنے لگا ـ اس کے دِل میں سوالات جنم لینے لگے ـ اک استاد کا کام " سوال کرنا سکھانا " ہوتا ہے اور جواب درون سے ملتا ہے ـ روح،  روح سے ربط رکھتی ہے ـ کیا روح بھی جمع ہے؟  درون میں کل کائنات جمع ہو جائے تو سوالات ہونے چاہیے؟  کونسے سوالات ہونے چاہیے؟

 

متلاشی:  " بلھا کیہ جاناں میں کون؟  اس کے استعاراتی معانی سمجھا دیں ـ کیا بابا بلھے شاہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کون ہیں؟

بلھا کی جاناں میں کون
نہ میں مومن وچ مسیت آں
نہ میں وچ کفر دی ریت آں
نہ میں پاکاں وچ پلیت آں
نہ میں موسٰی، نہ فرعون
بلھا کی جاناں میں کون
نہ میں اندر بید کتاباں
نہ وچ بھنگاں، نہ شراباں
نہ رہنا وچ خراباں
نہ وچ جاگن، نہ سون
بلھا کی جاناں میں کون
نہ وچ شادی نہ غمناکی
نہ میں وچ پلیتی پاکی
نہ میں آبی نہ میں خاکی
نہ میں آتش نہ میں پون
بلھا کی جاناں میں کون
نہ میں عربی، نہ لاہوری
نہ میں ہندی شہر رنگوری
نہ ہندو نہ ترک پشوری
نہ میں رہنا وچ ندون
بلھا کی جاناں میں کون
نہ میں بھیت مذہب دا پایاں
نہ میں آدم حوا جایا
نہ میں اپنا نام دھرایا
نہ وچ بھٹن، نہ وچ بھون
بلھا کی جاناں میں کون
اول آخر آپ نوں جاناں
نہ کوئی دوجا پچھاناں
میتھوں ہور نہ کوئی سیانا
بلھا! او کھڑا ہے کون؟
بلھا کی جاناں میں کون

 

بدھو بابا:  انسان کے باطن میں ہر لمحہ برپا "خود آگہی " بارے کشمکش کا بیان ہے ۔

ہر حساس روح اپنے " خلق " ہونے کی حقیقت کو جاننا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

متلاشی: ( وہ گومگو کیفیت میں لاچار تھی کہ آخر میرے آنے کا مقصد کیا ہوگا ؟ میری حقیقت کیا ہے؟) کیا سادات ِ کرام یہی حقیقت جان سکتے ؟ ہم کیوں جان نہیں سکتے ؟ بلھے شاہ تو سید تھے ، سارے ولی اللہ سادات ِ کرام ہیں ۔

بدھو بابا:  ہمارے نبی پاک ﷺ کا فرمان ہے : کسی گورے کو کسی کالے پر ، کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ۔۔۔ آپ کن سوچوں میں اُلجھ کے راہ کھوٹی کر رہی ہیں ۔۔۔ سب  انسان احساس کے خمیر سے گوندھے گئے اسکی جانب رجوع کرتے ہیں ، اک وقت کے سید نے پہچان کی خاطر نچ کے یار منایا ، کوئی صاحب سالہا سال کنواں میں الٹے لٹکے رہے تاکہ اس کو پہچان سکے ۔ جس دل میں یہ سوال آگیا ، وہ پا گیا ۔۔ بلھے شاہ نے اپنی پہچان پر سوال اٹھایا ہے ۔ انسان کو اللہ نے احسن التقویم پر پیدا کیا مگر اس کے نفس نے اس کو اسفل سافلین تک جا پہنچایا ۔۔ نفس کے مدارج ہیں   ۔۔ معراج پانے والے مصطفی ﷺ اور گرجانے والے شداد و فرعون ۔۔ ان کے مابین انسان سوچ وچار سے تعین کرتا ہے کہ وہ کون ہے

من عرف نفسہ فقد عرف ربہ ۔۔۔۔ جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا اس نے خدا کو پہچان لیا

متلاشی : اللہ نے تو قران پاک میں کہا : الم نشرح لک  صدرک ۔۔ یہ سینہ کیسے کھلتا ہے ؟ نبوت کے بھاری بوجھ کی بات کی ، نبوت کا بوجھ بھاری کیونکر ہوتا ہے؟ اگرچہ میں نہیں جانتی  مگر پھر اللہ نے کہا : ووضعنا عنک وزرک ۔ وہ بوجھ اللہ نے آپ پر سے اتار دیا ۔۔۔  سینہ سے متعلق تو روایات پڑھی ہیں کہ سینہ آپﷺ کا چاک کر دیا گیا تھا ، فرشتوں نے تمام کثافتوں کو نکال کر نور ڈالا تھا ۔۔ میں تو کچھ نہیں جانتی ، بس جو پڑھا ہے ، میں وہی لکھ رہی ہوں

تو سب سے بلند تریں انسان حضور پاکﷺ ہوئے جن کی تیسری خصوصیت ورفعنا لک ذکرک ہے ۔۔۔

سبحان اللہ !

سوال یہ ہے جو نہ اسفل ہے اور اور نہ ارفع ۔۔۔ اس کے ساتھ فضل ہوگا یا عدل؟

کیا ۔۔عرفان ذات یہ ہے ۔۔۔ خود کو غائب تصور کرتے ہوئے اس پاک رب کے پاس حضوری ۔۔۔ یا کچھ اور کیونکہ اول آخر اللہ تعالی ہیں نہ کہ انسان ۔۔۔۔ ازل تا ابد وہی ذات

اور پھر بابا بلھے شاہ کا یہ شعر اس بات کا عکاس کہ انکی ذات میں معشوق بس گیا اس کا رنگ اتنا چڑھ گیا کہ ان کا اپنا رنگ مٹ گیا۔۔یہاں پر معشوق ۔۔مرشد ہیں یا ذات باری تعالی ۔۔۔؟؟ اور اگر ذات باری تعالی ہے تو میں اس کو سمجھوں بابا بلھے شاہ کو ادھر عارف با للہ کا درجہ مل گیا ؟

رانجھا رانجھا کر دی نی میں ، آپے رانجھا ہوئی
سدّو نی مینوں دھیدو رانجھا ، ہیر نہ آکھو کوئی
رانجھا میں وچ ، میں رانجھے وچ ، ہور خیال نہ کوئی
میں نہیں اوہ آپ ہے اپنی آپ کرے دل جوئی
جو کوئی ساڈے اندر وسّے ، ذات اساڈی سو ای
رانجھا رانجھا کر دی نی میں ، آپے رانجھا ہوئی
ہتھ کھونڈی میرے اگے منگو ، موڈھے بھُورا لوئی
بلّھا ہیر سلیٹی ویکھو ، کتھّے جا کھلوئی
جس دے نال میں نیونہہ لگایا ، اوہو جیہی ہوئی
تخت ہزارے لے چل بلھیا ، سیالِیں ملے نہ ڈھوئی
رانجھا رانجھا کر دی نی میں ، آپے رانجھا ہوئی

ہم جیسے لوگ رہنمائی کے طلب گار ۔۔۔ نہ الف کا پتا نہ ب کا

اپنے علم سے مزید مستفید کریں

بدھو بابا:یہ جو آپ نے لکھا ہے ،یہ تو خود اک جواب ہے ۔ سوال کیا ہے ؟ میں تو یہی سوچ رہا ہوں ۔۔۔ آپ کس سے رہنمائی کی طالب ہیں ؟ سب کچھ تو آپ کے اندر ہیں ، تو ایویں ای رولا پایا اے ، چل چھڈ سیاپا !   یہی سوچ ، فکر جب وجدان تک پہنچتی ہے تو جواب لفظ کی صورت حرکت پذیر ہوتے روح رکھتا ہے، اسی طرح سوچنے سے عرفان کے در وا ہوتے ہیں ۔۔۔

متلاشی :   آپ کا بہت شکریہ جو آپ نے میرے سوال کو اہمیت دی ، یہ بتائیے کہ  علم نبیوں کی میراث ہے اور نبیوں کے بعد اللہ کے بندوں کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اس نظم کے بارے میں یہ علم تو نہیں تھا کہ اس میں کوئی استعارہ ہوگا مگر میں نے جاننا چاہا ، جو میں نہیں جانتی تھی ۔۔  میں عجمی ہوں ، جس کو قرانِ پاک کی سمجھ نہیں ہے ، میں یہی سنتی آئی ہوں جس نے قران پاک پڑھا ، اس کو ہر حرف کے بدلے ثواب مل گیا ۔۔ حرف بھی اسطرح کہ '' الم '' میں الف ، لام ، میم تین لفظ ہیں ۔ کیا ہم نے اسکو بس ثواب کی خاطر پڑھنا ہے ؟ مجھے کیوں لگتا ہے قرانِ پاک کی ہر صورت جس میں قسمیں کھائیں گئیں ہیں ، اس میں کوئی نہ کوئی معانی موجود ہیں ۔۔  میرے ذہن میں چند مزید سوالات ہیں جن کو میں لکھ رہی ہوں ۔۔  

  11۔ میرا مقام کیا ہے ، میری شفاعت ہوگی یا میں سزا وار ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری مراد اتنی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں الحمد اللہ اسفل نہیں مگر ارفع بھی نہیں ۔۔۔درمیاں کے لوگوں کے لیے کیا حکم ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھ پر اللہ کا فضل ہوگا یا عدل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

۔ نبوت کا درجہ ایک اعلی درجہ ۔۔۔۔۔،نبوت کا بوجھ ۔۔۔کیونکہ نبوت کی بدولت ارفع مقام کے حق دار ہوئے
بوجھ سے کیا مراد ہے ؟

بابا بلھے شاہ پیدائشی عارف ..عارف اپنی پہچان کے لیے ایسا کیوں لکھے ..؟وہ تو معرفت حاصل کر چکے تھے

 

بدھو بابا: صوفی بزرگ ہمیشہ ملامتی روپ اختیار کیئے رکھتے تھے تاکہ عام لوگ ان کے قریب آتے ان کی بات سنتے کوئی جھجھک محسوس نہ کیا کریں ۔ انہیں اپنی بات کہنے اپنے اشکال بیان کرتے کوئی جھجھک نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔ یہ بھی اک وعظ کی صورت تبلیغ ہی ہے ۔۔۔۔ اللہ واحد و لاشریک کی جانب بلانے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔
بلھا کی جاناں میں کون
بابا بلھے شاہ اپنی ذات کو مخاطب کرتے اپنی شناخت تلاش کر رہے ہیں
انسان کی سوچ اس کے باطن سے مخاطب ہے ۔۔۔

نہ میں مومن وچ مسیت آں
مومن کون ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ ؟
جو اللہ پر یقین رکھے اور اس کے احکامات پر بے چون و چرا عمل کرے ۔۔
مسیت ۔۔ مسجد کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔؟
جہاں نماز کی ادائیگی ہوتی ہے ۔ نماز پڑھتے نمازی کے سامنے دو صورتیں ہوتی ہیں ۔
اک وہ اللہ کے حضور کھڑا اللہ کو دیکھ رہا ہے
دوسرے وہ اللہ کے حضور کھڑا ہے اور اللہ اسے دیکھ رہا ہے ۔
اب وہ " مومن " کیسے ہو سکتا ہے جو مسجد میں کھڑا ہے رکوع و سجود کر رہا ہے ۔
اور ساتھ ہی ساتھ اس کا نفس اسے خواہش میں الجھائے ہوئے ہے ۔ اور جھوٹ فریب دھوکہ کی راہیں سمجھا رہا ہے ۔۔۔۔
سو میں " مومن " نہیں جو کہ اللہ کی مانتا نہیں اور اپنے نفس پر چلتا رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر میں " مومن " نہیں تو کیا پھر میں " کفر " کی راہ پر ہوں ۔۔۔؟

نہ میں وچ کفر دی ریت آں
کافر جس کا مادہ کفر ہے ۔ وہ حق کے جھٹلانے والا ہے ۔
جس نے " لا الہ الا اللہ " کی صدا سنی مگر تسلیم نہ کی اور اعراض کر گیا ۔۔
لیکن میں تو کلمہ پڑھ چکا ۔۔ اللہ کے آخری رسول پہ آئے پیغام کی تصدیق کر چکا ۔۔۔۔۔۔۔
سو میں " کفر " میں تو مبتلا نہیں ہوں ۔۔۔۔
تو کیا میں پاکیزگی کی بجائے ناپاکی میں مبتلا ہوں ۔۔۔۔؟

نہ میں پاکاں وچ پلیت آں
(اسے نہیں سمجھ پایا )
نہ میں موسٰی، نہ فرعون
نہ میں موسی کے درجے پہ ہوں جسے رسالت سے سرفراز کرتے " تبلیغ " کی امانت کا بوجھ دیا گیا ۔۔۔۔۔
نہ ہی میں فرعون ہوں جسے زمانے کے خزانے دیئے گئے اور وہ خود ساختہ رب بن بیٹھا ۔۔۔۔۔۔۔

بلھا کی جاناں میں کون
تو اب کیسے پتہ چلے کہ " میں " کون ہوں ۔۔ میرا فرض کیا ہے ۔ میری تخلیق کا مقصد کیا ہے ۔
مجھے زمین پہ بھیجا کیوں گیا ہے ۔؟

اب یہاں سے مخاطب بدل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے باطن سے خطاب ہو رہا تھا ۔۔۔۔ اب باطن جواب دے رہا ہے ۔۔۔۔۔

نہ میں اندر بید کتاباں
زمانے کی کتابیں پڑھ لے مگر میرا بھید نہ مل سکے گا۔۔۔۔۔۔۔ کہ میری حقیقت کیا ہے ۔۔؟
نہ وچ بھنگاں، نہ شراباں
بھنگ چرس شراب تمام نشے کر کے دیکھ لے مگر بھید نہ مل سکے گا ۔۔۔۔۔
نہ رہنا وچ خراباں
خرابات دنیا میں مگن رہتے تجربہ کر لے میرا بھید نہ ملے گا
نہ وچ جاگن، نہ سون
جاگتے بھی سوچتا رہ اور سوتے بھی خواب دیکھ مگر میرا بھید نہ مل سکے گا ۔۔۔۔۔
بلھا کی جاناں میں کون
بلھے شاہ کیا تو جانا کہ میں کون ہوں ۔؟
نہ وچ شادی نہ غمناکی
خوشی کے عالم میں بھی اور دکھ کی کیفیت میں بھی میرا بھید نہیں ملے گا
نہ میں وچ پلیتی پاکی
ناپاکی اور پاکی میں ڈوبے رہتے بھی میرا سراغ نہ پاسکے گا ۔۔۔۔۔
نہ میں آبی نہ میں خاکی
نہ میں سراپا پانی ہوں نہ ہی سراپا خاک ہوں ۔۔۔
نہ میں آتش نہ میں پون
نہ میں سراپا آگ ہوں نہ ہی سراپا ہوا ہوں ۔۔۔۔۔
بلھا کی جاناں میں کون
تو میں کیا ہوں ۔۔۔۔؟
نہ میں عربی، نہ لاہوری
نہ میں عرب سے ہوں نہ میں لاہور سے
نہ میں ہندی شہر رنگوری
نہ میں ہندی شہر رنگوری ہوں ۔۔۔۔۔
نہ ہندو نہ ترک پشوری
نہ میں ہندو ہوں نہ میں پشاور چھوڑ دینے والا پٹھان
نہ میں رہنا وچ ندون
نہ ہی میں کسی ندون ؟ میں رہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلھا کی جاناں میں کون
تو بلھے شاہ تو کیا جانے میں کون ہوں ۔۔۔؟
نہ میں بھیت مذہب دا پایاں
نہ میں نے کسی مذہب کو اختیار کیا ۔۔
نہ میں آدم حوا جایا
نہ ہی میں آدم و حوا کی اولاد ہوں ۔۔۔۔۔
نہ میں اپنا نام دھرایا
میرا نام اک ہی ہے چاہے کتنے روپ بدلے

نہ وچ بھٹن، نہ وچ بھون
نہ بھٹن کی خانقاہ میں نہ ہی بھون کے مدرسے میں
بلھا کی جاناں میں کون
تو بلھے شاہ کیا تو جانا کہ میں کون ہوں ۔۔۔؟
اول آخر آپ نوں جاناں
ابتدا سے انتہا تک صرف میں ہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
نہ کوئی دوجا پچھاناں
میرا کوئی دوسرا شریک نہیں
میتھوں ہور نہ کوئی سیانا
مجھ سے زیادہ کوئی علم والا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
بلھا! او کھڑا ہے کون؟
بلھے شاہ ذرا دیکھ تیرے دل میں کون قائم ہے ۔۔۔۔؟
بلھا کی جاناں میں کون
بلھے شاہ کیا جانا مجھ بارے میں ہوں کون ۔۔۔؟

لاتطمئن القلوب الا بذکر اللہ
اللہ بہترین ذکر یہی ہے کہ اس کے ذکر میں محو رہتے اس کی مخلوق کے لیئے آسانیاں پیدا کی جائیں ۔۔۔


لیس للانسان الا ما یسعی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کے لیئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جس کے لیئے وہ کوشش کرے ۔۔
تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم ارفع ہونے کی کوشش کریں ۔ مخلوق خدا کے ساتھ بھلائی کریں
رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی سے پیش آئیں ۔
یہ کہاں کی حکمت کہ جب ہمارے پاس ترقی کی راہ موجود ہو تو ہم قناعت کر جائیں ۔۔۔؟
کون اسفل ہے کون اعلی ہے کون ارذل کون ارفع ہے ۔۔۔۔۔۔۔
یہ حساب کے دن کا مالک خوب جانتا ہے ۔۔۔۔
اس کے حساب میں رائی برابر زیادتی اور کمی نہیں ہو سکتی ۔۔

عدل کریں تے تھر تھر کنبن اچیاں شاناں والے ہو
فضل کریں تے بخشے جاون میں جئے منہ کالے ہو

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔
نیک نیت ہوتے نیک مراد ملنے پر یقین کامل رکھنا اک بہتر عمل ۔۔۔
اور حساب کے دن کی مالک سچی ذات تو اپنی مخلوق پر ماں سے بھی ستر گناہ زیادہ مہربان ہے ۔
اس کی صفت رحیمی اس کے غضب پر حاوی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اپنی عاقبت کے بارے فکر کرنا بلاشبہ روشن ضمیروں کی عادت ہوتی ہے ۔
مالی دا کم پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھل پھل لانا لاوے بھانوے نہ لاوے ۔۔
اس شعر کے مصداق اللہ سے ڈرنے والے اس کے ذکر میں محو رہتے مخلوق خدا کے ساتھ بھلائی کیئے جاتے ہیں ۔
اور اجر و ثواب اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔
عرفان ذات ۔۔۔۔۔ وہ حقیقت بھرا احساس ہے جو کہ بیان میں نہیں آ سکتا ۔
جس کو عرفان ذات نصیب ہوجائے ۔۔ وہ شریعت پر عمل پیرا رہتے طریقت اختیار کرتے معرفت کی منزل پہ پہنچ حقیقت سے آشنا ہو جاتا ہے ۔
لیکن وہ اس راز کو بیان کرنے سے قاصر ہوتا ہے ۔۔۔ کیونکہ سرمد و منصور کی طرح راز افشاء کرنے پر اک تو سولی مقدر دوسرے عام انسان کے لیئے گمراہی کا سبب بنتا ہے ۔
عمومی طور پر جسے عرفان ذات ہوجائے وہ خلق خدا سے محبت میں اپنی ہستی مٹاتا دکھ جاتا ہے ۔۔۔۔
وہ انسانوں سے بے نیاز اور اللہ پر یقین رکھنے والا دکھائی دیتا ہے ۔۔۔۔
عرفان ذات باری تعالی کی حقیقت کھول دیتی ہے ۔ اور صاحب عرفان وجود باری تعالی کے مقام کی الجھن سے بے نیاز ہوجاتا ہے ۔
نبوت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اک امانت ہے ۔ اور زمانے کے بوجھوں سے بڑھ کر اک بوجھ
نبی کو حکم ہوتا ہے ۔ تبلیغ کا ۔ بنا کسی جھجھک کسی مصلحت کے ۔
اور یہ فرض بحسن خوبی ادا کرنا آسان نہیں ہوتا ۔۔۔۔
آپ سورت اقراء ،سورت المزمل، سورت المدثر کو رجمہ و تفسیر کے ساتھ پڑھیں
ان شاء اللہ نافع ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔

متلاشی : درِ نایاب ترے در سے ملے ، ترے سنگ ہم جیسے جیسے چلے ، کسی نے پوچھا کبھی ہم سے کچھ ، ترےنام  کی مالا جپتے رہے ۔ تجھے چاہا ، تری بندگی میں ہم انتہا تک چلے ۔ قفس میں رہے مگر نہ رہے ،یہ عجب اڑان کے ہر لمحہ ترے ساتھ رہے ۔ تری بات لگی دل کو ، ہم پھر دل کی لگی میں رہے ۔ ترا شکریہ ادا کریں کیسے ؟ ہم تو شکریے میں تا عمر رہے

بدھ، 11 نومبر، 2020

خورشید مثال شخص کل شام

0 تبصرے

 خورشید مثال شخص کل شام

مٹّی کے سپرد کر دیا ہے

اندر بھی زمیں کے روشنی ہو
مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے​

ہفتہ، 31 اکتوبر، 2020

اے ہمزاد سن !

0 تبصرے

 اے ہمزاد سن !

یہ رفتگی کا حاصل ہے جو ترا چہرہ روشن ہے 
تو پھول ہے ایسے آنگن کا جو عہد ساز ہستیاں لیے ہوئے ہے 
اے ہمزاد سن !
ترے چہرے پر درد کی لکیروں میں اضافہ در اضافہ ہے 
ترا گرمجوش مصافحہ عالی ہمتی ہے
ترا خمیر نسبی نسبی سید 
تو آلِ حسنی حسینی سید 
جانے کتنے جاں بلب حادثے 
جانے کتنی کربلائیں ترا مقدر 
اے مرے ہمزاد سن ! 
چارہ گر کو چارہ ساز نہیں ملتا 
نصیب والوں کو خوشی کا سامان نہیں ملتا 
تو حاصل ہے جانے کتنی ماں کی قربانیوں کا 
تو آلِ نبی ﷺ ، تو اولادِ علی رضی تعالی عنہ ہے 
تری بلندی پر ترے نانا رشک کرتے ہیں 
تو لب مسکرانے کے لیے کھول ،
جانے کتنی صبحیں تری منتظر 
اے ہمزاد ! سن تو سہی فسانہِ درد ! 
تو حریم ریشم میں فولاد 
تو نازِ حسین رضی تعالی عنہ ،تو اولادِ علی رض
ترا دکھ مرے دکھ سے بڑھ کے ہے 
ترا دکھ مرے دکھ سے بڑا ہے 
مسکرا تو سہی 
تو چشم فلک ، تو راحتِ قلب 
یقینا تو ان صبر آزما لمحوں کا پھل ہے 
جو دار عدم سے دار فنا تک تجھ کو کھینچ لائے ہیں 
یہ وقت تجھے زمانہ حال میں روشن ستارہ کہے 
جو راہ چل کے لوگوں کو راہ دکھائے 
مت پریشان ہو 
وقت ترے ساتھ ہے 

جمعرات، 29 اکتوبر، 2020

انٹرویو ود سید نایاب حسین شاہ نقوی 10

0 تبصرے

 انٹرویو ود سید نایاب حسین شاہ نقوی 10

حمد عدنان اکبری نقیبی نے کہا: 


میرے محترم بھائی
میں کون ہوں کیا ہوں ؟ مجھے کس نے اس جہان رنگ و بو میں بھیجا ہے ؟ میں کہاں سے آیا ہوں ؟ مجھے یہاں سے آگے کہاں جانا ہے ؟ میرے یہاں آنے اور وہاں جانے کے درمیان سفر کا مقصد کیا ہے ؟
میرے ناقص علم کے مطابق یہی پانچ سوال اور ان کے جوابات کی تلاش میں قدرت کی جانب سے سامنے آنے والے مظاہر سے مدد لیتے ان کا جوابات کا پانا اور یقین حاصل کرنا ہے کہ ہم نے درست جواب پا لیئے ۔ جو علم ہم نے پایا ہے اسے اپنا عمل بناتے اپنے سفر کو آسان و کامیاب کرنا ہے ۔ یہی علم ہے روحانیت کا ۔ اور یہ براہ راست روح کی کھوج سے ربط رکھتا ہے ۔ تکمیل ایمان جب ہی ہوگی جب ہماری سوچ و فکر عقل اس یقین کو پا لے گی کہ جو ہم نے جانا ہے وہی سچ ہے ۔ اور ہمیں اس سچ پر ہی چلتے فلاح پانی ہے ۔
میرا علمی مشاہدہ ؟ میرے پاس علم ہی کہاں میرے بھائی ۔ میں نے تو بس یہ جانا ہے کہ راہ چلتے رستے میں پڑا کوئی پتھر اٹھا رستے کی اک جانب رکھ دینا اپنے لیئے ہی آسانی پیدا کرنا ہے مستقبل میں کسی بھی حادثے سے بچنا ہے ۔
بحیثیت مسلمان ہمارے پاس اک سچی کتاب موجود ہے جو ہمیں بنا کسی زیادہ مشقت کے ان تمام سوالات کے کافی و شافی جواب فراہم کرتی ہے ۔ اگر ہم قران پاک کے ساتھ ساتھ اسوہ حسنہ بارے اپنا مطالعہ بڑھا لیں اور پانے والے علم کو اپنے عمل میں بدل لیں تو تکمیل ایمان کا درجہ مل جاتا ہے ۔
روحانیت کا علم اس کے سوا اور ہے کیا کہ انساں اور انسانیت سے پیار کیا جائے نفرتوں کو مٹایا جائے سچے خالق کی مخلوق کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں ۔
ایمان کی تکمیل اس کے سوا کیا ہے کہ " اپنے کیئے کی سزا و جزا پانے کا مکمل یقین حاصل کیا جائے "


یہاں یہ نعرہ لگانا کیسا رہے گا ۔۔۔؟
پدرم سلطان بود
نسب ہی کچھ ایسا ہے کہ کسی بھی روحانی سلسلے کے کسی بھی بزرگ نے مجھے اپنی بیعت میں لینے سے معذوری ظاہر کی اور مجھ ٹھگ کو عزت و احترام سے نوازا ۔ ویسے میں اپنے گمان پر مبنی یقین کے بل پر خود کو اویسیت میں پاتا ہوں ۔
پی شراب کھا کباب تے بال ہڈاں دی اگ
بھن سٹھ گھر رب دا اوس ٹھگاں دے ٹھگ نوں ٹھگ
محترم جناب بابا بلھے شاہ سرکار سے غیر اختیاری لگاؤ ہے ۔ جب پنجابی زبان سے اتنا واقف بھی نہیں تھا اس وقت بھی آپ کے کلام میں انجانی کشش محسوس کرتا تھا ۔
ملامتی اور غیر ملامتی ہر دو روحانی بزرگوں میں سے ان سے زیادہ لگاؤ ہے جو انسان اور انسانیت کو مقدم رکھتے ہیں ۔

میرے ناقص علم کے مطابق ۔۔۔۔۔۔
میرے بھائی آپ یہاں اس حقیقت کو شاید بھول گئے جو کہ آپ کی اس تکون کی بنیاد ہے ۔ وہ ہے " وہم " جو کہ سوال پیدا کرتا ہے ۔ کب کیوں کیسےبارے یاد دلاتا ہے ۔ مجبور کرتا ہے کھوج پر ۔۔ پھر سوچ حرکت کرتی ہے شعور لاشعور کو چھاننے لگتا ہے ۔ لا شعور تحت الشعور سے ربط قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو تحت الشعور اور لاشعور کے اس رابطے سے ملنے والی بے ترتیب معلومات غوروفکر کی بھٹی سے گزر اک ترتیب سے نتائج کی صورت وجدان پر اترتی ہیں ۔ شعور تک پہنچ نطق میں ڈھلتی ہیں
میرے ناقص علم میں یہ سب متضاد نہیں بلکہ یہ تمام آپس میں اک دوسرے کی لازم مددگار ہیں ۔ اگر اک بھی اپنا کام درست نہ کرے تو نتائج ہمیشہ مجہول ہوں گے ۔


میرے ناقص علم کے مطابق ۔۔۔۔۔
تصوف نام ہے اپنی حقیقت کو جان لینے کا ۔ اپنے ہونے کے مقصد کو پا لینے کا ۔ جب کوئی حقیقت جان لیتاہے ۔ اپنے ہونے کے مقصد کو پا لیتا ہے تو قدرت اس پر وہ تمام راز کھول دیتی ہے جو کہ انسان اور انسانیت کی بقا کے لیئے لازم ہیں ۔ تصوف خانقاہوں میں قیل و قال کی محفلیں سجانے کا ہی علم نہیں ہے ۔ یہ علم ہے انسانیت کی خدمت کا ۔ زندگی کی جنگ میں مصروف انسان کے لیئے آسانی پیدا کرنے کا ۔ خدا کے بندوں سے پیار کرنے کا ۔ جسے خدا کے بندوں سے ہی پیار نہ ہو وہ خدا سے پیار کرنے کی آگہی کیسے پا سکتا ہے ۔؟

میرا ناقص علم تو یہی یقین کرتا ہے کہ انسانی سوچ لا محدود کی صفت رکھتی ہے ۔ سوچ چونکہ روح سے براہ راست ربط رکھتی ہے ۔ سو نفخ کی نسبت سے اسے لا محدود ہونا ہی چاہیئے ۔

تمام اچھے نام اسی کے ہیں ۔ جس سے چاہو اس کا ذکر کرو اس کا شکر ادا کرو وہ اپنی نعمت بڑھاتے تمھیں اپنے دوستوں میں شامل کر لے گا ۔ اور اس کا شکر ادا کرنے کی بہترین صورت اس کی مخلوق سے پیار کرنا ہے ۔ اس کے حبیب کے اسوہ حسنہ کو اپنا نا ہے ۔ دکھ درد اذیت برداشت کرتے دوسروں کے لیئے آسانیوں کا سبب بننا ہے ۔
باقی قران پاک کی تمام آیات سراسر ہدایت اور قرب حق کا وسیلہ ہیں ۔
روح کا ذکر قلبی ہے دل سے ہے ۔ اور جسم کا ذکر عملی ہے ۔ عمل سے ہے

ایسا انسان جس کی موجودگی میں دوسرے انسان سکون محسوس کریں ۔ جس کا وجود ہمیشہ دوسروں کے لیئے آسانی کا سبب ہو ۔ جس کے وجود سے ہمیشہ دوسرے انسانوں اور انسانیت کے لیئے بھلائی کا صدور ہو ۔ گویا جس کا وجود کلمہ طیبہ کی چلتی پھرتی تفسیر ہو ۔ بقول شاعر " قاری خود نظر آئے قران "

اللہ سوہنا مغفرت فرمائے میرے والد محترم کی
میں ان سے بہت مانوس تھا ۔ اپنے سب اشکال بلا جھجھک ان سے کہہ دیتا تھا ۔وہ میرے اک بہت اچھے دوست رہے ہیں ۔

جہاں تک میرا ناقص مطالعہ ہے نماز پڑھنا الگ حالت ہے اور نماز قائم کرنا الگ ۔ سورت الماعون واضح کر دیتی ہے کہ نماز پڑھنا کیا ہے اور قائم کرنا کیا ۔
نادان گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا ۔۔۔۔ والی نماز لپیٹ کر منہ پر مار دینے کی وعید ہے
اللہ سوہنا ہم سب کو نماز پڑھنے اور قائم کرنے کی توفیق سے نوازے آمین
بلاشک شاعری سچ بولتی ہے بھید اندر کا کھولتی ہے ۔ احساس کو لفظوں میں پروتی ہے ۔ جذبات کو موتی سا دمکا دیتی ہے ۔
میرے محترم نقیبی بھائی علم و عمل ناقص ہے میرا کچھ غلط برا لگے تو رہنمائی کی التجا ہے ۔
بہت دعائیں
میری محترم جاسمن بٹیا
پنجابی کی اک مثال ہے کہ " جیہڑا کپو اوہی لال "
نطق کے حامل انس و انا کے جذبات میں گندھے ہم سب خود میں ایسی ایسی حقیقتوں کو چھپائے ہوئے ہیں کہ جب بھی کوئی بیان کرنے کی ہمت کرے تو فسانہ بھی اپنا فسوں بھلا دے ۔ کہتے ہیں نا کہ حقیقت افسانے سے زیادہ دل چسپ ہوتی ہے ۔
محترم نور سعدیہ بٹیا سے بہت گفتگو رہی ہے اور یہ میری معصوم سادہ دل صاف روح کی حامل بٹیا ( اللہ اس کی سب راہوں کو آسان فرمائے آمین ) میری داستان سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہوئی ہے ۔ اور مجھے یقین بھرا یہ ڈر ہے کہ میرے سفر کر جانے کے بعد اس نے مجھ پر اک کتاب لکھ ڈالنی ہے ۔ وہ سب کچھ بھی لکھ دے گی جو میں خود بھی لکھتے گھبراتا ہوں ۔۔۔
دعا کرتا ہوں کہ اللہ سوہنا میری محترم بٹیا کے گمان کو میرے بارے سچ فرمائے آمین

بہت دعائیں

حاضری ؟ یہ لفظ دو طرح کا مفہوم رکھتا ہے ۔ اک کسی انسان کو ستانے والے جنات یا بھوت پریت یا کالے پیلے نیلے جادو ئی موکلات کو حاضر کرتے ان سے گفت و شنید کرتے انہیں مقبوضہ مقام چھوڑنے پر مجبور کرنا ۔
دوسرے کسی انسان پر اچانک ایسی کیفیت طاری ہوجانا کے وہ ماضی یا مستقبل کے حالات و واقعات غیر ارادی طور پر بیان کرنے لگے ۔ اور اس سے اس کیفیت میں جو پوچھا جائے وہ اس کے بارے درست بات بتائے ۔ اور کیفیت سے باہر آنے کے بعد اسے اس بارے کچھ یاد نہ رہے ۔
مجھے تو جتنی بھی حاضریوں کا تجربہ مشاہدہ ہوا ان میں صنف نازک پر قابض جنات کے نام اکثر اک سے ہی پائے ۔ جیسے " نارسائی کا دکھ " ادھورے پن کا احساس " توجہ سے محرومی " کسی اپنے کی جانب سے جنسی ہراس کا سامنا " خواہشات کا کچلا جانا " معصومیت میں مبتلا چاند پانے کی ضد " نا آسودگی کی اذیت " بے انتہا حسین ہونے کا غرور" شریک حیات سے توجہ الفت کے اظہار کی محرومی " یہاں وہاں سے سنے بے ترتیب وظائف کا ذکر " جمال کی متلاشی جلال کی ذاکر " جلال کی متلاشی جمال کی ذاکر "
اور ان تمام جنات کو اکثر عامل اپنے " لمس اور توجہ " سے بھگا دیتا ہے ۔ لمس اور توجہ بارے تفصیل اک پبلک مقام پر بیان کرنا غیر مناسب امر ہوگا ۔ بس اتنا کافی کہ معصوم کی معصومیت کو اپنے لمس و توجہ سے دھوکہ دیتے اسے نارسائی کے دکھ سے باہر نکالا جاتا ہے ۔ کچھ عامل حضرات اس علاج کی آڑ میں تعویذ دھاگہ جھاڑ پھونک کا ڈرامہ رچاتے اپنے نفسانی مقاصد کی تکمیل بھی کر لیتے ہیں ۔ اور کچھ عرصہ میں جن بھاگ جاتا ہے ۔
جو اللہ سوہنے کا خوف رکھتے ہیں وہ اللہ کے ذکر کو سہارا بناتے امید یقین کی شمع جلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اک اچھے دوست کی صورت اس کی ہر اک بات کو سنتے ہیں توجہ دیتے ہیں ، مریض کا کھویا ہوا اعتماد واپس لاتے ہیں ۔
اس جن کی شناخت یہ ہوتی ہے کہ مریض پر تشنج اور مرگی کے سے دورے پڑتے ہیں ۔ جسم اینٹھ جاتا ہے ۔ دبلی پتلی نازک سی بچی دو تین بندوں کے قابو نہیں آتی ۔ اکثر یہ صرف خود کو ہی نقصان پہنچاتی ہے ۔ اپنا غصہ بے جان اشیاء پر اتارتی ہے ۔ چپ چاپ خاموش رہا کرتی ہے ۔
میرے مشاہدے میں بچیوں پر قابض جو غیر مرئی مخلوق آئی وہ سب ہی نفسیات سے مربط پائی ۔کچھ ایسے کیس ضرور دیکھے ہیں جن میں غیر مرئی مخلوق کی حقیقی پایا ہے ۔ اور اس کی بنیاد میں گیلے بالوں کے ساتھ تیز خوشبولگا مغرب کے وقت کے آس پاس کسی کھلی جگہ میں جانا جہاں اونچے درخت ہوں اور ویرانی پائی جاتی ہو ۔ ایسے کیس 3۔ہ فی صد ہوتے ہیں ۔
صنف کرخت پر قابض یہ غیر مرئی مخلوق اکثر ہی اس صنف کی اپنی غلطیوں اور والدین کی بے جا تنقید کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ یا پھر الٹے وظائف کا شاخسانہ ۔ غیر مکمل چلوں کا اثر ۔بے جا بہادری کے مظاہرے
صنف کرخت پر قابض غیرمرئی مخلوق 40 فی صد میں حقیقی اور 60 فی صد نفسیاتی پائی ہے ۔
ان قابض مخلوقات کو حاضر کرنا کوئی سہل نہیں ہوتا ۔ اگر تو قابض مخلوق ہندو ہے تو آسان ہے اگر قابض مخلوق مسلمان ہے تو لوہے کے چنے حقیقت میں چبوا دیتی ہے عامل کو ۔
یہ دونوں درخت ہندو مذہب میں بہت متبرک مقدس کہلاتے ہیں ۔ اور ان کے عقیدے سے ان درختوں پر غیر مرئی مخلوقات کا بسیرا ہوتا ہے ۔ مردہ جلاتے وقت جب کھوپڑی پھٹتی ہے تو روح نکل کر کسی قریب ترین رشتہ دار میں گھسنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اور اگر رشتہ دار چوکنے ہوتے کھوپڑی پھٹنے سے پہلے ہی اس مقام سے دور ہو جائیں جہاں تک روح رسائی رکھتی ہے ۔ تو پھر وہ روح اپنا بسیرا کسی قریبی پیپل یا برگد کے درخت پر بنا لیتی ہے ۔ طلسم و عملیات کی دنیا میں یہ مانا جاتا ہے کہ ان درختوں کے نیچے کئے جانے والے عمل طاقتور اور با اثر ہوتے ہیں ۔اور یہاں بسیرا کر رہی روحوں کو اپنا موکل بنایا جا سکتا ہے ۔

تاریک کالی رات میں اچانک اک جھماکہ ہو اور سامنے اک سٹیج سجا دکھے جس پر کوئی ظالمانہ متشددانہ ایکٹ چل رہا ہو ۔ کوئی ہمیں دیکھتے ہنستے ہنستے اپنا گلہ کاٹ اپنا سر اپنے ہاتھوں میں لیکر ہماری جانب آنے لگے ۔ کسی کا قد اچانک بڑھنے اور جسم کی ہیئیت پھیلنے لگے ۔ اس کے ہاتھ لمبے ہوتے ہماری جانب آنے لگیں ۔ اک بھیانک سی آواز ہمارے رونگٹوں کو کھڑے ہونے پر مجبور کرنے لگے ۔ کوئی حسین و جمیل صورت آہستہ آہستہ روپ اپنا بدلنے لگے ۔ دانت باہر کو آئیں ہاتھ کے پنجے مڑنے لگیں ۔
یہ جتنی بھی ہارر موویز ہوتی ہیں ان میں جو ساونڈ ایفکٹس ہوتے ہیں۔ جیسی جیسی صورتیں شکلیں سائے دکھائے جاتے ہیں ۔ یہ سب ہی فلم کی کہانی لکھنے والے نے ان کے تاثرات سے اخذ کیا ہوا ہوتا ہے جو ان مراحل سے گزرے ہوتے ہیں
ڈر اور خوف سے کوئی آزاد نہیں ۔ ڈر و خوف ہمیشہ ہی جاندار کو اپنی گرفت میں رکھتے ہیں کہ یہ ان کی بقاء کے لئے لازم ۔
مجھے بھی ڈر لگا خوف نے مجھے بھی اسیر کیا اور جب جان پر بنی تو جان بچانے کے لیئے جیسے ہی دفاع کو چھوڑ حملے کی سوچی ۔ ڈر و خوف ختم ہوگیا ۔ ڈر ہو یا خوف جب اپنی حد سے بڑھتا ہے تو یہ سوچ پیدا کر دیتا ہے کہ جو ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا کچھ تو کوشش کر تو بچنے کی ۔ اور یہ کوشش کا جاگنا ڈر و خوف بھلا دیتا ہے ۔ بلی کو شیر سے لڑا دیتا ہے ۔۔۔۔۔
فرق صرف اور صرف احساس کا ہے باقی دونوں ہی غیر مرئی ہوتے ہیں ۔
جنات بلا شک اللہ سوہنے کی ہی مخلوق ہیں اور میرے ذاتی خیال میں اکثر جنات ہم انسانوں سے زیادہ سنجیدہ، رحم دل، ہمدرد، ایثار پیشہ اور غم خوار ہوتے ہیں۔ جنات کے بارے میں انسانوں پر قابض ہوتے ان کو ستانے کی جتنی کہانیاں مشہور ہیں ان میں کچھ سچائی نہیں ۔ انسانی دماغ جب ان کہانیوں کے زیر اثر آ جاتا ہے تو وہم کا شکار ہوجاتا ہے ۔ جس قدر وہم زیادہ اور شک پختہ ہوتا ہے اتنا ہی دماغی اعصابی تحریکات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اور جن کا احساس وجدان پر مجسم ہوتے انسان کو دیوانہ بنا دیتا ہے ۔ اور یہ حقیقت اپنی جگہ کہ انسان ہو حیوان ہو یا کہ جن جیسے ہی اپنے آپ کو خطرے میں پاتا ہے اپنے دفاع کے لیئے حملے میں پہل کر دیتا ہے ۔ کچھ انسان جنات کی جانب سے اس دفاع حملے کے بھی شکار ہوجاتے ہیں ۔ یا پھر دوسری صورت میں قصدا ستائے جانے پر بطور انتقام کسی انسان پر قابض ہوجاتے ہیں ۔
ضد اور حق کو اک ساتھ خلط ملط کرنے پر یہی ہوا بس کہ " نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم "
گم کردہ راہ مسافر کی صورت گزر گئی زندگی مجھے گزارتے ہوئے ۔ اور یہ بلاشک کرم اللہ کا کہ پاگل دیوانہ نہ ہوا میں ۔
چھلاوہ اک ایسی مخلوق جو اک جگہ ٹک کر نہ رہ سکے ابھی سامنے ابھی پیچھے ابھی دائیں ابھی بائیں ابھی یہاں ابھی وہاں پارہ صفت ۔
اک حسین خوبصورت شکل و صورت عورت جس کے پاؤں کے پنجے پچھلی جانب ہوں ہاتھوں کی انگلیاں لمبی اور ناخن مڑے ہوئے ہوں ۔
شتونگڑے ؟ شاید چھلیڈے چھوٹے چھوٹے بونے جو بہت شرارتی اور انسانوں کو تنگ کرتے ہیں ویرانوں میں ۔ممکن ہے کہ جنات کا ہی کوئی قبیلہ ہو ۔
میری محترم بٹیا جس تن بیتی وہ تن جانے ۔۔۔۔۔۔۔ انسان جو کچھ محسوس کرتا ہے اسے بعینہ اسی صورت بیان کرنا اک نا ممکن امر ہے ۔ یہ کہانیاں بیان نہیں کی جا سکتیں ۔ کچھ حد تک ہی اجازت ہے ۔جیسے اک پاؤں تو آسانی سے اٹھا لیتے ہیں دوسرا اٹھانے کی کوشش کریں تو گر کر چوٹ لگوا لیتے ہیں ۔ کچھ کہانیاں ان کہی ہی رہیں تو فساد کی راہ بند رہتی ہے ۔
یقین ہمیشہ اک ہی صورت دکھاتا ہے ۔ وہم پل پل روپ بدلتا ہے ۔ یہی فرق کر سکتے ہیں ہم ۔
آپ کے سوالوں کے جواب کی بورڈ پر رواں انگلیوں کو بہت محتاط رہنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کوئی جواب " دار " تک ہی نہ پہنچا دے ۔ مجرم ہی نہ بنا دے ۔۔
بہت دعائیں

 



انٹریو ود سید نایاب حسین شاہ نقوی -- 9

0 تبصرے


انٹریو ود سید نایاب حسین شاہ نقوی -- 9 

 ” بولو بولو بولو جئے شاہ”

سخی سید بلاول شاہ نورانی المعروف جئے شاہ
شاہ جی آپ نے ان کا ذکر خیر کرہی دیا تو میں بھی بتاتا چلوں کچھ ، گوکہ اب میں مادیت پر زیادہ رکھتا ہوں حتیٰ کہ یقین بھی مادی شکل میں ہی آئے تو مانتا ہوں پر جوانی کے چند تجربات شیئر کرتا ہوں آپ سے ۔۔
میری پیدائش تو پنجاب کی ہے پر پلا بڑھا میں کراچی میں ، میرے کچھ سیانا ہونے پر ( 22،23) سال کی عمر تھی میری جب والد صاحب نے نوکری کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنے کا ارادہ کیا اور اندرون سندھ چند ایکڑ پر بنا پان کے پتے کا فارم ٹھیکے پر لیا ۔
اہلیان کراچی جانتے ہوں گے کہ پان کی منڈی کراچی میں لیمارکیٹ اور مراد میمن گوٹھ میں ہے ، تو میں اپنے فارم کا مال مہینے میں ایک بار لیمارکیٹ دیتا تھا ورنہ میمن گوٹھ دیتا تھا کیوں کہ وہ مجھے قریب پڑتا تھا ۔
ہوا یوں کہ ایک دن میں کچھ پیسوں کی ریکوری کرکے گھر واپس جانے کیلئے بس کے انتظار میں تھا تو وہاں ایک بندہ لمبی سی بس کے پاس کھڑا شاہ نورانی شاہ نورانی کی آوازیں لگا رہا تھا ، میں جیب تھپ تھپائی تو پیسوں کی گرمی نے کہا کہ چل پر سیر ہوجائے ۔ موبائل اس زمانے میں امراء پاس ہوتا تھا سو قریبی پی سی او سے گھر فون کرکے چھوٹے بھائی کو اطلاع دی کہ امی کو تب بتانا جب وہ پوچھیں اور بس میں بیٹھ گیا اوائل نومبر تھا تو ایک گرم چادر خریدلی تین چار پیکٹ سگریٹ کے لیئے پانی کی بوتل لی اور سوار ہوگیا بس میں ۔
بس یہ ایکسائٹمنٹ تھی کہ نئی جگہ دیکھی جائے اور ہمارے ننھیال میں اکثر چکر لگانے والے ایک درویش بابا اللہ رکھا سے ملا جائے ۔ خیر جی بس چلی اور منگھوپیر دربار کے پاس سے ہوتی ہوئی پکی سڑک پر آگے جاکر اچانک ہی کچے راستے پر مڑگئی ۔ یوں ایک دم راستہ نیا ہوگیا ۔
خیر بس میں سیٹوں پر اناج اور سبزی کی بوریاں تھی اور ان بوریوں پہ ہم بیٹھے تھے ۔ چرس دھڑادھڑ پی جارہی تھی اور ہر تھوڑی دیر کوئی نہ کوئی نعرہ مار دیتا تھا کہ بولو بولو بولو جئے شاہ ، اور سب مرد و زن ہم آواز جواب دیتے تھےکہ جبل بہ شاہ ۔
کراچی سے اس وقت تقریباً چھہ گھنٹے لگتے تھے شاہ نورانی پہنچنے پر راستے میں ناگن چڑھائی نامی بدنام زمانہ سڑک کا حصہ بھی دیکھا جہاں اکثر و بیشتر جان لیوا حادثات ہوتے رہتے ہیں ۔۔ خیر اللہ اللہ کرکے شاہ نورانی پہنچے جہاں بس سے اتارے وہاں سامنے کسی محبت فقیر نامی ہستی کا مرقد تھا ۔ معلوم پڑا کہ پہلے یہاں حاضری اور پھر کیکڑے (پرانے زمانے کی ٹرک نما سواری جو ریگستان و پہاڑی علاقوں یکساں کارآمد ہے) میں سوار ہوکر شاہ نورانی کے مرقد پر جانا ہوگا ۔ مرتے کیا نہ کرتے حاضری دی کیکڑے میں سوار ہوئے اور چند لمحوں میں وہاں پہنچ گئے ۔
شاہ نورانی کا علاقہ بنجر بیاباں خشک سیاہ پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے جہاں دن کو سورج آگ برساتا ہے اور رات کو پہاڑ گرمی خارج کرتے ہیں پر میں چونکہ نومبر میں گیا تھا تو کافی زیادہ ٹھنڈ ہوگئی تھی ۔
خیر جی وہاں رونق ہی الگ تھی بجلی وہاں ہے نہیں تو ڈیزل جنریٹرز کی ڈھگ ڈھگ نے شور مچایا ہوا تھا ۔ ساتھ میں ہوٹلوں پر لکڑی کی آگ پر بنتے کھانوں کی مہک اور گیلی لکڑی کے دھوئیں نے آنکھوں کو خوب سزا دی پر شہر سے دور یہ ماحول بہت اچھا لگا ۔ اتنے میں ایک بندے نے آکر اعلیٰ کوالٹی کی چرس کی آفر کی تو میں نے کہا کہ بھائی میں مکہ سے تو آیا نہیں پر اتنا بھی بے عقل و شعور نہیں کہ جگہ جن سے منسوب ہے ان کا احترام نہ کروں تو وہ مجھے پاگل سمجھنے والی نظر سے دیکھتا ہوا چلا گیا ۔ خیر سب سے پہلے پیٹ پوجا کی پھر لکڑی کی آگ پہ بنی چائے کے دو تین کپ پیئے پھر صاحب کے مرقد پہ حاضری دی فاتحہ پڑھی اور ملحقہ مسجد کے صحن میں آکر چاروں طرف دیکھنے لگا ۔
مجھے دراصل قدرت کی آواز سننے کا اسے محسوس کرنے کا شوق تھا اور مجھے لگتا بھی تھا میں ایسا کرسکتا ہوں ۔
اور وہاں قدرت وافر میسر تھی اونچے اونچے کالے ہیبت ناک پہاڑ ان سے اوپر انتہائی صاف شفاف تاروں بھرا آسمان ایسا لگتا تھا جیسے یہ تارے آپ کے اوپر چھارہے ہوں نزدیک آتے جارہے ہوں ۔ خیر اتنے میں ٹھنڈ چادر کی برداشت سے بھی باہر ہوگئی اور نیند نے بھی کہا میں آگئی ہوں مجھ سے ملو ۔
سوچا کسی سے مدد لی جائے کیوں کہ وہاں بہت لوگ تھے فیملیز تھیں ان سے کوئی بستر چادر مانگنے کا ارادہ کیا تھا کہ ایک بندے نے کہا بھائی سردی اور بڑھ جائے گی جاؤ ہوٹل سے بستر کرائے پر لو اور کہیں بچھاکر سوجاؤ یہ سنتے ہی ہوٹل کی جانب بھاگا پہلے بستر کرائے پر لیا جو مختلف اقسام کی بدبوؤں اور خوشبوؤں کے امتزاج کامرکز تھا اسے قبضہ میں کرکے پھر چائے پی اور پھر جگہ کی تلاش میں نکلا کوشش تھی کہ کسی ہوٹل کے چھپر تلے جگہ مل جائے تاکہ سردی سے بچ سکوں پر وہاں پہلے ہی نشئی حضرات کا قبضہ ہوچکا تھا ۔
پھر مسجد کی طرف نکلا تو وہاں اندر کیا باہر صحن میں بھی جگہ نہ تھی اتنے میں مسجد کے صحن سے ملحق چھوٹے سے قبرستان پر نظر پڑی تو دیکھا وہاں قبروں کے درمیان جگہوں پر بھی لوگ بستر بچھا سوئے ہوئے تھے لہذا ڈرتے ڈرتے میں نے بھی دو قبور کے درمیان جگہ ڈھونڈی اور جو منہ میں آیا پڑھتے ہوئے سونے کیلئے لیٹ گیا اور یقین کیجیئے بہت سکون کی نیند آئے مردے بالکل تنگ نہیں کرتے نا خراٹے لیتے ہیں نا کروٹ لیتے ہیں بالکل خاموشی اور سکون سے سونے دیتے ہیں ۔
اب آتا ہوں اس بات کی طرف جو مجھے آج بھی Fantasies کرتی ہے ۔وہ یہ کہ صبح صادق کا وقت تھا اندھیرا اجالا آپس میں باہم پیوست تھے اور ایک دوسرے سے الوداعی معانقہ کررہے تھے ۔ بڑا افسانوی سا ماحول تھا اچانک ہی میری آنکھ کھل گئی جیسے انتہائی خاموشی نے مجھے سرگوشی کرکے جگادیا ایک بار تو مجھے لگا جیسے خواب سا ہے کیونکہ میں کبھی کھلے آسمان تلے نہیں سویا اور یہاں تو کھلے آسمان تلے دو قبور کے درمیان تیسرا مردہ میں تھا جو کہ قبر سے باہر تھا ۔
خیر میں چت لیٹا آسمان کو گھور رہا تھا کہ اچانک ہی قریب کہیں کوئی جنگلی مور بولنا شروع ہوا اور اس قدر گہری خاموشی میں اس آواز نے سب کچھ ڈھانپ لیا اور صرف قدرت کی آواز پہاڑوں میں گونجتی رہی کچھ دیر تک بولنے کے بعد وہ پھڑپھڑاتا ہوا کہیں پہاڑوں میں غائب ہوگیا اور پھر سکوت طاری ہوگیا ۔
اتنے میں مسجد کے اسپیکر میں پہلے کھڑکھڑاہٹ ہوئی اور چند لمحوں بعد پہلے مؤذن نے درود سلام پڑھا پھر اذان دی ، سچی بات یہ ہے کہ اس اذان کا فسوں بھی نہیں بھولنے والا خیر میں لیٹا رہا قدرت کو محسوس کرتا رہا ۔ وہ صوفی حضرات کیا کہتے ہیں کہ ایک نماز مسجد میں ہورہی تھی وہیں ایک اور نماز کہیں اندر باطن میں ہورہی تھی
اور پھر جب کسی نعت خواں نے سندھی میں بہت خوبصورت طرز پہ نعت پڑھی تو میں بے اختیار اٹھ کر بیٹھ گیا اور جیسے نشئی حالت نشے میں ڈوبتا ابھرتا ہے ویسی حالت ہوگئی ۔
کچھ دیر بعد تیز چبھنے والی دھوپ نکلی تو اٹھنا پڑا ۔
بستر سمیٹا ہوٹل والے کو واپس کیا پھر مسجد جاکر وضوخانے سے منہ ہاتھ دھویا یخ ٹھنڈے پانی سے اور ہوٹل آکر انڈہ پراٹھا اور چائے کا ناشتہ کیا پھر سگریٹ سلگاکر سوچا کہ واپسی کی جائے اتنے میں یاد آیا کہ بابا اللہ رکھا سے ملنا ہے جو لاہوت لامکاں نامی مقام پر جاتے ہوئے کہیں مل جائیں گے جن کے ذمے وہاں سیمنٹ کی سیڑھیاں بنوانا تھا کیونکہ لاہوت لامکاں جاتے ہوئے سات پہاڑ کراس کرنے ہوتے ہیں اور راستہ بلاشبہ کافی خطرناک تھا خیر جی اٹھا اور ہولیا لاہوتیوں کے راستے پر اور دن کی روشنی میں وہاں کا قدرتی حسن دیکھا ۔
اونچے کالے پہاڑوں کے بیچ ایک چھوٹی بستی ، کسی ہستی کا مزار ، مسجد ، چھوٹے بڑے چھپر ہوٹل ، مزار کے پیچھے کی طرف ایک احاطہ جہاں بڑا سا الاؤ روشن ہوتا ہے وہیں پر جو عجیب بات مجھے لگی وہ یہ سیڑھیاں اوپر کی طرف جارہی تھیں اور ایسی سیڑھیاں بنانا کوئی انسانی کام نہیں لگ رہا تھا اور اگر انسانی تھا بھی تو کام نہیں کارنامہ ہی تھا خیر وہاں سے کچھ اوپر ایک غار تھا جہاں بقول بیان کردہ قصے کے مطابق کسی گوکل نامی دیو کو صاحب مزار نے پریوں کو تنگ کرنے کی پاداش میں بند کیا ہوا تھا میں وہاں گیا اور غار کے سامنے موجود پتھر پہ کان رکھا تو رونگھٹے کھڑے ہوگئے اور تمام حسیات ایک جگہ سمٹ آئیں ( یہ دراصل اس بارے سنے ہوئے قصے کی وجہ سے ہوا تھا )
واپس آتا ہوں بابا اللہ رکھا سے ملاقات پہ تو لاہوتیوں کے رستے پہ ہولیا پہلے پہاڑ پر موجود راستے پہ قدم رکھا اور کچھ دیر چلنے کے بعد پتہ چلا کہ بھائی یہ لاہوتی راستہ تو ہرگز نہیں کوئی چھوٹا موٹا پل صراط قسم کا ہے اور وہاں بلوچی کھیڑی پہننے کا فائدہ بھی پتہ چلا کہ ٹائر سول کی بھاری چپل کتنی کارآمد ہے پہاڑوں پہ ۔ تو میں چلتا رہا پسینہ نکلتا رہا حتیٰ کہ کندھوں پہ موجود چادر ، تن کے کپڑے اور خود اپنا آپ بوجھ محسوس ہونے لگا تھکن سے اور راستہ تھا کہ ختم نہیں ہورہا تھا اور بابا اللہ رکھا مل نہیں رہا تھا کہ خیال آیا کسی درویش یا مست سے ہی پوچھ لوں شاید پتہ مل جائے تو کافی دیر بعد ایک ملنگ ملا اس سے ڈرتے ڈرتے پوچھا تو فوراً کہنے کہ وہ لمبا سا پنجابی ہرے کپڑے پہنتا ہے ننگے پاؤں پھرتا ہے ، یہ سن جو خوشی ہوئی وہ بیان سے باہر ہے کہ چلو بابا اللہ رکھا کے پاس بیٹھ کر چائے پیوں گا کھانا کھاؤں گا اور پھر واپس ۔
میں نے فوراً اقرار میں سر ہلا دیا تو اس نے کہا کہ بس تھوڑا آگے ہی بیٹھا ہوا ہوگا (وہ تھوڑا آگے آدھے سے کچھ ہی کم تھا) خیر جی میں پہنچ بابا اللہ رکھا کے پاس پہلے تو وہ مجھے دیکھ کر ایک دم حیران ہوا بہت زیادہ (اس کے آگے بیان کرنا معیوب لگ رہا ہے کہ اس نے احترام میں کیا حرکات کیں کیونکہ وہ میرے نانا ابو کا معتقد تھا)
خیر میں نے کہا کہ بابا بھوکا مررہاہوں استقبال ہوگیا ہو تو کچھ کھلاؤ جلدی سے اسنے فوراً کسی مزدور کو آواز دی اور کھانے کاکہا اور بے حد لذیذ سبزی اور روٹیاں پانچ منٹ میں آگئیں اتنے میں اسنے جھونپڑی کے کونے میں موجود چولہے پر چائے بنائی پھر یہاں وہاں کی باتیں کرتے کافی وقت ہوگیا تو میں نے کہا بابا اب میں واپس جاتا ہوں تو اس نے کہا کہ یہاں تک آگئے ہو تو لاہوت بھی دیکھ لیتے بلکہ وہاں رات گزارتے ہیں اور نایاب شاہ جی آپ کو پتہ ہوگا کہ وہاں شام کو پانچ بجے کے بعد کسی کو رکنے نہیں دیتے ۔۔
وہاں کیا ہوا کیسی رات گزری کیا تجربہ رہا اسے رہنے دیتے ہیں کیوں کہ میں لکھ لکھ کر تھک گیا ہوں یہ اتنی لمبی کہانی بھی نایاب شاہ جی نے جب شاہ نورانی کا ذکر کیا تو دل کیا کہ بیان کروں ۔۔

میرے محترم بھائی
جب بھی کوئی عامل کسی خاص مقصد کے لئے یا پھر کسی بھٹکتی روح موکل اور ہندوانہ کالی طاقتوں کو بس میں کرنے کے لیئے اپنے بہترین علم کے مطابق کسی رہنما سےملنے والی معلومات کےبل پر اپنے ارد گرد کوئی مخصوص حصار بناتےکچھ خاص الفاظ کے جاپ یا ذکر میں میں مصروف ہوتے ناری چلہ کر رہا ہوتا ہے تو اس کی تمام حسیات اک نارمل انسان سے کہیں زیادہ بیدار ہوتی ہیں ۔ چونکہ وہ اپنا عمل اپنے پورے یقین سے انجام دے رہا ہوتا ہے تو اس عمل کے دوران پیش آنے والے حالات و واقعات بھی چونکہ اس کے علم میں ہوتے ہیں اس لیئے اس کا وہم گمان خیال ممکنہ پیش آنے والے واقعات بارے اپنے جال بن رہا ہوتا ہے ۔ مجھے بھی ایسے اعمال کا شوق رہا ہے ۔ میں نے بھی کچھ راتیں قبرستانوں شمشان گھاٹوں میں گزاری ہیں ۔ میں نے انتہائی خوبصورت مسحور کر دینے والے حسن کی مالک عورت بھی دیکھی ہے جس کے پاؤں کی ایڑی سامنے اور پنجہ پچھلی جانب ہوتا ہے ۔ میں نے بھیانک آوازیں سنی ہیں ۔ میں نے ہوا میں آگ کو جلتے اڑتے دیکھا ہے ۔ میں نے بونوں کو زمین سے نکلتے انسان کا کچا گوشت کھاتے دیکھا ہے ۔ میں نے عجیب الخلقت جثے کی حامل ہیولے دیکھے ہیں ۔ میں نے لوگوں کو اپنے کٹے سر اپنے ہاتھوں میں اٹھائے دیکھا ہے ۔ میں نےجنات کے ہاں دعوت کھائی ہے ۔ بن موسم کے پھل بھی عام رہے ۔ یہ صرف اور صرف میرا مشاہدہ ہے ۔ میری حد تک یہ سچ ہے ۔ لیکن کسی دوسرے کو سنانا صرف اک مذاق ہے ۔میں انہیں کبھی بھی ثابت نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ سننے والا اسے صرف میری حسیات کا دھوکہ مانے گا ۔ میں ان اعمال میں کامیاب کیوں نہ ہوا ؟ میں کوئی پراسرار طاقت کیوں نہ حاصل کر سکا ؟ اس کی صرف اک ہی وجہ ہے کہ آیت الکرسی کا ذکر ہر پل میرے ساتھ رہا زبان پر کوئی بھی لفظ رہا مگر دل اسی میں مصروف رہا ۔سو اللہ سوہنے نے مہربانی فرمائی اور مجھے اس گندگی سے نکالتا رہا ۔ اور بلاشک یہ میرے رب کی مہربانی کہ مجھ سے بڑی میری بہن نے مجھ میں اس کی قوت و طاقت بارے بچپن میں جو بتاتے مجھ میں یقین بھرا وہ گویا پتھر کی لکیر جیسا یقین جو کبھی بھی نہ مٹ پایا ۔
اب چونکہ مافوق فطرت یا فوق الفطرت یا فوق طبعی مشاہدہ وہ ہوتا ہے جو کہ علت اور معلول کے قانون سے آزاد ہوتا ہے ۔ اور عامل کی حسیات ہوا کے باعث کسی پتے کی ہلنے کی آواز کو بھی اسے ممکنہ پیش آنے والے واقعے سے جوڑ دیتی ہیں ۔اب جتنا گندا اور پیچیدہ عمل اور جاپ ہو گا جیسے کہ ہنومان ۔کھیترپال ۔بھیرو۔ ناگ دیوتا ۔ لوناچماڑی ۔ لکشمی دیوی ۔ کالا کلوا ، پاروتی دیوی ۔ ہر بھنگ آکھپا جیسی ہندو مذہب سے منسوب بلاؤں کو قابو کرنا ۔یاد رہے ہندو مذہب میں بھوت پریت اور ان جیسی 80ہزار سے زائد مخلوق کا ذکر پایا جاتا ہے ۔ اتنے ہی اس عمل کے دوران پیش آنے والے ممکنہ واقعات اور مشاہدات ہو سکتے ہیں ۔ اور عامل کو اس کی رہنما کی جانب سے یہ تاکید ہوتی ہے کہ جو بھی جیسا بھی دکھائی سنائی دے اسے فراموش کرتے اپنی توجہ صرف جاپ پر رکھنا ہے ۔ اگر جاپ سے توجہ ہٹی یا ڈر کر بھاگے تو جان یا عقل یا حواس گنوا بیٹھو گے ۔ صبح کاذب سے پہلے حصار سے نکلے تو نقصان ہوگا ۔
اب ذرا سوچیں چاند کے بنا کالی تاریک رات ہو کوئی پرانا قبرستان ہو جس میں مردوں کی ہڈیاں اپنی چمک سے جھلملا رہی ہوں ۔ یا پھر کوئی شمشان گھاٹ ہو جہاں کی فضاء مردوں کے جلائے جانے کی ناگوار بو سے بھیانک تاثر پیدا کر رہی ہو ۔ وہاں کوئی عامل اپنی حسیات کے انتہائی بیدار ہونے پر کیا کچھ نہ دیکھے گا ۔ اس کی فریب حس کیا کیا مناظر اسے نہ دکھائے گی ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ چاہے یہ تمام مخلوق ماننے والوں کے یقین پر مبنی اپنی جگہ اک سچ ہے ۔ اور اس کے عامل ہونے کے دعویدار بھی مل جاتے ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک یہ صرف عامل کی انتہائی بیدار حسیات کے باعث صرف اک دھوکہ ہوتا ہے جو اس کے وہم گمان پر مبنی ہوتا ہے ۔ قدرت بہت عجیب طرح کام کرتی ہے ۔ جسے جو چاہت ہوتی ہے اسے ویسا ہی بنا دکھاتی ہے ۔ جس کا جس پر جتنا پختہ یقین اتنا اسے مل ہیجاتا ہے ۔ کوئی ہوا میں اڑ لیتا ہے ۔ کوئی اپنی جوتیاں ہوا میں اڑا دیتا ہے ۔
مافوق الفطرت تجربات اور مشاہدات کے دو ذرائع پائے جاتے ہیں اک کو نوری وظیفہ کہتے ہیں اک کو ناری چلہ ۔
نوری وظیفے کی پہلی شرط پاک صاف خوشبودار مقام کا انتخاب ہے ۔ جہاں کا ماحول سفیدی کا حامل ہو ۔ اور ناری چلے کے لیئے پہلی شرط ایسا مقام ہے جو گندا تاریک ویران بدبودار ہو ۔ اب جو بھی عامل نوری وظیفہ کرے گا اس کو جو مشاہدات تجربات ہوں گے وہ انتہائی سکون بخش اور طبیعت کو شاداں و فرحاں کرنے والے ہوں گے ۔ جبکہ ناری چلہ کرنے والے کے مشاہدات و تجربات ان کے بالکل بر عکس ہوں گے ۔ دونوں کے مشاہدات و تجربات میں اک شئے مشترک ہو گی ۔ دوران عمل پیش آنے والے ممکنہ حالات و واقعات جو کہ رہنما جہاں سے عمل کا طریقہ ملا ہوتا ہے ۔ نوری وظائف میں ایسے اعمال جو کہ قضاء و قدر میں دخل دینے کی خواہش سے کیئے جاتے ہیں ان کی شرائط اور مشاہدات و تجربات ناری چلے جیسے ہی ہوتے ہیں ۔ اور کیا شک کہ نور کے متلاشی کو نور ہی ملتا ہے ۔
انسان کی فطرت میں اک تجسس اک کھوج کا مادہ شامل ہےاسی تجسس اور جستجو کا نتیجہ ہے کہ وہ ایک جگہ نہیں بیٹھنا چاہتا ہے۔ قدرت کے ہر راز کو خود پر افشا کرنا خود کو ہر بھیدکی تہہ تک پہنچانا خواہ جنت میں کھائے جانے والے پھل کا ذائقہ محسوس کرنا یا پھر پوٹاشیم سائنایڈ کا مزہ چکھنا ۔ اب اس عمل کے دوران اسے کیا مشاہدہ ہوا ؟ کس تجربے سے کیسے گزرا ؟ اس کے لیئے بس نطق کے سہارے یہ کوشش کی جا سکتی ہے کہ کسی دوسرے کو اپنے احساس میں شریک کیا جائے ۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ اس کو اپنی کیفیت یا مشاہدے کی سچائی پر ویسا ہی یقین دلا یا جاسکے جیسا کہ خود کا ہوتا ہے ۔
کیسی عجب بات کہ یہ سب مخلوق اک ہی خالق کی خلق کردہ ہے لیکن اس سب مخلوق کے درمیان کی قدرتی دوری نے ان کو اک دوسرے سے خوفزدگی میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ جن انسان سے عاجز رہتے ہیں اور انساں جنوں سے ڈرتے ۔
محترم قارئین میں کوئی عامل نہیں ہوں ۔ میں نے کوئی بھی عمل پورا نہیں کیا ۔ ہمزاد کے چکر میں قریب چھ رات گزاری ہوں گی ۔باقی کبھی اک دن کبھی تین دن اور پھر دل اچاٹ اور رخ کسی اور جانب ۔ آپ مجھے ان بھٹکے ہوئے غیر مستقل مزاج مسافروں کی صف میں رکھ سکتے ہیں ۔ جو کسی سراب کو منزل جان دوچار قدم اس کی جانب چلتا ہے اور پھر کسی دوسرے سراب کو منزل بنااپنا رخ بدل لیتا ہے اور اس طرح کبھی منزل پر پہنچ ہی نہیں پاتا بچپن سے لیکر پختہ ہوتی جوانی تک میں ایسے ہی بھٹکا کبھی نوری کبھی ناری ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کچھ بھی نہ پایا سوا اس سچ کے ۔۔۔۔۔۔
اللہ نور السماوات والارض
دعاؤں کی التجا کے ہمراہ بہت دعائیں